03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح فاسد کا حکم
84099نکاح کا بیاننکاح صحیح اور فاسد کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین کہ ایک لڑکا اور لڑکی فون پر بات کرتے تھے، گفتگو کےدوران لڑکا کہتا ہے:میں تم سے نکاح کرتا ہوں۔لڑکے نے فون پر لڑکی کو کہا کہ میں فلاں بن فلاں تم سے نکاح کرتا ہوں ، جواب میں لڑکی نے کہا  کہ ہاں!مجھے قبول ہے، دونوں طرف گواہ کوئی بھی نہیں تھا  ،دونوں فون پر میاں بیوی والی گفتگو کرتے رہے، لیکن دونوں کبھی ملے نہیں ،نہ خلوت صحیحہ ہوئی ،  نہ کبھی  جسمانی تعلق قائم ہوا ۔ بعد میں لڑکی کے گھر والوں نے اس کی  شادی کسی اور سے کر دی ، جسے ایک  سال ہو گیا ،بعد میں اسے معلوم ہوا کہ فون والا نکاح فاسد تھا ،اس میں متارکت ضروری تھی،تو اس نے شادی کے آٹھ ماہ بعد اس لڑکے کو کہا جس سے شادی سے پہلے بات کرتی تھی کہ مجھے متارکت کے الفاظ ادا کر دو تو لڑکے نے وائس میسج پر کہا کہ میں نےتمہں چھوڑا ،میں نے تم کو طلاق دی ۔تب لڑکی حیض کی حالت میں تھی ۔اب آپ رہنمائی کر دیں کہ  لڑکی کا اگلا نکاح متارکت کے بغیر جائز تھا  ؟ اور لڑکی پر عدت  لازم ہے ؟ نیز کیا لڑکی اس کے ساتھ دوبارہ  نکاح کرے جس کے ساتھ گھر والوں نے شادی کی ہے؟اگر پھر  سے کرے تو کیسے ؟ جب کہ وہ اپنے شوہر سے  اپنے کمرے میں دوبارہ ایجاب وقبول بھی کر چکی ہے،پھر  اس کے بعد بھی دوبارہ دو اجنبی لڑکوں کو گواہ بناکر لڑ کے نے لڑکی سے ایجاب وقبول کیا ہے ،اور  اب لڑکی حمل سے بھی ہے۔ برائے مہربانی رہنمائی فر ما ئیں  کہ فون پر متارکت ہو گئی تھی؟ نیز متارکت کے بعد بھی لڑکی اس سےبات کرتی رہی جس سے شادی سے پہلے کرتی تھی، کیا متارکت پر کوئی اثر ہو گا یا متارکت قائم  رہے گی ؟اور جس کے ساتھ گھر والوں نے نکاح کیا اس کے ساتھ کسیے نکاح جائز  ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بغیر گواہوں کے  نکاح کرنا نکاح فاسد ہےاور نکاح فاسد کے بعد متارکت واجب ہے۔ مذکورہ صورت میں فون پر متارکت کے الفاظ کہنے سے متارکت ہوگئی اور متارکت کے بعد دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کر نے سےدوسرا نکاح بھی منعقد ہوگیا  ۔

البتہ عورت کے لیے اجنبی مرد سے بلا ضرورت بات چیت رکھنا گناہ کا کام ہے، لہذا اس پر توبہ واستغفار کریں اور آئندہ اس سے اجتناب کریں ۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 330):

وفي مجموع النوازل الطلاق في النكاح الفاسد يكون متاركة ولا ينتقص من عدد الطلاق كذا في الخلاصة. والمتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة أما لو أنكر وقال أيضا: اذهبي وتزوجي. كان متاركة لكن لا ينتقص من عدد الطلاق وبعدم مجيء أحدهما إلى الآخر بعد الدخول لا تحصل المتاركة وقال صاحب المحيط: وقبل الدخول أيضا لا تتحقق إلا بالقول ولكل فسخه بغير محضر صاحبه وبعده لا إلا بمحضر صاحبه۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحا ر(192):

(ويجب مهر المثل في نكاح فاسد) وهو الذي فقد شرطا من شرائط الصحة كشهود(بالوطئ) في القبل (لا بغيره) كالخلوة لحرمة وطئها (ولم يزد) مهر المثل (على المسمى) لرضاها بالحط، ولو كان دون المسمى لزم مهر المثل لفساد التسمية بفساد العقد، ولو لم يسم أو جهل لزم بالغا ما بلغ (و) يثبت (لكل واحد منهما فسخه ولو بغير محضر عن صاحبه، ودخل بها أو لا) في الاصح خروجا عن المعصية فلا ينافي وجوبه،بل يجب على القاضي التفريق بينهما (وتجب العدة بعد الوطئ) لا الخلوة للطلاق لا للموت (من وقت التفريق) أو متاركة الزوج وإن لم تعلم المرأة بالمتاركةفي الاصح (ويثبت النسب) احتياطا بلا دعوة ۔

اسامہ مدنی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

06/ ذی الحجہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسامہ بن محمد مدنی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب