03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پولیس کا قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گٹکا بیچنے کا حکم
84153جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے شہر ٹھٹھہ میں عموما گٹکا کا نشہ ہوتا ہے، پولیس کی طرف سے اس کو خریدنے یا بیچنے کی اجازت نہیں، لیکن وہاں پولیس نے خود اس کو اپنا کاروبار بنایا ہوا ہے۔ شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

گٹکا کی خرید وفروخت جب قانوناً ممنوع ہے تو عام افراد اور پولیس دونوں پر اس قانون کی پابندی لازم ہے، پھر پولیس کا کام تو نہ صرف خود قانون پر عمل کرنا ہے، بلکہ اس کی حفاظت اور پابندی کو یقینی بنانا بھی ہے۔کسی بھی حکومتی منصب اور ڈیوٹی پر مقرر شخص اگر اپنے ماتحت لوگوں کے ساتھ بھلائی کا معاملہ نہیں کرتا اور کوئی ایسا کام کرتا ہے جس میں رعایا کا نقصان ہو تو اس پر حدیث شریف میں سخت وعید آئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس بندے کو اللہ تعالیٰ لوگوں کے امور اور معاملات کا ذمہ دار (حاکم، منتظم اور محافظ) بنائے اور وہ ان کے ساتھ خالص خیر خواہی کا معاملہ نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔" لہٰذا پولیس کے لیے ہرگز جائز نہیں کہ وہ قانوناً ممنوع اشیاء کی خود خرید وفروخت کریں یا ان کی خرید و فروخت میں دوسروں کی معاونت کریں۔

حوالہ جات

صحيح البخاري (9/ 64):

حدثنا أبو نعيم حدثنا أبو الأشهب عن الحسن أن عبيد الله بن زياد عاد معقل بن يسار في مرضه الذي مات فيه، فقال له معقل: إني محدثك حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: ما من عبد استرعاه الله رعية، فلم يحطها بنصيحة، إلا لم يجد رائحة الجنة.

بدائع الصنائع (7/ 99):

وإذا أمر عليهم يكلفهم طاعة الأمير فيما يأمرهم به وينهاهم عنه؛ لقول الله تبارك وتعالى { يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم }، وقال عليه الصلاة والسلام:  اسمعوا وأطيعوا ولو أمر عليكم عبد حبشي أجدع ما حكم فيكم بكتاب الله تعالى، ولأنه نائب الإمام، وطاعة الإمام لازمة، كذا طاعته؛ لأنها طاعة الإمام، إلا أن يأمرهم بمعصیة، فلا تجوز طاعتهم إياه فيها؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: "لا طاعة لمخلوق في  معصیة الخالق". ولو أمرهم بشيء لا يدرون أينتفعون به أم لا، فينبغي لهم أن يطيعوه فيه إذا لم يعلموا كونه معصية؛ لأن اتباع الإمام في محل الاجتهاد واجب، كاتباع القضاة في مواضع الاجتهاد، والله تعالى عز شأنه أعلم.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

         29/ذو الحجۃ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب