03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مدرسہ کے چندہ سےمسجد کے لیے جگہ خرید کر اس کو بیچنا جائز ہے
84170وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

ایک مہتمم صاحب نے مسجد کیلئے جگہ خریدی، جس کی خریداری میں درج ذیل طریقوں سے پیسے اکٹھے کیے گئے :

1: لوگوں سے چندہ کرکے ۔     

2:  ایک مدرسہ کے پیسے بطور قرض شامل کیے گئے کہ جب مسجد کے پیسے آئیں گے تو اس وقت مدرسے کو واپس کر دیں گے ( جگہ خریدنے والے اس مدرسے کے مہتمم صاحب ہیں )  اس وقت مدرسے کو بھی سخت ضرورت ہے اور فنڈ آنے  کی توقع بھی نہیں ہے ۔

3: ایک شخص سے قرض لیا گیا یہ بتا کر کہ ہم مسجد کیلئے جگہ خرید رہے ہیں، کچھ رقم کم ہے، آپ ادھار دے دیں،جب مسجد کی مد میں پیسے آئیں گے تو آپ کو واپس کر دیں گے۔

ان  تین ذرائع سے پیسے جمع کرکے زمین خرید لی گئی تھی اور اسے وقف نہیں کروایا گیا، بلکہ جس نے خریدی تھی اسی کے نام پر زمین لکھوائی گئی۔ زمین خریدنے کے بعد سے اب تک اس پلاٹ میں کسی قسم کا کوئی تصرف نہیں کیا گیا۔اور اس مد میں اس کے بعد کوئی پیسے بھی اکٹھے نہیں ہو سکے ۔ اب سوالات درج ذیل ہیں:

1۔کیا اس زمین کو فروخت کرکے مسجد کیلئے دوسری جگہ زمین لینا یا ان پیسوں کو تعمیر شدہ مسجد کے لیے استعمال کرنا درست ہے؟( اور یہ جگہ مسجد کے علاوہ کسی اور مصرف کے لیے استعمال ہو سکتی ہے ؟ ) یا پھر قرض کے پیسوں کے بقدر زمین کو فروخت کر دیا جائے اور مسجد کے لیے جتنی رقم جمع ہوئی تھی اتنی جگہ مسجد کے لیے رکھ دی جائے ۔

2۔ اس پلاٹ کو بیچ کر اس سے حاصل شدہ رقم کیا ہمارے مدرسہ کی مسجد پر خرچ کی جا سکتی ہے؟ یہ مسجد مدرسہ کے تابع ہے اور دوسرے گاؤں میں واقع ہے، جبکہ یہ جگہ مسجد کے لیے ابھی تک باقاعدہ وقف نہیں کی گئی۔

3۔ جب یہ پلاٹ فروخت ہوگا تو جس قیمت پر خریدا تھا اس سے زیادہ قیمت پر فروخت ہوگا تو کیا جن سے قرض لیا تھا انہیں صرف قرض کی رقم ہی واپس کرنا ہوگی یا اضافی رقم بھی دی جا سکتی ہے؟ یا پھر صرف قرض کی رقم انہیں دی. جائے گی اور باقی جتنی بھی رقم ہوگی وہ ساری مسجد کیلئے ہی ہوگی؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ یہاں مسجد مصالح مدرسہ کے لیے بنانا مقصود نہیں تھا، بلکہ دوسرے گاؤں میں مستقل مسجد بنانے کے لیے جگہ خریدی تھی، جس میں مدرسہ کے پیسے بطور قرض شامل کیے تھے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق چونکہ مدرسہ کے مہتمم صاحب نے دوسرے گاؤں میں مستقل علیحدہ مسجد بنانے کی نیت سے جگہ خریدی تھی اور وہ جگہ ابھی تک باقاعدہ مسجد کے نام پر وقف نہیں کی گئی، بلکہ سوال میں تصریح کے مطابق فی الحال یہ جگہ مہتمم صاحب کے ہی نام پر ہے، اس لیے اس جگہ کو بیچ کر مسجدبنانےکے لیے لیا گیا  قرض ادا کرنا جائز ہے، البتہ  اس میں بہتر یہ ہے کہ  مکمل جگہ بیچنے کی بجائے قرض کے برابر جگہ بیچ دی جائے اور بقیہ جگہ مسجد بنانے کی نیت سے برقرار رکھی جائے، تاکہ لوگوں کی طرف سے دی گئی رقم  ان کی منشاء کے مطابق خرچ ہو، کیونکہ انہوں نے اسی جگہ مسجد بنانے کے لیے رقم دی تھی۔

البتہ اگر کسی وجہ سے  اس جگہ مسجد بنانا مشکل ہو تو مکمل جگہ کو بیچ کر پہلے قرض ادا کر دیا جائے اور بقیہ رقم  کے سلسلہ میں اگر چندہ دینے والوں سے اجازت لینا ممکن ہو تو ان سے اجازت لے کر کسی بھی مصرفِ خیر پر یہ رقم خرچ کی جا سکتی ہے،  اور اگر چندہ دینے والوں کی کثرت اوران کے نامعلوم ہونے کی وجہ سے  اجازت لینا مشکل ہو تو ضرورت کے پیشِ نظراس رقم کو کسی نزدیکی مسجد پر خرچ کرنے کی بھی اجازت ہے، کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ اگر کوئی مسجد  آبادی وغیرہ منتقل ہونے کی وجہ سے ویران ہو جائے اور اس کا سامان  وغیرہ خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں وہ سامان اس مسجد کے سب سے نزدیک والی مسجد کو دیا جا سکتا ہے، اسی طرح صورتِ مسئولہ میں بھی مسجد کے لیے خریدی گئی جگہ بیچنے کے بعد اب اس رقم کا کوئی مصرف باقی نہ رہا، اس لیے کسی نزدیک والی مسجد میں اس رقم کو صرف کرنے کی اجازت ہے۔

رد المحتار :کتاب الوقف ،ج:4 ص:360 ط:ايچ ايم سعید:

 (اتحد الواقف والجهة وقل مرسوم بعض الموقوف عليه) بسبب خراب وقف أحدهما (جاز للحاكم أن يصرف من فاضل الوقف الآخر عليه) لأنهما حينئذ كشيء واحد.

 (وإن اختلف أحدهما) بأن بنى رجلان مسجدين أو رجل مسجدًا ومدرسة ووقف عليهما أوقافا (لا) يجوز له ذلك.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 445) ط:ايچ ايم سعید:

مطلب مراعاة غرض الواقفين واجبة والعرف يصلح مخصصا:

وهكذا رأيته في نسخة أخرى بلفظ الأول أقرب إلى الصواب، فهدا نص صريح في التفرقة بين الهبة والوقف فتكون الفريضة الشرعية في الوقف هي المفاضلة فإذا أطلقها الواقف انصرفت إليها لأنها هي الكاملة المعهودة في باب الوقف، وإن كان الكامل عكسها في باب الصدقة فالتسوية بينهما غير صحيحة، على أنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة.

درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 135) دار إحياء الكتب العربية:

(ولو خرب ما حوله واستغنى عنه يبقى مسجدا عند أبي حنيفة وأبي يوسف) ولا يعود إلى ملك بانيه إن كان حيا وإلى ملك وارثه إن كان ميتا (وعاد إلى الملك عند محمد) لأنه عينه لقربة معينة، فإذا انقطعت عاد إلى ملكه كالمحصر في الحج إذا بعث بالهدي، ثم زال الإحصار وأدرك الحج كان له أن يصنع بهديه ما شاء، ولهما أن القربة التي قصدها لم تزل بخراب ما حوله إذ الناس في المساجد سواء فيصلي فيه المسافرون والمارة وهدي الإحصار لم يزل عن ملكه قبل الذبح (ومثله حصر المسجد وحشيشه إذا استغنى عنهما) حيث لا يدخلان في الملك عند هما خلافا لمحمد (والرباط والبئر إذا لم ينتفع بهما) فإنهما أيضا على هذا الخلاف (فيصرف وقف المسجد والرباط والبئر إلى أقرب مسجد أو رباط أو بئر إليه)

الموسوعة الفقهية الكويتية (6/ 324) وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية – الكويت:

أما أنقاضه فتنقل إلى أقرب مسجد، فإن لم يحتج إليها توضع في مدرسة ونحوها من أماكن الخيرات.

3۔ جی ہاں! مکمل جگہ کو بیچنے کی صورت میں بچ جانے والی رقم مدرسہ کی مسجد پر بھی خرچ کی جا سکتی ہے، کیونکہ اگرچہ یہ مسجد مدرسہ کے تابع اور اس کے مصالح میں شمار ہوتی وقف ہے، مگر تابع ہونے کے باوجود مسجد مستقل وقف کی حیثیت رکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر کسی وجہ سے مدرسہ ویران ہو جائے تو اس کو دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے، جس کو فقہائے کرام رحمہم اللہ کی اصطلاح میں استبدال وقف سے تعبیر کیا جاتا ہے، جبکہ مسجد کو دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ مسجد والی جگہ قیامت تک مسجد کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے اس کا استبدال یعنی اس کو تبدیل کرنا جائز نہیں۔ لہذا مذکورہ زمین بیچنے کی صورت میں قرض کی ادائیگی کے بعد بقیہ رقم مدرسہ کی مسجد پر بھی خرچ کی جا سکتی ہے۔

 البتہ یہ رقم مدرسہ پر خرچ کرنا درست نہیں، کیونکہ چندہ دینے والوں نے مسجد کے لیے یہ رقم دی تھی، اس لیے ان کی اجازت کے بغیر دوسرے مصرف میں اس رقم کو خرچ نہیں کیا جا سکتا۔

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (6/ 209) دار الكتب العلمية، بيروت:

وفي «الأجناس» : إذا خرب المسجد ولا يعرف بانيه وبنى أهل المسجد مسجدا آخر ثم أجمعوا على بيعه واستعانوا بثمنه في ثمن المسجد الآخر فلا بأس به. قال أبو العباس الناطفي في «الأجناس» : فقياسه في وقف هذا المسجد أنه يجوز صرفه إلى عمارة مسجد آخر إذا لم يعرف الواقف ولا وارثه، فأما إذا عرف للمسجد بان فليس لأهل المسجد أن يبيعوه؛ لأنه لما خرب ووقع الاستغناء عنه عاد إلى ملك بانيه أو ورثته، فلا يكون لأهله أن يبيعوه وما ذكر من الجواب، أما لم يعرف بانيه قول محمد لا قول أبي يوسف هو مسجد أبدا، فلا يكون لأهل المسجد أن يبيعوه، وعن أبي سلمة السهمي، قال محمد: في مسجد إذا خرب فلا يعرف بانيه فحكمه حكم الأرض عامرة لا يعرف لها رب، فيكون أمرها إلى الإمام.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 359) دار الفكر-بيروت:

(قوله: ومثله حشيش المسجد إلخ) أي الحشيش الذي يفرش بدل الحصر، كما يفعل في بعض البلاد كبلاد الصعيد كما أخبرني به بعضهم قال الزيلعي: وعلى هذا حصير المسجد وحشيشه إذا استغنى عنهما يرجع إلى مالكه عند محمد وعند أبي يوسف ينقل إلى مسجد آخر، وعلى هذا الخلاف الرباط والبئر إذا لم ينتفع بها اهـ وصرح في الخانية بأن الفتوى على قول محمد قال في البحر: وبه علم أن الفتوى على قول محمد في آلات المسجد وعلى قول أبي يوسف في تأبيد المسجد اهـ والمراد بآلات المسجد نحو القنديل والحصير، بخلاف أنقاضه لما قدمنا عنه قريبا من أن الفتوى على أن المسجد لا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر (قوله: وكذا الرباط) هو الذي يبنى للفقراء بحر عن المصباح (قوله: إلى أقرب مسجد أو رباط إلخ) لف ونشر مرتب وظاهره أنه لا يجوز صرف وقف مسجد خرب إلى حوض وعكسه وفي شرح الملتقى يصرف وقفها لأقرب مجانس لها. اهـ. ط.

الفتاوى الهندية (کتاب الوقف، ج: 2، صفحہ: 350،  ط: دار الفکر،بيروت:

عندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد، فيلزم و لايباع و لايوهب و لايورث، كذا في الهداية. و في العيون و اليتيمة: إن الفتوى على قولهما، كذا في شرح أبي المكارم للنقاية.

3۔ مذکورہ صورت میں زمین خواہ کتنی ہی  مہنگی فروخت ہو بہر صورت قرض دینے والے شخص کو صرف قرض کی رقم واپس کی جائے گی، کیونکہ قرض پر کسی قسم کا نفع حاصل کرنا شرعاً سود شمار ہوتا ہے، جس کا لینا اور دینا دونوں حرام ہیں، نیزقرض دینے والے نے اضافی رقم لینے کی شرط نہ لگائی ہو تو بھی اس کو مسجد کےچندہ سے تبرعا اضافی رقم دینا جائز نہیں، کیونکہ چندہ کی رقم مسجد کے لیے مختص ہو چکی تھی، لہذا اس شخص کو صرف قرض کی ادائیگی کے علاوہ بقیہ تمام رقم  کسی مسجدپر ہی خرچ کی جائے  گی۔

حوالہ جات

مسند الحارث (1/ 500، رقم الحديث: 437) مركز خدمة السنة- المدينة المنورة:

حدثنا حفص بن حمزة، أنبأ سوار بن مصعب، عن عمارة الهمداني قال: سمعت عليا يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كل قرض جر منفعة فهو ربا»

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 29) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:

 قال الكرخي في مختصره في كتاب الصرف وكل قرض جر منفعة لا يجوز مثل أن يقرض دراهم غلة على أن يعطيه صحاحا أو يقرض قرضا على أن يبيع به بيعا؛ لأنه روي أن كل قرض جر منفعة فهو ربا، وتأويل هذا عندنا أن تكون المنفعة موجبة بعقد القرض مشروطة فيه، وإن كانت غير مشروطة فيه فاستقرض غلة فقضاه صحاحا من غير أن يشترط عليه جاز.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

2/محرم الحرام1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب