03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پاکستانی کرنسی کے عوض ڈالر ادھار بیچنے کا حکم
84181خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

ایک شخص دوسرے آدمی کو پاکستانی کرنسی کے عوض  دو ماہ کے ادھار پر ڈالر بیچتا ہے،  ڈالر کے عوض جتنے پاکستانی روپے بنتے ہیں وہ پورے پورے ادا کرے گا اور دو ماہ جو اس نے اس کو استعمال کرنے کے لیے بطورِ ادھار دئیے ہیں اس کا عوض نہیں چاہتا! اور اس دورانیے کا عوض کسی کی جانب سے مطالبہ نہیں ہوتا تو  کیا یہ معاملہ درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق چونکہ ڈالر بیچنے والا شخص اضافی رقم نہیں لے گا، بلکہ معاملہ کے دن مارکیٹ ریٹ کے مطابق جتنے روپے بنتے ہیں اتنے کی ہی وصولی کرے گا، اس لیے یہ معاملہ شرعاً دورست ہے، بشرطیکہ مجلسِ عقد میں ڈالر پر قبضہ ہو اور دوسری جانب سے پاکستانی کرنسی کی ادائیگی کا وقت طے کر لیا گیا ہو۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي (14/ 24) دار المعرفة، بيروت:

وإذا اشترى الرجل فلوسا بدراهم ونقد الثمن، ولم تكن الفلوس عند البائع فالبيع جائز؛ لأن الفلوس الرابحة ثمن كالنقود، وقد بينا أن حكم العقد في الثمن وجوبها ووجودها معا، ولا يشترط قيامها في ملك بائعها لصحة العقد كما يشترط ذلك في الدراهم والدنانير.

الفتاوى الهندية (3/ 224) دار الفكر،  بيروت:

وروى الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - إذا اشترى فلوسا بدراهم وليس عند هذا فلوس ولا عند الآخر دراهم ثم إن أحدهما دفع وتفرقا جاز، وإن لم ينقد واحد منهما حتى تفرقا لم يجز كذا في المحيط.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

2/محرم الحرام 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب