| 84197 | خرید و فروخت کے احکام | بیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان |
سوال
سوال نمبر 1.
فاریکس ٹریڈنگ ایک ڈیجیٹل سسٹم ہے ۔سننے میں آ یا ہے کہ شریعت میں کاروبار یا بیع دو فریقین کےآپس کے لین دین کو کہتے ہیں، اس میں بیچتے وقت بائع کا مبیع پرقبضہ ہونا ضروری ہے اور بیع منعقد ہونے کے بعد اسے آگے فروخت کرنے سے پہلے مشتری کا مبیع پر قبضہ ہونا ضروری ہے۔ تو اب فاریکس ٹریڈنگ میں قبضہ کی صورت کیا ہوگی ؟مطلب ہم یہاں بیٹھے ہیں اور یو ایس اے ، یو کے ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہم کام کر رہے ہیں، تو اب ایک بات تو بڑی واضح ہے کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو کنفرم ہیں کہ یہ حرام ہے اور کچھ مشکوک ہیں کہ اس میں حرام ہو سکتا ہے، مثال کے طور پر کسی کمپنی کا کوئی شیئر ہے، جیسے USA کا SNP 500 ہے ، US 30 ہے ۔ اب ان کمپنیوں کی تفصیلات ہمیں نہیں پتا کہ اس میں سے کوئی شراب والی ہے، حرام والی ہے ،حلال والی ہے ۔ اس لیے ہم ان کی طرف تو جاتے ہی نہیں، صرف اور صرف ان پر جاتے ہیں جن کا ہمیں پتہ ہے، مثلا کموڈٹیز اور کرنسیز ہیں، جن کا ہمیں پتہ ہے کہ کموڈٹیز میں گولڈ تو گولڈ ہے، سلور تو سلور ہے اور کاپر تو کاپر ہے اور اسی طرح ویجیٹیبل میں جائیں تو سویابین تو سویابین ہے، تو جن چیزوں کا ہمیں پتاہے کہ ہم کیا ٹریڈ کر رہے ہیں، یہ بھی ہمیں پتا ہے اور اسی طرح کرنسی کا پتاہے کہ یہ یورو ہے ،یہ پاؤنڈ ہے، یہ جاپانی ین ہے، یہ سعودی ریال ہے ،یہ یو اے ای درہم ہے تو کرنسیز کا کام کرتے ہیں۔ ایک کام جس کے حلا ل و حرام ہونے کا ہمیں نہیں پتا،اس کو ہم کرتے ہی نہیں، اس لئے ان کے بارے میں سوال ہی نہیں لیکن جن کا پتہ ہے صرف ان کے بارے میں پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ گولڈبنانے والی کمپنی کوئی اور ہوتی ہے ،مائننگ والے کمپنی کوئی اور ہوتی ہے ،ان کمپنیز کے ساتھ بروکر کا ایگریمنٹ ہوتا ہے، ان کے ساتھ فیوچر کنٹریکٹ ہوتے ہیں ، مثلا جون تک یہ کنٹریکٹ ہے اور اس کے بعد یہ ختم ہو جائے گا تو ہمارا بروکر ہمارے قبضہ کا و کیل بن سکتا ہے ؟ کیونکہ ظاہر ہے اگر ہم یہاں سے ٹریڈ کر رہے ہیں تو اتنے دور سے اگر ہم اس کی کچھ پرافٹ کماتے بھی ہیں اور پرافٹ کی اماؤنٹ بھی اتنی نہیں ہوتی مثلا 200 ڈالر، 500 ڈالر پہ ہم شروع کرتے ہیں اور اس میں سے ہمیں 100 ڈالر بچا تو اگر وہ گولڈ ہم منگواتے ہیں یا وہ چیز فزیکلی منگواتے ہیں تو جو کمائی ہم نے کی ہے، وہ اخراجات کی شکل میں چلی جاتی ہے تو پھر اس میں بروکر کے ذریعے ہم کام کر لیتے ہیں تو وہ وہاں سے ہمیں چیز کے بدلے میں پیسے دے دے گا تو کیا یہ جائز ہے ؟
سوال نمبر 2.
فاریکس ٹریڈنگ کو ہم یہاں سے بیٹھ کے اس پر کام کرتے ہیں آرڈرز دیتے ہیں ،فاریکس کے بہت سارے پلیٹ فارم ہیں ۔یو ایس اے اور یورپ کی مارکیٹ کے اندرجو کمپنیز ہیں، وہ ہم سے ٹیسٹ لیتی ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ کام کریں مگر کا م فاریکس کا ہی ہوتا ہے ، اس میں بھی طریقہ کار وہی ہے جس پر اوپر بات ہو گئی کہ ہم جن چیزوں پر کام کرنا چاہتے ہیں، انہیں پر کرتے ہیں، ان کی طرف سے پابندی نہیں ہے کہ ہم کس پر کام کریں، وہ کہتے ہیں ہمیں پیسہ کما کر دیں ۔وہ ہم سے فیس لیتی ہیں اور اپنا ڈیمو اکاؤنٹ ہمیں دے دیتی ہیں، اس ڈیمو اکاؤنٹ کے اوپر ہم سے وہ امتحان لیتے ہیں ،اس کے دو ٹیسٹ ہیں، ان دونوں ٹیسٹس کو پاس کرنا ہوتا ہے اور ان کی باقاعدگی سے فیس ہوتی ہے ، جب دونوں ٹیسٹس ہم پاس کر لیتے ہیں تو وہ ہمیں لائیو اکاؤنٹ دے دیتےہیں ۔اس لائیو اکاؤنٹ کے اندر یہ ہے کہ ایک پرسنٹیج وہ ہمارے ساتھ رکھ لیتےہیں کہ اتنا پرسنٹ تمہیں ملے گا اور اتنا پرسنٹ ہم تم سے لیں گے ماہانہ یا ہفتہ وار یا جو بھی ایک ایگریمنٹ ہے اس کے ذریعے۔ اب اس میں انویسٹمنٹ ہماری نہیں ہے، البتہ فاریکس ٹریڈنگ کا امتحان پاس کر کے اس کو ہم لے لیں تو کیا یہ جائز ہے؟ اس کو فنڈڈ اکاؤنٹ کہتے ہیں انٹرنیشنل جو کمپنیاں ہیں ،وہ اس طرح سے کام کرتی ہیں۔
سوال نمبر 3.
ہم نے یہ کام لاکھوں روپے خرچ کر کے سیکھ لیا اور ان ڈالر میں انویسٹمنٹ کر کے سیکھ لیا اور ابھی اس لیول پرہم چلے گئے کہ الحمدللہ ثم الحمدللہ اب ہم اپنے کمائی کے وقت میں آگئے ہیں، اب ہم سگنل پرووائڈ کرنا چاہتے ہیں اسی فاریکس ٹریڈنگ کا ، مثال کے طور پر گولڈ ہے، تو ہمارے تجربہ کے مطابق اور فنڈامینٹل جو نیوز ہیں انٹرنیشنل جو گولڈ کے گولڈ کو اوپر نیچے لے کر جاتی ہیں، ان کی بھی ایجوکیشن ہم نے حاصل کر لی تو انٹرنیشنل علم حاصل کرنے کے بعد ہمیں یہ ائیڈیا ہوتا ہے کہ آج یا اس ہفتے میں گولڈ کس طرف جا رہا ہے، سیلنگ میں جائے گا یا بائنگ میں جائے گا؟ تو اس کو ہم شیئر کرتے ہیں، اس کو ہم سگنل پرووائیڈنگ کہیں گے ۔تو لوگ ہم سے کہتے ہیں کہ آپ ہم سے پیسے لے لیں جو بھی فیس لینی ہے اور ہمیں یہ سروسز مہیا کریں تو وہ لوگ نان مسلم بھی ہو سکتے ہیں ،مسلم بھی ہو سکتے ہیں، لیکن میرا سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم سگنل پرووائیڈنگ کر کے اس پر طے شدہ فیس لےسکتے ہیں؟
سوال نمبر 4.
انٹرنیشنل فاریکس یورپین ممالک کے اندر زیادہ ہے اور انہوں نے (مائننگ کمپنیوں نے) یا جو بھی کمپنیز ہیں، وہ کلائنٹ کو ڈھونڈتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کلائنٹس ملے اور وہ اس کلائنٹ کو ڈھونڈنے کے لیے وہ آپ کو موقع دیتے ہیں کہ اگر کوئی اچھا ایکسپیرینس فار یکس کو جاننے والا بندہ ہو تو ہمارے ساتھ پارٹنر شپ کر لے۔ پارٹنرشپ کے لیے پھر ان کا ایک معیا رہے جس پہ اترنا پڑتا ہے وہ ایسے ہر آدمی کو نہیں دیتے۔ اب اس میں مثال کے طور پر جو معیاران کا ہے ،اس پر ہم اتر جاتے ہیں ، مثلاوہ یہ پوچھتے ہیں کہ آپ کا ایکسپیرینس کیا ہے ؟ اس کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں ؟ جب یوں ہو جائے تو کیا ہوتا ہے؟ جب یوں ہو جائے تو کیا ہوتا ہے؟ یا کوئی ہمارا سوشل میڈیا پیج ہو یا کوئی سوشل میڈیا لنک ہو یا کوئی ڈگری ہو تو وہ پھر ہم سے مانگتے ہیں ہم ان سے شیئر کرتے ہیں کہ یہ ہمارا ایکسپیرینس ہے ۔ ان کو دیکھ کر وہ ہماری پاڑٹنر شپ کو قبول یا مسترد کرتے ہیں ۔پارٹنرشپ یہ ہے کہ وہ یہ کہتا ہے کہ آپ کو ہم ایک لنک جنریٹ کرتے ہیں، آپ ہمارے اس لنک کے ذریعے اپنے کسٹمر ہمیں لا کر دیں تو جتنے کسٹمر ہمارے لنک کے ذریعے جائیں گے، اس کے اندر وہ اکاؤنٹ اوپن کریں گے اور وہ جو ٹریڈنگ کریں گے بھلے وہ کیا کریں۔ ہمیں نہیں پتہ ہوتا ہے کہ وہ کیا ٹریڈ کر رہے ہیں۔ اب اس کے اوپر جو ٹریڈنگ ہو رہی ہے اس ٹریڈنگ کے اندر ہماری جو پرسنٹیج رکھتے ہیں وہ ہمیں مل رہا ہے جس کو آپ کمیشن بیس کہیں۔اس کے بارے میں بھی جاننا چاہ رہے تھے کہ کیا یہ حلال ہے ؟
سوال نمبر 5.
کیا اس کام کو سیکھنا اور پھر آگے لوگوں کو سکھانا جائز ہے ؟ جیسا کہ میرے بہت سارے جاننے والے لوگ ہیں جو کہ مجھ سے یہ کام سیکھنا چاہ رہے ہیں اور میں سکھانے کی فیس بھی لینا چاہ رہا ہوں اور وہ لوگ دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ تو کیا یہ کام کسی کو سکھا کر اس کے پیسے لینا جائز ہے؟ اور ظاہر سی بات ہے ہم سکھانے میں بھی صرف حلال کمیوٖڈٹیز کے اوپر جو گرافس بنتے ہیں یا جو دوسری ضروری چیزیں ہیں، وہ سکھاتے ہیں ۔ کیا اس کام کا سیکھنا یا سکھانا جائز ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کا اصولی جواب یہ ہے کہ کمیوڈیٹز اور کرنسیز میں آن لائن فاریکس ٹریڈنگ درج ذیل شرائط کےساتھ جائز ہے :
1. فاریکس ٹریڈنگ کی کمپنی متعلقہ ملک کے مجاز اور نگران ادارے کےپاس رجسٹرڈ ہو ۔واضح رہے کہ یہ بات اس ملک میں شرط ہوگی ،جس میں اس کا رجسٹرڈہونا قانونا لازمی ہو، بصورت دیگر فراڈ سے بچنے کےلیے اس کا اہتمام کرنا چاہیے، لازمی نہیں۔
2. اس کی لین دین حقیقی ہو ، صرف اکاونٹ میں ظاہر نہ کی جاتی ہو ۔
3. اسے بیچنے والا اس کا حقیقتا مالک ہو اور بیچنے سے پہلے اس پر قبضہ بھی کیا ہو ۔
4. ایک ملک کی کرنسیز اور سونے کا لین دین کرنے میں یہ بھی شرط ہےکہ عقد کی مجلس میں ہی کسی ایک کرنسی پر حقیقتا یا حکما قبضہ کر لیا جائے۔
5. بیع فوری ہو ، فیوچر یا فارورڈسیل نہ ہو۔
ہماری معلومات کےمطابق فاریکس ٹریڈنگ کےموجودہ ماڈل میں ان شرائط کا عملا خیال نہیں رکھا جاتا ،اس لیے اس سے احتراز لازم اور اس پر کام کرنا ناجائز ہے ، لہذا فنڈڈ اکاؤنٹ ، سگنل پروائیڈنگ ، کسٹمر لانے اور دوسروں کو سکھانےپر اجرت لینا بھی ناجائز ہے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم (النساء :(59:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ-فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 505):
وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم.
الدر المختار (5/ 179):
( باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز ) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز لما مر.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 256):
(وما لا تصح) إضافته (إلى المستقبل) عشرة (البيع، وإجازته، وفسخه، والقسمة والشركة والهبة والنكاح والرجعة والصلح عن مال والإبراء عن الدين) لأنها تمليكات للحال فلا تضاف للاستقبال كما لا تعلق بالشرط لما فيه من القمار.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 561):
ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح وكذا الهبة والصدقة.
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
04 /محرم/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


