03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کو سونا دینے کے بعد اس کی رضامندی کے بغیر واپس لینا
84216نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

ایک شخص نے کسی سے رشتہ مانگا تو انہوں نے یہ شرط لگائی کہ اگر آپ ہماری بیٹی کو سات تولہ سونا اور ایک لاکھ پچیس ہزار روپے کا گھر کا سامان خرید کر دوگے تو آپ ہماری بیٹی سے شادی کر سکتے ہیں۔ اس نے یہ شرط منظور کرلی اور یہ سب کچھ خریدا۔ جب شادی ہوئی تو شادی کے دوسرے دن شوہر نے اپنی بیوی سے کہا کہ اپنا سونا لے آئیں؛ تاکہ بیچ دوں۔ بیوی نے انکار کیا، شوہر نے بیوی کی رضامندی کے بغیر سونا لے لیا اور بیچ کر اپنا وہ قرض ادا کیا جو یہ سونا لینے کے لیے اس نے لیا تھا۔

سوال یہ ہے کہ اس طرح بیوی کی رضامندی کے بغیر سونا لینا جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں لڑکی والوں نے لڑکی کو جتنا سونا دینے کی شرط لگائی تھی (بطورِ مہر ہو یا بطورِ ہبہ) اور لڑکے نے اس کو مان کر اتنا سونا لڑکی کو دیدیا تھا اور اس سے نکاح کرلیا تھا تو وہ سونا لڑکی کی ملکیت میں داخل ہوگیا تھا، شادی کے بعد لڑکے کا اس کی دلی رضامندی کے بغیر اس سے یہ سونا واپس لینا اور بیچنا جائز نہیں، سخت حرام اور ناجائز تھا، اب اس پر لازم ہے کہ جلد از جلد اتنا ہی سونا دوبارہ بنا کر اپنی بیوی کو دیدے، اس کے ساتھ ساتھ اس سے معافی مانگے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی گڑ گڑا کر توبہ و استغفار کرے اور آئندہ ایسا کام نہ کرنے کا پکا عزم کرے۔ واضح رہے کہ صرف زبانی معافی مانگنا کافی نہیں، زبانی معافی مانگنا تب ہی معتبر ہوگا جب دوبارہ سونا بنا کر بیوی کے حوالے کردے۔

حوالہ جات

۔

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       4/محرم الحرام/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب