03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشترکہ فیملی سسٹم میں خریدی گئی زمین اوراخراجات کاحکم
84131تقسیم جائیداد کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہم پانچ بھائی مشترکہ فیملی سسٹم میں رہتے تھے، میں سب سے بڑا ہوں ، میں نے سعودی عرب میں محنت مزدوری کر کے یہاں پاکستان میں زمین خریدی اور سب بھائیوں کے نام 5,5 مرلہ انتقال بنوایا ، اس کے بعد والد صاحب کا انتقال ہو گیا ،اس کے بعد ہم سب بھائی الگ الگ ہو گئے ،اس دوران جب ہم ایک ساتھ رہتے تھےتو گھر کا ٹوٹل خرچہ بھی میں ہی اٹھا یاکرتا تھا اور بہن بھائیوں کی شادیوں کا خرچہ بھی میں نے ہی اٹھایا تھا۔اب پوچھنایہ ہےکہ

(1):-کیا وہ زمین اب ساری میری ہے یا بھائیوں کی ہے؟ کیا میں ان سے انتقال کی واپسی کا مطالبہ کر سکتا ہوں یا نہیں؟

(2):- کیا جو پیسہ شادیوں پر خرچ ہوا یا گھر چلانے میں ہوا اس کا مطالبہ کر سکتا ہوں یا نہیں؟

 (3):-جو پیسہ میں نے سعودی عرب میں مزدوری کر کے کمایا فیملی الگ ہونے پر وہ بھی بھائیوں میں تقسیم ہو گا یا میرا ہی رہے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

١۔ اگرآپ نے اس زمین کا انتقال بھائیوں کوہبہ کرنےکی نیت سے کیاتھا اورقبضہ بھی کرادیا تھا تو پھریہ زمین ان کی ہوگئی تھی اب آپ واپسی کا مطالبہ نہیں کرسکتےاوراگرآپ نے مذکورہ انتقال ہبہ کرنے کی نیت سے نہیں کرایا تھا بلکہ محض انتظام کی خاطرکرایا تھا تو پھرآپ اس زمین کے واپسی کا مطالبہ کرسکتے ہیں،کیونکہ اس صورت میں زمین کے مالک آپ ہیں۔

۲۔اگرآپ سب بھائیوں کے درمیان اخراجات کے واپسی کا کوئی عقد ہوا تھا تو پھر توآپ ان خراجات کی واپسی کا مطالبہ کرسکتے ہیں لیکن اگر ایسا کوئی عقد نہیں ہوا تھا جیسے کہ عام طورپر ایسا عقد نہیں کیا جاتا تو پھر یہ آپ کی طرف سے تبرع تھا جس کی واپسی کا آپ مطالبہ نہیں کرسکتے ۔

۳۔ جو پیسہ آپ نے سعودی عرب میں مزدوری کر کے کمایاتھا وہ صرف آپ کا ہے اسے تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں ۔

حوالہ جات

وفی الشامیة (6/463) :

اعلم أن أسباب الملك ثلاثة: ناقل كبيع وهبة وخلافة كإرث وأصالة، و الاستيلاء حقيقة بوضع اليد أو حكما بالتهيئة كنصب الصيد.

قوله ناقل أي من مالك إلى مالك، وقوله وخلافة: أي ذو خلافة، وكذا يقال فيما بعده ط (قوله والاستيلاء حقيقة) شمل إحياء الموات فلا حاجة إلى عده قسما رابعا كما فعل الحموي.

وفی مصنف ابن ابی شیبة:

"عن النضر بن أنس قال: نحلني أبي نصف داره، فقال أبو بردة: إن سرك أن تجوز ذلك فاقبضه، فإن عمر بن الخطاب -رضي اﷲ عنه- قضی في الأنحال ما قبض منه فهو جائز، وما لم یقبض منه فهو میراث". (المصنف لابن أبي شیبة،مؤسسة علوم القرآن، جدید ۱۰/ ۵۲۱، رقم: ۲۰۵۰۲)

وفی العالمگیریة:

"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية."(کتاب الھبة، الباب الثانی فیما یجوز من الھبۃ وما لایجوز، ج:4، ص:378، ط:رشیدیة)

رد المحتار (5/ 689):

قوله (بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله "لك"؛ لأنه لو قال "جعلته باسمك" لايكون هبة؛ ولهذا قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: "جعلته لابني" يكون هبة، وإن قال: "باسم ابني" لا يكون هبة.

فقه البیوع (1/227-226):

و ما ذکر نا من حکم التلجئة یقاربه ما یسمی فی القوانین الوضعیة"عقودا صوریة" (Ostensible   Contracts)      و تسمی فی بلاد نا Benami     Contracts   ، و هی أن تشتری أرض باسم غیر المشتری الحقیقی، و تسجل الأرض باسمه فی الجهات الرسمیة، و ذلك لأغراض ضریبیة أو لأغراض أخری، و لکن المشتری الحقیقی هو الذی دفع ثمنهو عدة من القوانین الوضعیة تعترف بکونها صوریة، و بأن العبرة فیما بین المتعاقدین بالعقد الحقیقی المستتر……… وعلی هذا الأساس أفتی علماء شبه القارة الهندیة بأن مجرد تسجیل الأرض باسم أحد لا یستلزم أن یکون هو مالکا لها، فلو اشتراها أحد باسم رجل آخر لم یدفع الثمن، و إنما دفع الثمن من قبل الأول، فمجرد هذا التسجیل لایعنی أنه وهب له الأرض.

تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 118):

( سئل ) في إخوة خمسة تلقوا تركة عن أبيهم فأخذوا في الاكتساب والعمل فيها جملة كل على قدر استطاعته

في مدة معلومة وحصل ربح في المدة وورد على الشركة غرامة دفعوها من المال فهل تكون الشركة وما حصلوا بالاكتساب بينهم سوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصوابا ؟( الجواب ): نعم إذ كل واحد منهم يعمل لنفسه وإخوته على وجه الشركة وأجاب الخير الرملي بقوله هو بينهما سوية حيث لا يميز كسب هذا من كسب هذا ولا يختص أحدهما به ولا بزيادة على الآخر إذ التفاوت ساقط كملتقطي السنابل إذا خلطا ما التقطا وحيث كان كل منهما صاحب يد لا يكون القول قول واحد منهما بقدر حصة الآخر فلو كان أحدهما صاحب يد والآخر خارجا واختلفا فالقول لذي اليد والبينة بينة الخارج ا هـ وهذا بناء على الأصل في الشركة أنها بينهم سوية حيث لم يشرطوا شيئا .وأما إذا شرطوا زيادة لأحدهم فقد قال في البحر ولم يشترط المصنف لاستحقاق الربح اجتماعهما على العمل لأنه غير شرط لتضمنها الوكالة .

تنقيح الفتاوى الحامدية (4/ 420)

في الفتاوى الخيرية سئل في ابن كبير ذي زوجة وعيال له كسب مستقل حصل بسببه أموالا ومات هل هي لوالده خاصة أم تقسم بين ورثته أجاب هي للابن تقسم بين ورثته على فرائض الله تعالى حيث كان له كسب مستقل بنفسه .

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

 22/12/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب