03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاقوں کےبعد واپسی کاحکم
84107طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میرانام دلبر ولدغلام ہاشم ہے اورمیری بیوی کا نام صائمہ ولد محمد اکرم ہے،دو تین مہینے سے ہمارے درمیان جھگڑا چل رہاتھا،بیوی روزانہ بولتی تھی کہ مجھے طلاق دو،مجھے تمہارے ساتھ نہیں رہنا،ایک دن میری بیوی نے قرآن پاک میری جھولی میں رکھ دیا اورکہا کہ مجھے طلاق دو تو میں نے غصے میں آکرطلاق دیدی میں نے کہا "صائمہ میں نے تمہیں طلاق دی،میں نے تمہیں طلاق دی،طلاق دی" یعنی پہلی طلاق میں بیوی کا نام لے کرطلاق دی اورباقی دو میں بیوی کا نام نہیں لیااور ایسے ہی دیں ،طلاق کے بعدوہ بچوں کو لیکر گھر جارہی تھی تو میں نے اپنے سسرکو فون کیا کہ آکر بیٹی کو لے جاؤ، وہ آئے اورلیکر چلے گئے،کچھ دنوں کے بعد روکروہ واپس آگئی اورکہنے لگی کہ مجھے واپس بول دو مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہے،مجھ سے غلطی ہوگئی ہے۔مولوی صاحب آپ کوئی راستہ نکالوکہ میری بیوی واپس گھر آسکے،آپ کی مہربانی ہوگی،ہماری طلاق 2024۔6۔19کوہوئی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق کےلیے بیوی کا نام لینا ضروری نہیں بلکہ اس کی طرف نسبت کرنا کافی ہے جوکہ مسئولہ صورت میں موجودہےلہذا صورتِ مسئولہ میں تین طلاق واقع ہوکرحرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہے ،موجودہ حالت میں حلالہ کے بغیرمیاں بیوی میں نہ رجوع ہوسکتا ہے اورنہ ہی نکاح،لہذاعورت عدت ﴿تین حیض﴾گزارکرآزاد ہوگی اسکےبعدجہاں چاہےوہ شادی کرسکتی ہے۔

 حلالہ اس کو کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے تو عدت گزرنے کے بعدوہ کسی دوسری جگہ ﴿طلاق دینے کی شرط کے بغیر﴾ نکاح کرے ،اوردوسرا شوہراس کے ساتھ جماع بھی کرے، اس کے بعد اس دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ طلاق دےدے تو وہ بیوی عدت کے بعد پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگی۔

حوالہ جات

فی سنن ابن ماجة (ج 2 / ص 152)

حدثنا محمد بن رمح . أنبأنا الليث بن سعد ، عن إسحاق بن أبى فروة ،عن أبى الزناد ، عن عامر الشعبى قال :

قلت لفاطمة بنت قيس :حدثينى عن طلاقك . قالت : طلقني زوجي ثلاثا ، وهو خارج إلى اليمن .فأجاز ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم .

الفتاوى الهندية - (ج 10 / ص 196)

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.

أحكام القرآن للجصاص ج: 5 ص: 415

قوله تعالى: ﴿ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ﴾ منتظم لمعان: منها تحريمها على المطلق

ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره، مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا; لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة، وذكر الزوج يفيد العقد، وهذا من الإيجاز واقتصار على الكناية المفهمة المغنية عن التصريح. وقد وردت عن النبي صلى الله عليه وسلم أخبار مستفيضة في أنها لا تحل للأول حتى يطأها الثاني، منها حديث الزهري عن عروة عن عائشة: أن رفاعة القرظي طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، فجاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا نبي الله إنها كانت تحت رفاعة فطلقها آخر ثلاث تطليقات فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وإنه يا رسول الله ما معه إلا مثل هدبة الثوب فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: "لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك".

السنن الكبرى للبيهقي (7/ 552)

أخبرنا أبو أحمد المهرجاني، أنا أبو بكر بن جعفر المزكي، نا محمد بن إبراهيم البوشنجي، نا ابن بكير، نا مالك، عن ابن شهاب، عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان، عن محمد بن إياس بن البكير، أنه قال: طلق رجل امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها ثم بدا له أن ينكحها فجاء يستفتي فذهبت معه أسأل له فهذه رواية سعيد بن جبير وعطاء بن أبي رباح ومجاهد وعكرمة وعمرو بن دينار فسألت أبا هريرة وعبد الله بن عباس عن ذلك فقالا له: " لا نرى أن تنكحها حتى تتزوج زوجا غيرك " قال: فإنما كان طلاقي إياها واحدة فقال ابن عباس: " إنك أرسلت من يدك ما كان لك من فضل "ومالك بن الحارث ومحمد بن إياس بن البكير ورويناه عن معاوية بن أبي عياش الأنصاري كلهم عن ابن عباس أنه أجاز الطلاق الثلاث وأمضاهن.

   سیدحکیم شاہ عفی عنہ

   دارالافتاء جامعۃ الرشید

    22/12/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب