| 84071 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
میری اہلیہ نے 2014 میں بھی خلع اور خرچہ دینے کا کیس دائر کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ 2004ءسے 2014ء تک کے تمام اخراجات بقایا جات کی شکل میں دیں، جبکہ ان کو خرچہ بینک کے ذریعے مستقل مل رہا تھا،خرچہ نہ دینے کے علاوہ بھی انہوں نے شدید نوعیت کے الزکامات لگائے، جو وہ اس سے پہلے بھی ایک کیس میں لگا چکی تھی، مگر کچھ عرصے بعد خود ہی واپس آگئی اور کہا کہ انہیں یہ جھوٹا کیس نہیں کرنا تھا اور سارے جھوٹے الزامات وکیل کے ذمے ڈال دیے کہ یہ اس وکیل نے خود سے جھوٹا کیس بنایا تھا، حالانکہ یہ خود اردو اور انگریزی دونوں زبانوں پر مکمل عبور رکھتی ہیں اور اس کیس میں گواہ ان کے اپنے بھائی تھے، جو کہ خود بھی اعلی تعلیم یافتہ ہیں، ان کے یہ گھر چھوڑ چھوڑ کر جانے کا سلسلہ اس کے بعد بھی جاری رہا ان کے اس رویے اور اپنی حرکتوں پر نادم نہ ہونے کی وجہ سے گھر کا ماحول خراب رہتا تھا، مگر تین بیٹیوں کا باپ ہونے کی وجہ سے میں ہر بار ضبط کا مظاہرہ کرتا رہا، کیونکہ مجھے کوئی اور راستہ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا،2021ء میں چوتھی بیٹی کی پیدائش کے چار ماہ بعد ایک بار پھر یہ چاروں بیٹیوں کو لے کر اپنے گھر چلی گئی اور وہاں سے طلاق کا مطالبہ کیا اس مطالبے پر میں نے ان سے کہا کہ شریعت کے مطابق نو سال سے بڑی بیٹیاں میرے حوالے کر دیں تو آپ کا مطالبہ پورا کر دیا جائے گا، اس بات پر انہوں نے کہا کہ میں انہیں عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور کر رہا ہوں، میں نے انہیں ان کی مرضی پر چھوڑا ،مگر ساتھ ہی اپنی رائے بھی دی کہ فیصلہ امام مسجد سے کروایا جا سکتا ہے، مگر انہوں نے خلع کا کیس کر دیا میں عدالت میں اس لیے نہیں گیا کہ میرے نہ جانے سے بھی انہیں علیحدگی کی قانونی دستاویز مل جائے گی اور ان کا راستہ بھی کھلا رہے گا، تاکہ اگر کبھی مستقبل میں انہیں اپنے فیصلے پر پشیمانی ہو تو وہ واپس آ سکے اور بچیوں کو ایک مکمل گھر مل سکے اور ساتھ ہی ساتھ دل میں یہ پکا ارادہ کر لیا کہ اگر انہیں کبھی کہیں اور شادی کرنی ہوئی تو میں انہیں بخوشی طلاق دے دوں گا، تاکہ وہ اپنی زندگی اپنی خوشی سے گزار سکے، یہ فیصلہ بھی میں نے امام مسجد کے مشورے سے کیا تھا 2022ءمیں عدالت نے انہیں یکطرفہ خلع دے دی اور میں نے اس قانونی فیصلے کو تسلیم کر لیا اور ان سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھا، مگر اس سارے عرصے میں نان نفقہ دینا کبھی بند نہیں کیا اس کے باوجود بھی بچیوں کی تربیت کے تمام فیصلے ان کی مرضی سے ہوتے رہے، میری کوئی حیثیت نہیں رہی اور میں اس پر صبر کرتا رہا۔ 2023ء میں خلع کی قانونی دستاویز کو شریعت کی رو سے جائز قرار دینے کے لیے میری اہلیہ نے مدرسے سے فتوی بھی لے لیا جس کی بظاہر انہیں کوئی ضرورت نہیں تھی، اس فتوے کی ایک نقل انہوں نے2024ءمیں مجھے بھی بھیجی، اس فتوے میں لکھا تھا کہ میں نان ونفقہ نہیں دیتا اور اپنے دفاع کے لیے عدالت میں حاضر نہیں ہوا اس سے نان و نفقہ نہ دینے کا الزام ثابت ہوتا ہے اور اسی وجہ سے عدالتی خلع فسخ نکاح کی شرط کو پورا کرتی ہے اور جائز ہے اور وہ عدت پوری کرنے کے بعد کہیں بھی نکاح کر سکتی ہیں۔جبکہ اس میں اس نے غلط بیانی سے کام لیا کہ میں نان ونفقہ نہیں دیتا رہا۔ اب میں آپ سے اس سلسلے میں رہنمائی چاہتا ہوں کہ اب نان ونفقہ نہ دینے پر کیا میں گنہگار ہوں گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق چونکہ آپ نے عدالتی فیصلہ کو تسلیم کر لیا تھا اور خلع زوجین کی باہمی رضامندی سے شرعاً درست ہوتا ہے، اس لیے جب سے آپ نے اس فیصلہ پر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے اس کو تسلیم کیا تھا اسی وقت سے فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو چکا تھا، اس کے بعد خاتون کی عدت کا خرچ آپ کے ذمہ واجب تھا، عدت گزرنے کے بعد آپ پر اس خاتون کا کسی قسم کا خرچ واجب نہیں، لہذا اب آپ اس کو خرچ نہ دینے سے گناہ گار نہیں ہوں گے۔
جہاں تک بچیوں کے خرچ کا تعلق ہے تو نابالغ بچیوں کا خرچ باپ کے ذمہ واجب ہوتا ہے، اگرچہ وہ اپنی ماں کے زیرِ پرورش ہوں، کیونکہ بچیوں کے بالغ ہونے تک ماں کو پرورش کا حق حاصل ہوتا ہے، البتہ جو بچیاں بالغ ہو چکی ہیں ان کی پرورش کا حق باپ کو حاصل ہے اور باپ ان کو زبردستی بھی اپنے گھر لے جا سکتا ہے، تاکہ بچیوں کی درست تعلیم وتربیت اور ان کی عصمت وعفت کی بھی حفاظت ہو اور ایسی صورت میں ان بچیوں کا خرچ بھی باپ کے ذمہ لازم ہو گا۔ لیکن اگر یہ بچیاں از خود آپ کے پاس نہ آنا چاہیں اور ماں کے پاس رہنے میں ان کی عزت وناموس کو خطرہ ہو تو اس صورت میں آپ تنبیہ اور زجر کے لیے ان کا خرچ روک سکتے ہیں۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 291) دار احياء التراث العربي – بيروت:
" ونفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كما لا يشاركه في نفقة الزوجة " لقوله تعالى: {وعلى المولود له رزقهن} [البقرة: 233] والمولود له هو الأب " وإن كان الصغير رضيعا فليس على أمه أن ترضعه " لما بينا أن الكفاية على الأب وأجرة الرضاع كالنفقة.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 43) دار الكتب العلمية:
وأما التي للرجال فأما وقتها فما بعد الاستغناء في الغلام إلى وقت البلوغ وبعد الحيض في الجارية إذا كانت عند الأم أو الجدتين وإن كانا عند غيرهن فما بعد الاستغناء فيهما جميعا إلى وقت البلوغ لما ذكرنا من المعنى وإنما توقت هذا الحق إلى وقت بلوغ الصغير والصغيرة؛ لأن ولاية الرجال على الصغار والصغائر تزول بالبلوغ كولاية المال غير أن الغلام إذا كان غير مأمون عليه فللأب أن يضمه إلى نفسه ولا يخلي سبيله كي لا يكتسب شيئا عليه وليس عليه نفقته إلا أن يتطوع فأما إذا بلغ عاقلا واجتمع رأيه واستغنى عن الأب وهو مأمون عليه؛ فلا حق للأب في إمساكه كما ليس له أن يمنعه من ماله فيخلي سبيله فيذهب حيث شاء والجارية إن كانت ثيبا وهي غير مأمونة على نفسها لا يخلي سبيلها ويضمها إلى نفسه وإن كانت مأمونة على نفسها؛ فلا حق له فيها ويخلي سبيلها وتترك حيث أحبت وإن كانت بكرا لا يخلي سبيلها وإن كانت مأمونة على نفسها؛ لأنها مطمع لكل طامع ولم تختبر الرجال فلا يؤمن عليها الخداع.
(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الفصل الرابع في نفقة الأولاد، ج:1، ص:563)
ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة.ولا يجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد يكون عاجزا عن الكسب لزمانة، أو مرض۔
( الفتاوى الهندية، الباب السادس عشر:في الحضانة، ج:1، ص:593):
والجارية إن كانت ثيبا وغير مأمونة على نفسها لا يخلى سبيلها ويضمها إلى نفسه، وإن كانت مأمونة على نفسها فلا حق له فيها ويخلى سبيلها وتنزل حيث أحبت كذا في البدائع. وإن كانت البالغة بكرا فللأولياء حق الضم، وإن كان لا يخاف عليها الفساد إذا كانت حديثة السن وأما إذا دخلت في السن واجتمع لها رأيها وعفتها فليس للأولياء الضم ولها أن تنزل حيث أحبت لا يتخوف عليها كذا في المحيط.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
5/ذوالحجہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


