| 84205 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
وراثت کے حوالے سے بھی تفصیل بیان کردیں کہ کس کس کا کتنا حصہ بنتاہے؟ورثہ اہلیہ ،تین بیٹے،اور ایک بیٹی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والد مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہےاوراسی طرح مرحوم کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال ورثہ میں تقسیم کیاجائے،بقیہ میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی:۔
میراث کے آٹھ حصے بنائے جائیں ،جن میں سےایک حصہ اہلیہ اور چھ حصے تین بیٹوں کو دیے جائیں،ہر بیٹے کو دوحصے ملیں گے،اور ایک حصہ بیٹی کو دیا جائے۔
|
نمبر |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
1 |
بیوی |
1 |
12.5 |
2 |
بیٹا |
2 |
25 |
3 |
بیٹا |
2 |
25 |
4 |
بیٹا |
2 |
25 |
5 |
بیٹی |
1 |
12.5 |
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
30/ذوالحجہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


