| 84072 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیا اس خاتون کا میری وراثت میں حصہ ہوگا ؟جبکہ عدالتی فیصلے کی بنیاد پر تو فسخ نکاح ہو چکا ہے اور وہ اپنے والدین کے ہاں رہائش پذیر ہے، میری بچیاں بھی اس کے پاس ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں چونکہ عدالتی فیصلہ کو تسلیم کرنے کی وجہ سے خلع شرعاً معتبر ہوا ہےاور حنفیہ کے نزدیک طلاق بائن کے حکم میں ہوتا ہے، جس سے فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو جاتا ہے، اس لیے اب اس کا آپ کی وراثت میں کسی قسم کا کوئی حق نہیں ہے، البتہ آپ کی بچیاں اپنے شرعی حصوں کے مطابق آپ کی وراثت میں حق دار ہوں گی۔
حوالہ جات
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 335) دار الكتب العلمية، بيروت:
قال علماؤنا رحمهم الله: الخلع طلاق بائن ينتقص به من عدد الطلاق، به ورد الأثر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وعن عمر وعلي وابن مسعود رضي الله عنهم.
الفتاوى الهندية (1/462) دار الفكر،بيروت:
"قال الخجندي: الرجل إذا طلق امرأته طلاقًا رجعيًّا في حال صحته أو في حال مرضه برضاها أو بغير رضاها ثم مات وهي في العدة فإنهما يتوارثان بالإجماع، وكذا إذا كانت المرأة كتابيةً أو مملوكةً وقت الطلاق فأسلمت في العدة أو أعتقت في العدة فإنها ترث، كذا في السراج الوهاج.
ولو طلقها طلاقًا بائنًا أو ثلاثًا ثم مات وهي في العدة فكذلك عندنا ترث، ولو انقضت عدتها ثم مات لم ترث، وهذا إذا طلقها من غير سؤالها، فأما إذا طلقها بسؤالها فلا ميراث لها، كذا في المحيط"
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
5/ذوالحجہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


