03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکا ح اور طلاق کے متفرق مسائل
84125طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میں شاہزمان نفیس خان کی شازلی ناصر شیخ سے 15/12/2007 کو شادی ہوئی اور مہر 5 لاکھ تھا۔ نکاح کے پہلے ہفتے کے بعد میری ساس نے مجھے فون کیا کہ بچے پیدا نہ کرو، بیوی کو پردہ نہ کرواؤ، اسے یونیسیکس جم بھیج دو اور ہفتے میں 3 دن وہ اپنی ماں کے گھر رہے گی۔ میں اس پر پوری طرح حیران رہ گیا ،کیونکہ وہ نکاح سے پہلے شریعت کے مطابق زندگی گزارنے پر راضی ہو گئی تھی۔ مجھے یہ بالکل پسند نہیں آیا، لیکن خاموش رہا اور ہم اپنے والدین کے ساتھ دو سال رہے اور یہ سلسلہ جاری تھا۔ اس کے گھر والوں کی طرف سے ہمیشہ مداخلت ہوتی تھی اور انہیں میری اسلامی شکل اور طرز زندگی پسند نہیں تھی ،کیونکہ وہ بہت ماڈرن ہیں۔ میری بیوی کا بھی دوسرے سال میں اسقاط حمل ہوا تھا، جس کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ ڈاکٹروں کی غلطی تھی ،جس پر یقین کرنا مشکل ہے۔ اب ہمارے 3 بچے ہیں: زوہاخان کی عمر تیرہ سال، ظہرا خان کی عمر دس سال اور ارطغرل خان کی عمر چار سال ہیں۔ بیوی نے ہمیشہ میری بے عزتی کی اور کبھی میری پرواہ نہیں کی، بس ہمیشہ دکھاوے کی کوشش کی۔ وہ اکثر 8 سے 12 ماہ تک میری اجازت کے بغیر گھر سے نکل جاتی ہے، شادی کے 16 سالوں میں سے وہ تقریباً 8 سال تک گھر پر نہیں رہی۔ دوسری بیٹی کی پیدائش کے بعد وہ 1 سال تک گھر نہیں آئی اور جب آئی تو  2014 کے بعد سے 8 سال سے زیادہ عرصے سے ایک علیحدہ کمرے میں رہ رہی ہے، جہاں میں نے ہمیشہ اسے اسلامی زندگی گزارنے کی کوشش کی اور سمجھایا ،لیکن وہ ہمیشہ کہتی ہے کہ قرآن خواتین کو کوئی حقوق نہیں دیتا۔ میں اسے بہت سی چھٹیاں گزارنے کے لیے سوئزرلینڈ، دبئی، عمرہ، مالدیپ، ترکی، سپین، کشمیر، آگرہ وغیرہ لے گیا اور اسے کبھی بھی اسلامی طرز زندگی پر عمل کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ 2021 میں وہ دوبارہ گھر چھوڑ کر اپنی ماں کے گھر چلی گئی اور میری اجازت کے بغیر میرا موبائل نمبر 26 ماہ سے زیادہ بلاک کر دیا۔ وہ میری اجازت کے بغیر  محرم  کو ساتھ لیے بغیر  دبئی، لکھنؤ وغیرہ کا سفر بھی کرتی ہے۔ اس سب کے باوجود میں نے ستمبر 2023 میں اسپین، ترکی اور موروکو کے ٹکٹ  بک کیےکہ اس کا دماغ بدل جائے اور ہم شادی کو بچا سکیں۔ پھر وہ 26 ماہ کے بعد جولائی 2023 میں گھر آئی اور ہم تینوں بچوں کے ساتھ ٹرپ پر گئے اور 10 اکتوبر کو واپس آئے۔ لیکن پورے سفر میں وہ پھر بھی میری بے عزتی اور تذلیل کرتی رہی۔ اس طرح میں تنگ آ گیا اور 4/11/2023 کو میں نے اسے پہلی طلاق رجعی دو گواہوں کے ساتھ زبانی  دی :ایک احمد کاسو بھائی جوموبائل پر سن رہا تھا اور زوہا خان وہاں موجود تھے۔ اگلے ہی دن 5/11/23 وہ گئی اور میرے اور میرے والدین کے خلاف جھوٹی/بوگس 498 FIR اور ایک جعلی/بوگس گھریلو تشدد کا مقدمہ درج کرایا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے رجوع کرنے کے لیے بلایا  لیکن وہ  میرے کمرے  نہیں آئی اس پر میں نے 15/11/23 کو ناگپاڈا میں قاضی (آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) کو درخواست دی ، قاضی نے ہم دونوں کو اپنے گواہوں کے ساتھ بلایا۔ میں نے جا کر بیان دیا لیکن شازلی ناصر شیخ نے آ کر بیان نہیں دیا۔ اس طرح 2 ماہ کے بعد 4/1/24 کو میں نے 2 گواہوں کے ساتھ تحریری خط میں دوسری طلاق رجعی دی اور اسے اور اس کے بھائی کو واٹس ایپ اور ای میل پر بھیج دیا۔ اب اس کے کچھ وکیل نے مجھے ایک خط بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ پہلی اور دوسری طلاق لینے سے انکار کرتی ہے۔ جھوٹا مقدمہ درج کرنے کے باوجود وہ 3 بچوں کے ساتھ میرے گھر میں مقیم ہے۔ اب میرے سوالات درج ذیل ہیں:

۱: کیا ہمارا نکاح 4/1/24 سے 4/4/24 کو 3 ماہ کے بعد ختم ہو جائے گا یا مجھے تیسری طلاق بھی دینی پڑے گی؟

 ۲: بچے کس کی تحویل میں  رہیں گے کیونکہ اس کا خاندان بالکل بھی مذہبی نہیں ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ اگر وہ نانی کے گھر رہیں گے تو وہ دین سے بہت دور ہو جائیں گے۔

 ۳:  میرے والدین نے اسے 2007 میں سونے اور ہیروں کے زیورات تحفے میں دیے تھے جن کی مالیت تقریباً 25 لاکھ تھی اور اب یہ 1.5 کروڑ کے قریب ہے۔ کیا یہ  اسے واپس کرنا ہوگا اور صرف مہر کی رقم رکھنی ہوگی؟

 ۴:  کیا عدت ختم ہونے کے بعد بھی وہ زبردستی میرے گھر رہ سکتی ہے؟

۵: کیا عدت ختم ہونے سے پہلے ہم پھر بھی رجوع کر سکتے ہیں۔ عدت کے بعد ہم دوبارہ اکٹھے ہو سکتے ہیں، اس کا کیا طریقہ کار   ہے؟

 ۶: کیا میں اب دوبارہ شادی کر سکتا ہوں؟

 ۷:  اگر قاضی مجھے اپنا حتمی فیصلہ نہیں دیتا تو کیا مجھے فیملی کورٹ سے طلاق کا حکم نامہ لینا ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوالات کےجوابات ترتیب وار درج ذیل ہیں:

۱:       اگر    بیوی کو حمل نہیں اور ایام عدت میں  زبانی یا  عملی طورپر ( ہمبستری کرنا یا شہوت کےساتھ چھونا وغیرہ)   طلاق سے  رجوع نہیں کیا    تو     طلاق دینے کے بعد تین ماہواریاں مکمل گزرنے پر عدت ختم ہو جائےگی ،چاہے اس میں تین مہینے  لگ جائیں یا کم وبیش۔لہذا اگر مذکورہ شرائط کےساتھ تین ماہواریاں مکمل گزرگئی ہیں تو نکاح ختم ہوگیا ہے،  تیسری طلاق دینے کی ضرورت نہیں۔

۲:         بچہ کی کفالت کا حق سات سال تک   اور بچی کی کفالت کا حق بلوغت تک  والدہ کو حاصل ہے ، سات سال کےبعد بچہ کی کفالت کا حق والد کوحاصل ہے ۔ بلوغت کے  بعداگر وہ نفع اور نقصان سمجھنے کے قابل ہوں تو   ان کو  والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ   رہنے کا اختیار ہے۔  تاہم اگر بلوغت کےبعدوہ   والدہ کے ساتھ رہنے  کو ترجیح د یں، جبکہ اس کےساتھ رہنے میں ان کے عقائد اور اخلاق بگڑنے کا قوی خدشہ ہوتو  والد کو یہ حق ہےکہ  ان کو والدہ  کےساتھ رہنے سے منع کرکے اپنے پاس  رکھے ۔ بلوغت سے پہلےمدت کفالت کےدورا ن اگر والدہ ان کی کفالت میں کوتاہی نہیں کرتی تو صرف والدہ اور ننھیال کے فسق اور بےدینی  کی وجہ سے والد کو  یہ  حق نہیں کہ دوران کفالت  بچوں کو والدہ سےچھین کراپنے پاس رکھے۔

۳:        اگر  بیوی اپنی رضامندی سے دینا چاہے تو لےسکتے ہیں ، زبردستی لینا جائز نہیں ۔

۴:       عد ت ختم ہونےکے بعد  بیوی  نامحرم بن جائے گی ،لہذا بلاتجدیدِ نکاح شرعی پردہ کا انتظام کیےبغیر  ایک گھر میں رہنے  کی  اجازت نہیں  ۔عدت ختم ہونے کے بعد شرعی پردہ کا مکمل انتظام کرکے  بیوی آپ  کی اجازت سے گھر میں رہ سکتی ہے  ، زبردستی رہنے کا حق نہیں ۔

۵:       عدت کے دورا  ن طلاق سے زبانی یا عملی طورپر رجوع ہوسکتا ہے ۔ عدت ختم ہونے کے بعد   دو گواہوں کی موجودگی میں نئے  مہر کے ساتھ باہمی رضامندی سے  تجدید نکاح کرکے دوبارہ اکٹھے ہوسکتے ہیں۔

۶:        عدت  ختم ہونے سے پہلے   طلاق سے رجوع کرنا کافی ہے  ۔ عد ت  ختم ہونے کےبعد تجدید نکاح کرکےدونوں آپس میں دوبارہ شادی کرسکتے ہیں۔

۷:       طلاق نامہ لینے کی کوئی  ضرورت نہیں ۔ زبانی طلاق واقع ہوگئی ۔

واضح رہےکہ عورت کی اصلاح کے لیے  درج ذیل  طریقے اختیار کیےجاسکتےہیں:

۱:        خود دین پر عمل کرکے   بیوی  کے حقوق کی ادائیگی  میں کوتاہی نہ کریں۔

۲:         وقتا فوقتا  صلاۃ الحاجۃ پڑ ھ کر بیوی کےلیے  دعا کرتے رہا کریں ۔

۳:       سمجھانے سےپہلے  بیوی کے اشکالا ت کو سمجھیں ،  پھرعلاقے کے کسی  معتبر عالم دین سے اس کےجوابات معلوم کرکےبیوی کو سمجھائیں اور اس کوشش کو جاری رکھیں ۔

۴:       اگرعلاقہ میں مستورات کی اصلا ح کا    شرعی انتظام موجود  ہو تو  اس میں بیوی کو جوڑنے کی کوشش کریں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 504):

(وهي في) حق (حرة) ولو كتابية تحت مسلم (تحيض لطلاق) ولو رجعيا (أو فسخ بجميع أسبابه) ومنه الفرقة بتقبيل ابن الزوج نهر (بعد الدخول حقيقة، أو حكما) أسقطه في الشرح، وجزم بأن قوله الآتي " إن وطئت " راجع للجميع (ثلاث حيض كوامل) لعدم تجزي الحيضة، فالأولى لتعرف براءة الرحم، والثانية لحرمة النكاح، والثالثة لفضيلة الحرية.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 555):

 الحضانة: بفتح الحاء وكسرها: تربية الولد.(تثبت للأم) . النسبية (ولو) كتابية، أو مجوسية أو (بعد الفرقة) (إلا أن تكون مرتدة) فحتى تسلم لأنها تحبس (أو فاجرة) فجورا يضيع الولد به كزنا وغناء وسرقة ونياحة كما في البحر والنهر بحثا.قال المصنف: والذي يظهر العمل بإطلاقهم كما هو مذهب الشافعي أن الفاسقة بترك الصلاة لا حضانة لها. وفي القنية: الأم أحق بالولد ولو سيئة السيرة معروفة بالفجور ما لم يعقل ذلك (أو غير مأمونة) ذكره في المجتبى بأن تخرج كل وقت وتترك الولد ضائعا...والحاصل أن الحاضنة إن كانت فاسقة فسقا يلزم منه ضياع الولد عندها سقط حقها وإلا فهي أحق به إلى أن يعقل فينزع منها كالكتابية.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 567):

(ولا خيار للولد عندنا مطلقا) ذكرا كان، أو أنثى خلافا للشافعي. قلت: وهذا قبل البلوغ، أما بعده فيخير بين أبويه، وإن أراد الانفراد فله ذلك مؤيد زاده معزيا للمنية. وأفاده بقوله (بلغت الجارية مبلغ النساء، إن بكرا ضمها الأب إلى نفسه) إلا إذا دخلت في السن واجتمع لها رأي فتسكن حيث أحبت حيث لا خوف عليها (وإن ثيبا لا) يضمها (إلا إذا لم تكن مأمونة على نفسها) فللأب والجد ولاية الضم لا لغيرهما كما في الابتداء بحر عن الظهيرية.(والغلام إذا عقل واستغنى برأيه ليس للأب ضمه إلى نفسه) إلا إذا لم يكن مأمونا على نفسه فله ضمه لدفع فتنة، أو عار، وتأديبه إذا وقع منه شيء، ولا نفقة عليه إلا أن يتبرع بحر. ..حاصل ما ذكره في الولد إذا بلغ أنه إما أن يكون بكرا مسنة أو ثيبا مأمونة، أو غلاما كذلك فله الخيار وإما أن يكون بكرا شابة، أو يكون ثيبا، أو غلاما غير مأمونين فلا خيار لهم بل يضمهم الأب إليه.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 54):

(قوله وتصح في العدة إن لم يطلق ثلاثا، ولو لم ترض براجعتك أو راجعت امرأتي، وبما يوجب حرمة المصاهرة) بيان لشرطها وركنها فشرطها أن لا يكون الطلاق ثلاثا كما ذكره، ومراده أن لا يكون بائنا سواء كان واحدة أو ثنتين... وأما ركنها فقول أو فعل فالأول صريح، وكناية أما الأول فراجعتك وراجعت امرأتي، وجمع بينهما ليفيد ما إذا كانت حاضرة فخاطبها أو غائبة، وارتجعتك ورجعتك... وأما الكناية فنحو أنت عندي كما كنت أو أنت امرأتي فيتوقف على النية، وأما الثاني أعني الفعل فأفاد أن كل فعل أوجب حرمة المصاهرة فإن الرجعة تصح به، وسوى بين القول والفعل في الصحة للاحتراز عن الكراهة فإنها مكروهة بالفعل كما في الجوهرة فدخل الوطء والتقبيل بشهوة على أي موضع كان فما أو خدا أو ذقنا أو جبهة أو رأسا أو المس بلا حائل أو بحائل يجد الحرارة معه بشهوة، والنظر إلى داخل الفرج بشهوة فإن كانت متكئة والوطء في الدبر على المفتى به لأنه لا يخلو عن مس بشهوة، ولا فرق بين كون التقبيل، والمس، والنظر بشهوة منه أو منها بشرط أن يصدقها سواء كان بتمكينه أو فعلته اختلاسا أو كان نائما أو مكرها أو معتوها أما إذا ادعته وأنكره لا تثبت الرجعة.

     نعمت اللہ 

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

25  /ذوالحجہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب