03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مقتدی کا امام کی تنخواہ کیلئے جمع ہونے والارقم ادانہ کرنے کی صورت میں اس کی نماز حکم
84212اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

اگر مقتدی صاحب ثروت ہو پنج وقت نمازوں کا اہتمام کرنے والا بھی ہو مسجد کی کمیٹی کا رکن بھی ہو امام کے لیے مقرر کردہ تنخواہ میں سے جو اس کے  ذمہ میں آتی ہے جیسا کہ دیگر حاضرین کے مثلا پانچ پانچ سو روپیہ ہر ماہ ادا کرنا امام کی تنخواہ کے لیے تو کیا اس پر یہ ادا کرنا لازم ہے ؟اگر ادا نہ کرے تو کیا اس سے اس کی نمازوں پر کوئی اثر پڑے گا ؟ برائے مہربانی مفصل جواب عنایت فرما ئیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے  کہ امام اور مقتدیوں کے درمیان  جو عقد ہوتا ہے  وه اجارے  کا ہوتا ہے ۔  لہذا ہر مقتدی کے ذمہ جتنے  روپے رکھے گئے ہیں ان کا ادا کرنا واجب ہوتا ہے ۔ اگر کوئی مقتدی یہ روپے ادا نہیں کرتا  تو اس کی وجہ سے وہ گنہگار ہو گا ۔ جہاں تک اس کی  نماز کا حکم ہے  تو تنخواہ نہ دینے کی وجہ سے اس کی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

حوالہ جات

صحيح البخاري (3/ 94):

حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن ابن ذكوان، عن الأعرج، عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مطل الغني ظلم، ومن أتبع على ملي فليتبع»

سنن ابن ماجه (2/ 817):

حدثنا العباس بن الوليد الدمشقي قال: حدثنا وهب بن سعيد بن عطية السلمي قال: حدثنا عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، عن أبيه، عن عبد الله بن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أعطوا الأجير أجره، قبل أن يجف عرقه».

مصنف ابن أبي شيبة (4/ 489):

حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع، قال: حدثنا سفيان، عن عبد الله بن ذكوان أبي الزناد، عن عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مطل الغني ظلم، ومن أحيل على مليء فليحتل».

: (1/562) حاشية ابن عابدين

"على أنَّ المُفتَى به : مذهب المتأخِّرين، من جواز الاستئجار على تعليم القرآن، والإمامة، والأذان؛ للضرورة"

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 69):

(وَالثَّانِي) وَهُوَ الْأَجِيرُ (الْخَاصُّ) وَيُسَمَّى أَجِيرَ وَحْدٍ (وَهُوَ مَنْ يَعْمَلُ لِوَاحِدٍ عَمَلًا مُؤَقَّتًا بِالتَّخْصِيصِ وَيَسْتَحِقُّ الْأَجْرَ بِتَسْلِيمِ نَفْسِهِ فِي الْمُدَّةِ وَإِنْ لَمْ يَعْمَلْ كَمَنْ اُسْتُؤْجِرَ شَهْرًا لِلْخِدْمَةِ أَوْ) شَهْرًا (لِرَعْيِ الْغَنَمِ) الْمُسَمَّى بِأَجْرٍ مُسَمًّى .

عطاء الر حمٰن

دارالافتاءجامعۃالرشید ،کراچی

02/محرم الحرام/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عطاء الرحمن بن یوسف خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب