| 84073 | پاکی کے مسائل | نجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان |
سوال
مجھے ناپاکی کا پھیلنا سمجھ نہیں آتا، بہت سے خدشات رہتےہیں اس حوالے سے کیا درج ذیل صورتوں میں ناپاکی واقعتاً ایسی پھیلتی ہے ؟
1. ٹھوس اشیاء جیسے موبائل، چابی ، بٹوا وغیرہ کو اگر ہم عین نجاست جیسے ،پیشاب خون وغیره والا ناپاک ہاتھ لگائیں،پھر وہ اشیاء خشک ہوجائیں، پھر کبھی ہم اسے پاک ہاتھ لگائیں ۔ ہاتھ خشک ہو لیکن اس پر پسینہ یاچکناہٹ ہو ، کیا ہمارے ہاتھ ناپاک ہوجائیں گے؟
2. اگر ہاتھ عین نجاست سے گیلے نہ ہوں، بلکہ ناپاک پانی سے )جس پانی میں ناپاکی ملی ہو، جیسے استنجاء کے مستعمل پانی کی چھینٹیں) گیلے ہوں ، اب اگر وہ گیلا ہاتھ ٹھوس اشیاء جیسے موبائل ، ٹیبل ، لیپ ٹاپ وغیرہ کو لگائے، تو کیا وہ اشیاء ناپاک ہوجائیں گی؟
3. دوسرے سوال کے مطابق اگر آپکا جواب ہاں ہے، کہ ہاں وہ اشیاء ناپاک ہوجائیں گے۔ تو اب اگر میں ان اشیاء کو پاک گیلا ہاتھ وضو کے بعد لگاتا ہوں تو کیا میرا ہاتھ ناپاک ہوگا؟
4. اور اگر وہ اشیاء)موبائل، ہیڈفون وغیرہ (ناپاک ہیں ، تو اب پاک کیسے کروں؟ کیونکہ اشیاء پر تو نجاست کا اثر ویسے محسوس نہیں ہوگا، جیسے عین نجاست کے رنگ ، ذائقہ کا ہوتا ہے، کیونکہ اگرچہ وہ ناپاک پانی ہی سہی ، لیکن ایسے واضح طور پر اور زیادہ غور سے نہ دیکھنے پر اسکا اثر محسوس نہیں ہوتا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1. مذکورہ بالا ناپاک چیزوں پر پاک ہاتھ لگنے سے اگر اس نجاست کا اثر ( رنگ ، بو، ذائقہ ) ہاتھوں پر ظاہر ہو تو اس صورت میں ہاتھ ناپاک ہوں گے ، ورنہ نہیں ۔
2. ناپاک گیلا ہاتھ موبائل ٹیبل لیپ ٹاپ وغیرہ کو لگانے سے وہ اس وقت تک ناپاک نہیں ہوں گے جب تک ان پر نجاست کا کوئی اثر ( رنگ ، بو، ذائقہ ) ظاہر نہ ہو ، اور اگر موبائل وغیرہ پر نجاست کا اثر ظاہر ہو جائے تو پھر وہ ناپاک ہوں گے۔
3. مذکورہ اشیاء پر اگر نجاست کا کوئی اثر ظاہر ہوجائے تو ان پر پاک گیلا ہاتھ لگانے سے ہاتھ ناپاک ہوجائیں گے ، اور اگر ان اشیاء پر نجاست کا کوئی اثر ظاہر نہ ہو توان پر ہاتھ لگانے سے ہاتھ ناپاک نہیں ہوں گے ۔
4. اگرمذکورہ اشیاء کسی نجاست کے لگنے سے ناپاک ہو جائیں تو ان کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کا وہ حصہ جو دھونے سے خراب نہیں ہوتا اسے تین دفعہ دھو لیا جائے اور جو حصہ پانی لگنے سے خراب ہوتا ہے اس کو تین دفعہ گیلے کپڑے سے صاف کر لیا جائے، یا پیٹرول اور مٹی کے تیل سے صاف کرکے سکھادیا جائے۔
حوالہ جات
قوله: مشى في حمام ونحوه) أي: كما لو مشى على ألواح مشرعة بعد مشي من برجله قذر لايحكم بنجاسة رجله ما لم يعلم أنه وضع رجله على موضعه؛ للضرورة، فتح. وفيه عن التنجيس: مشى في طين أو أصابه ولم يغسله وصلى تجزيه ما لم يكن فيه أثر النجاسة؛ لأنه المانع، إلا أن يحتاط، وأما في الحكم فلايجب.( الدرالمختار : 350/1 )
و لو ابتل فراش أو تراب نجساوكان ابتلالهما من عرق نائم عليهما أو كان من بلل قدم وظهر أثر النجاسة وهو طعم أو لون أو ريح في البدن والقدم تنجسا لوجودها بالأثر وإلا أي وإن لم يظهر أثرها فيهما فلاينجسان.(حاشية الطحطاوی على مراقي الفلاح:158)
(و) البداءة (بغسل اليدين) الطاهرتين ثلاثا قبل الاستنجاء وبعده. قوله: قبل الاستنجاء وبعده) قال في النهر: ولا خفاء أن الابتداء كما يطلق على الحقيقي يطلق على الإضافي أيضا، وهما سنتان لا واحدة.(ردالمحتار:110/1)
ثم الأصح أنه يغسلهما قبل الاستنجاء وبعده، ولا خفاء أن الابتداء كما يطلق على الحقيقي يطلق على الإضافي أيضا، وهما سنتان لا واحدة، سند الأولى ما رواه الجماعة من حديث ميمونة في صفة غسله صلى الله عليه وسلم وأنه غسل يديه قبل الاستنجاء، والثاني: أن جميع من حكى وضوءه صلى الله عليه وسلم قدم غسل اليدين.(النھرالفائق:37/1)
إذا وقع على الحديد الصقيل الغير الخشن كالسيف والسكين والمرآة ونحوها نجاسة من غير أن يموه بها فكما يطهر بالغسل يطهر بالمسح بخرقة طاهرة هكذا في المحيط ولا فرق بين الرطب واليابس ولا بين ما له جرم وما لا جرم له.(الفتاوى الهندية: 1 / 98)
محمد ادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
5 ٖذوالحجہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


