| 84179 | تقسیم جائیداد کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میں دخترشیخ حبیب ہوں، بیوہ ہوں اورمیری کوئی اولاد نہیں ہیں،میرے ایک بھائی میرے باپ کے موروثی گھر میں رہتے ہیں جوتقسیم نہیں ہوا،وہ مجھے رکھنے کےلیے تیارنہیں ہے جس کی وجہ سے میں بہن کے گھرمیں رہ رہی ہوں اس بناء پر مجھے والد کے ترکہ میں چھوڑے ہوئے گھر میں اپنا حصہ چاہیے تاکہ میں اپنی زندگی گزارسکوں، میرے بھائی اوربہنیں تقسیم کے لئے تیار ہیں مگرجو بھائی والد کے مکان میں رہتےہیں وہ منع کررہے ہیں،کیا اس کی رضامندی اس تقسیم کےلیے ضروری ہے جبکہ باقی راضی ہوں؟ہم چھ بھائی اوردو بہنیں ہیں جن میں سے سب سے پہلے میرے والد صاحب کا انتقال ہوا ،پھر میرے ایک بھائی کا، پھر دوسرے بھائی کا اورآخر میں میری والدہ کا انتقال ہوا،سب کے انتقال اورورثہ کی تفصیل درجِ ذیل ہے۔
جب میرےوالد صاحب شیخ حبیب کا انتقال ہواتو انہوں نے ترکہ میں 120گزکا ایک مکان چھوڑاجس میں اب میراایک بھائی رہائش پذیرہے۔
والد صاحب شیخ حبیب کے انتقال کے وقت درج ذیل ورثہ زندہ تھے:
زوجہ: آمنہ خاتون
چھ بیٹے:عبدالعزیز،اخلاق احمد،یعقوب،جمیل احمد،مشتاق احمد،شکیل احمد
دو بیٹیاں:شمیم اختر،بلیہ ناز
اس کے بعد اخلاق احمد صاحب کا انتقال ہوا،ان کے انتقال کے وقت درج ذیل ورثہ زندہ تھے:
زوجہ: شاہینہ
والدہ:آمنہ خاتون
ایک بیٹا:طلال
تین بیٹیاں:قرة العین،ربیعہ،فرح
اس کے بعد عبدالعزیز صاحب کا انتقال ہوا،وہ لاولد تھے اوران کے انتقال کے وقت درج ذیل ورثہ زندہ تھے:
زوجہ: زاہدہ
والدہ:آمنہ خاتون
چاربھائی: یعقوب احمد،جمیل احمد،مشتاق احمداورشکیل احمد
دوبہنیں: شمیم اختراوربلیہ ناز
اس کے بعد آمنہ خاتون کا انتقال ہوا،اوران کے انتقال کے وقت درج ذیل ورثہ زندہ تھے:
چاربیٹے: یعقوب احمد،جمیل احمد،مشتاق احمداورشکیل احمد
دوبیٹیاں: شمیم اختراوربلیہ ناز
اب سوالات درجِ ذیل ہیں:
١١۔ میرے والد صاحب شیخ حبیب نے اپنی زندگی میں میرے دوبھائیوں عبدالعزیزاوراخلاق احمد میں سے ہرایک کو الگ الگ مکان دیکرقبضہ کرادیاتھا اورانہوں نے کہاتھا کہ ہم والد کی میراث میں سے اورکچھ نہیں لیں گے،کیا ان کا مذکورہ ترکہ والے مکان میں اب حصہ ہوگا ؟
۲۔ سب بہن بھائی اگر ترکہ والے مکان کی تقسیم پر راضی ہوں اورایک بھائی جو اس مکان میں رہائش رکھتےہیں تقسیم پر راضی نہ ہو تو کیا ان کی رضامندی تقسیم کےلیے ضروری ہوگی اوراس کے بغیر یہ گھر تقسیم نہیں ہوسکے گا؟
۳۔فوت ہونے والے میرے بھائی اخلاق احمد کی بیوہ اورایک بیٹے اورتین بیٹیوں کا اوراسی طرح دوسرے فوت ہونے والےلاولد بھائی عبدالعزیز کے بیوہ کا مذکورہ مکان میں حصہ ہوگا؟
۴۔مذکورہ ورثہ میں سے ہرایک کا مذکوروراثتی گھرمیں کتنا کتناحصہ ہو گا ؟بینوا توجروا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
١۔ وراثت ایک اضطراری حق ہے، کوئی اپنی طرف سے اس حق کو ساقط نہیں کرسکتا،لہذا مسئولہ صوت میں آپ کےبھائی والد کی زندگی میں کچھ لینےکی وجہ سے موت کے بعد ان کی میراث سے محروم نہیں ہونگے،اگرچہ انہوں نےکچھ لینے کے بعد کہاہوکہ ہم کچھ نہیں لیں گے،تاہم والد کے فوت ہونے کے بعداگروہ خود اپنے حصے میں سےکچھ لیکریاتقسیم کے بعدقبضہ کرکے پورا ہی حصہ دیگرورثہ کو بخوشی دینا چاہیں تو شرعاً اس میں کوئی مانع نہیں ہے۔
۲۔ وراثت کی تقسیم حقِ شرعی ہے، جس کو پورا کرنا ہر وارث کی شرعی ذمہ داری ہے اور وراثت میں سے ہر وارث اپنے شرعی حصہ کے مطابق اپنے حق کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہے، کسی وارث کا ترکہ پر قابض ہونا اور تقسیمِ ترکہ سے منع کرنا ہرگز جائز نہیں، لہذا مذکورہ صورت میں آپ کے بھائی پر لازم ہے کہ وہ ترکہ تقسیم کرکے ہر وارث کو اس کا حصہ دے، ورنہ وہ سخت گناہ گار ہو گا، کسی کا مال بغیر کسی وجہ کے ضبط کرنے اور اس کو استعمال سے روکنے پر شریعت میں سخت وعیدیں آئی ہیں،ایک حدیث میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی وارث کے حصہ میراث کو روکا تو اللہ تعالٰی قیامت کے روز جنت سے اس کے حصہ کو روکیں گے۔ (مشکوۃ) لہذا مرحوم کے ترکہ کو تمام ورثاء کے درمیان شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا، اگر چہ مذکوربھائی اس پر راضی نہ ہو۔
۳۔اخلاق احمدکی بیوہ اور اولاد کا اوراسی طرح عبدالعزیزصاحب کی بیوہ کا اس مکان میں براہِ راست تو کوئی حصہ نہیں بنتا، البتہ چونکہ اخلاق احمد اورعبدالعزیز کو (جو والد کی وفات کے وقت زندہ تھے) اس مکان میں حصہ ملنا ہے تو وہ حصہ ان کی وفات کی صورت میں ان کے بیوی بچوں کی طرف منتقل ہوگا، اس طرح بالواسطہ ان کا حصہ اس مکان میں بنتاہے،حصوں کی تفصیل آنے والی ٹیبل میں ملاحظہ فرمائیں۔
۴۔ صورتِ مسئولہ میں چونکہ چارلوگ یکے بعددیگرےفوت ہوئے ہیں اور ان میں سے بعض بعض کے وارث ہیں، لہذاموجودہ صورت میں مرحومین کے مال میں سے جن جن ورثاء کوجو جوحصہ ملے گا،آسانی کے لیے ذیل میں اس کاجدول ملاحظہ ہو۔
کل مال :100
|
دیگرتفصیل |
مورث اعلی سے رشتہ |
فیصدی حصص |
زندہ ورثہ |
نمبر شمار |
|
والد،بھائی عبدالعزیزاوروالدہ سے |
بیٹا |
17.60417% |
یعقوب احمد |
1 |
|
والد،بھائی عبدالعزیزاوروالدہ سے |
بیٹا |
17.60417% |
جمیل احمد |
2 |
|
والد،بھائی عبدالعزیزاوروالدہ سے |
بیٹا |
17.60417% |
مشتاق احمد |
3 |
|
والد،بھائی عبدالعزیزاوروالدہ سے |
بیٹا |
17.60417% |
شکیل احمد |
4 |
|
والد،بھائی عبدالعزیزاوروالدہ سے |
بیٹی |
8.802084% |
شمیم اختر |
5 |
|
والد،بھائی عبدالعزیزاوروالدہ سے |
بیٹی |
8.802084% |
بلیہ ناز |
6 |
|
شوہراخلاق احمدسے |
بہو |
1.5625% |
شاہینہ |
7 |
|
والد اخلاق احمد سے |
پوتا |
3.541667% |
طلال |
8 |
|
والد اخلاق احمد سے |
پوتی |
1.770833% |
قرة العین |
9 |
|
والد اخلاق احمد سے |
پوتی |
1.770833% |
ربیعہ |
10 |
|
والد اخلاق احمد سے |
پوتی |
1.770833% |
فرح |
11 |
|
شوہرعبدالعزیزسے |
بہو |
1.5625% |
زاہدہ |
12 |
|
|
|
100 |
ٹوٹل: |
|
واضح رہے کہ یکے بعد دیگرے ورثہ کے فوت ہونے کی صورت میں دوسری میت سے آخر تک کے اموات کوپہلی میت سے بھی ملتاہے اورعام طورپر فوت ہونے کے وقت ان کی ذاتی ملکیت میں بھی کچھ نہ کچھ مال ہوتاہے تو جب ان کا مال تقسیم ہوتوپہلی میت سے ملنے والے مال کے ساتھ اس کے دیگرذاتی اموال کو بھی ملایاجاتاہے جو بوقت موت ان کی ملکیت میں ہوتاہے لہذا مسئولہ صورت میں دوسری میت اخلاق احمد سے لیکر آخری میت آمنہ خاتون تک جتنے ورثہ فوت ہوئےہیں ، ان کی میراث تقسیم کرتے وقت دونوں مالوں(پہلی میت سے ملنے والااوراپنا) کو جمع کرلیا جائےگا،اورپھر کل مال جتنا بھی ہوجائے اس کوورثہ میں تقسیم کیاجائے گا، تقسیم کا طریقہ کار وہی ہوگاجو اوپر مذکورہوا ۔
حوالہ جات
صحيح البخاري لعبدالله البخاري (ج 2 / ص 135):
عن عائشة رضي الله عنها أنها أرادت أن تشتري بريرة للعتق وأراد مواليها أن يشترطوا ولاءها فذكرت عائشة للنبي صلى الله عليه وسلم فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم اشتريها فإنما الولاء لمن أعتق.
المحيط البرهاني لمحمود النجاري (ج 6 / ص 668):
والإرث إنما يجري فيما يبقى بعد الموت.
تكملة حاشية رد المحتار (ج 2 / ص 116):
الارث جبري لا يسقط بالاسقاط.
تكملة حاشية رد المحتار (ج 2 / ص 336):
كإرث لا يسقط بالاسقاط ا ه.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5 / 642):
(أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له (أو) أخرجوه (عن) تركة هي (ذهب بفضة) دفعوها له (أو) على العكس أو عن نقدين بهما (صح) في الكل صرفا للجنس بخلاف جنسه (قل) ما أعطوه (أو كثر) لكن بشرط التقابض فيما هو صرف.
الفتاوى الهندية (4 / 374):
ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب.
الدر المختار (كتاب القسمة، 260/6، ط: دار الفکر):
"(وقسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة وبطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) وفي الخانية: يقسم بطلب كل وعليه الفتوى، لكن المتون على الأول فعليها المعول"
مجلة الأحكام العدلية (206/1، المادة: 1075، ط: نور محمد)
كل واحد من الشركاء في شركة الملك أجنبي في حصة الآخر ولا يعتبر أحد وكيلا عن الآخر فلذلك لا يجوز تصرف أحدهما في حصة الآخر بدون إذنه.
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (7/ 4984دار الفكر – سوريَّة):
توزيع المال بعد الوفاة مقيّدٌ بنظام الإرث:ليس المرء حراً بالتصرف في ماله بعد وفاته حسبما يشاء كما هو مقرر في النظام الرأسمالي، وإنما هو مقيد بنظام الإرث الذي يعتبر في الإسلام من قواعد النظام الإلهي العام التي لا يجوز للأفراد الاتفاق على خلافها، فالإرث حق جبري، ولا يجوز الإيصاء بأكثر من ثلث المال، ولا يصح تفضيل بعض الورثة على حساب الآخرين، أو حرمان وارث أو الإضرار بالدائنين، وللسلطة القضائية الحق في إبطال التصرفات غير الشرعية في الإرث والوصية.
قال في الفتاوى الهندية:
وأما إذا كان في ورثة الميت الثاني من لم يكن وارثا للميت الأول فإنه تقسم تركة الميت الأول ، أولا ليتبين نصيب الثاني ثم تقسم تركة الميت الثاني بين ورثته الخ (ج:51,ص:412, المكتبة الشاملة)
قال في الفتاوى الهندية:
وهوأن يموت بعض الورثةقبل قسمة التركة كذا في محيط السرخسي وإذا مات الرجل ،ولم تقسم تركته حتى مات بعض ورثته ......فإن كانت ورثة الميت هم ورثة الميت الأول،ولا تغير في القسمة تقسم قسمة واحدة ؛ لأنه لا فائدة في تكرار القسمة بيانه إذا مات وترك بنين وبنات ثم مات أحد البنين أو إحدى البنات ولا وارث له سوى الإخوة والأخوات قسمت التركة بين الباقين على صفة واحدة للذكر مثل حظ الأنثيين فيكتفي بقسمة واحدة بينهم وأما إذا كان في ورثة الميت الثاني من لم يكن وارثا للميت الأول فإنه تقسم تركة الميت الأول ، أولا ليتبين نصيب الثاني ثم تقسم تركة الميت الثاني بين ورثته فإن كان يستقيم قسمة نصيبه بين ورثته من غير كسر فلا حاجة إلى الضرب." (ج:51,ص:412, المكتبة الشاملة)
قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ
وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ .........وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...... .. .. .. . } [النساء: 12, 11]
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
2/1/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


