| 84059 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
اگر دو لڑکے آپس میں محبت کرتے ہوں ، ایک دوسرے کو چاہتے ہوں ،بغیر کسی بری نیت کے ، اور اسی محبت کے دوران اگر وہ ایک دوسرے سے بوسہ لیں تو کیا اس کی گنجائش ہے ، مزید یہ کہ وہ اس حرکت سے کسی بڑے گناہ کی طرف مائل نہ ہوتے ہوں ، اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں کسی لڑکےسے محبت کرنا جائز نہیں ہے، یہ شیطان کا وار ہوتا ہے، اسی لیے مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ حسین لڑکوں کو دیکھنے سےاجتناب کریں، اور احادیثِ مبارکہ میں جا بجا نظروں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے، بلکہ شریعت میں کسی مرد سے دل بہلانا، نامحرم عورت کی بنسبت زیادہ اشد گناہ اور حرام ہے،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا: کسی امرد ( بے ریش لڑکے )پر نظر مت جماؤ۔ لہذا حسین (امرد ) لڑکوں سے محبت کرنا اور ان سے دل بہلانے کے لیے دوستی کرنا، اور تنہائی میں ان کے ساتھ بیٹھنا، اور ایک دوسرے سے بوسے لینا یہ سب ناجائز اور حرام کام ہیں ، جن میں سے کسی کی بھی شرعا اجازت نہیں، اَمرد سے عشق ومحبت کسی بری نیت کے بغیر بھی ہو تو ایک نفسانی بیماری اور شیطانی خیال ہے ،لہذا ایسے میں ایک تو فوری طور پر اس امرد سے میل جول اور تعلق بالکل ختم کرنا لازمی ہے، دوسرے کسی متبعِ سنت اللہ والے سے تعلق قائم کرکے ان کو اپنا حال سنا کراس بیماری کا علاج کرا نا لازمی ہے ۔اگر نکاح کی قدرت ہو تو اس حالت میں نکاح فرض ہے۔
حوالہ جات
عن أبي هريرة قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن یحد الرجل النظر إلى الغلام الأمرد.( میزان الاعتدال 327/4)
هو الشاب الذي طر شاربه ولم تنبت لحيته قاموس. قال في الملتقط: الغلام إذا بلغ مبلغ الرجال ولم يكن صبيحا فحكمه حكم الرجال، وإن كان صبيحا فحكمه حكم النساء، وهو عورة من فرقه إلى قدمه... أقول: وهذا شامل لمن نبت عذاره، بل بعض الفسقة يفضله على الأمرد خالي العذار... أن حرمة النظر إليه بشهوة أعظم إثما لأن خشية الفتنة به أعظم منها ولأنه لا يحل بحال، بخلاف المرأة كما قالوا في الزنى واللواطة، ولذا بالغ السلف في التنفير منهم وسموهم الأنتان لاستقذارهم شرعا.( ردالمحتار : 407/1)
يحرم النظر إلى الأمرد إذا كان حسن الصورة أمن من الفتنة أم لا، هذا هو المذهب الصحيح المختار فإنه يشتهى وصورته في الجمال كصورة المرأة بل ربما كان كثير منهم عند المحققين نص عليه الشافعي وحذاق أصحابه وذلك ; لأنه في معنى المرأة أحسن صورة من كثير من النساء بل هم بالتحريم أولى لما يتمكن في حقهم من طرق الشر ما لا يتمكن من مثله في حق المرأة اه. ومذهبنا ومذهب الجمهور أنه إنما يحرم النظر إذا كان على وجه الشهوة والذي ذكره إنما هو من باب الاحتياط في الدين فإنه من رعى حول الحمى يوشك أن يقع فيه.(مرقات المفاتیح : 2051/5)
محمد ادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
4 ٖذوالحجہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


