03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح نامہ میں زمین اور مکان نام لکھنا
84236نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

نہایت ادب سے شرعی مسئلہ کی معلومات کرنا ہے،میر ہمشیرہ بیوہ ہوگئی ہے ،متوفی کے ہاں اولاد نہیں ہے،بیوہ کے حق مہر میں مبلغ ایک لاکھ روپے نکاح نامہ میں درج ہیں،جو کہ جیولری کی شکل میں ادا ہوچکے ہیں،اور حق مہر کے علاوہ آدھا مکان اور تین کنال زمین بطور تحفہ درج ہے،برائے کرم راہنمائی فرمائیں کہ بیوہ درج بالا پراپرٹی کی شرعی مالک ہے؟متوفی کی نہ کوئی اور بیوی ہے اور نہ کوئی اولاد ،متوفی کے تین بھائی اور بہنوں میں سےدو بھائی وفات پاچکے ہیں،نکاح نامہ کی فوٹوکاپی ساتھ لف ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔اپنی زندگی میں بطور تحفہ بیوی کے نام مکان اور زمین لکھناہبہ ہے،اور ہبہ میں قبضہ ضروری ہے،اس لیے  اگر شوہرنے قبضہ دیا ہے اس طور پر  کہ اس جائیداد سےاپنے تصرفات ختم کرکے ، اس کے تمام حقوق اور سارے متعلقہ امور سے دستبردار ہوکر بیوی کے حوالے کردی ہو تویہ جائیداد بیوی کی ملکیت میں آگئی ہے،اگر قبضہ نہ دیا ہو بلکہ فقط نام کردی ہو یا صرف زبانی بات کی ہوتو پھر یہ جائیداد بیوی کی ملکیت میں نہیں آئی ہے،لہذا وہ میراث کا حصہ بن کر ورثہ کے درمیان اپنے حصص کے مطابق تقسیم ہوگی۔

واضح رہے کہ درج بالا حکم اس صورت میں ہے کہ یہ مکان اور زمین بطور تحفہ لکھی گئی ہو،جبکہ  نکاح فارم میں مکان اور زمین کو مہر کے عوض میں لکھا گیا ہے، نکاح فارم کی عبارت یوں ہے:۔

"نمبر16:آیا پورے مہر یا اس کے کسی حصہ کے عوض میں کوئی جائیداد دی گئی ہے ،اگر دی گئی ہے تو اس جائیداد کی صراحت اور اس کی قیمت جو فریقین کے مابین طے پائی ہے۔"

اس کے جواب میں مکان کا کچھ حصہ اور 3کنال زمین سرکاری ریٹ پر لکھا گیا ہے۔

اس عبارت سے معلوم ہوتاہے کہ یہ مکان اور زمین بھی مہر کا حصہ ہے،اگر واقعتا ایسا ہی ہے تو پھر بطور مہر یہ مکان اور زمین بیوی کو دینا ضروری ہے،یہ اس کا حق ہے۔

2۔شوہر کی میراث میں بیوی کا 25 فیصد حصہ ہے،لہذا اوپر درج مکان اور زمین کے علاوہ بھی اگر شوہر کی میراث ہے  تو اس میں بیوی 25 فیصد کی حقدار ہوگی

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

03/محرم1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب