03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ضروری سرٹیفکیٹ کے بغیر ٹیوشن پڑھا کر پیسے کمانا
84210جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

         میں ایک یونیورسٹی کا طالب علم ہوں اور حال ہی میں میں نے پریپلائی (Preply) نامی  پلیٹ فارم پر آن لائن ٹیوشننگ کا آغاز کیا ہے۔  پروفائل بنانے کے لیے مجھے کچھ سرٹیفکیٹس کی ضرورت تھی، جو اس وقت میرے پاس نہیں تھے، تومیں نے ایک ویب سائٹ پر ایک کورس لیا اور ایک  ڈپلومہ کا نمونہ  حاصل کیا، جسے میں نے ایڈیٹ کرکے اپنا پروفائل بنانے کے لیے استعمال کیا۔ تاہم یہ ڈپلومہ  مفت نہیں تھا اور اس وقت میرے پاس اس کی ادائیگی کے لیے کافی رقم نہیں تھی۔ بعد میں جب میں نے ٹیوشننگ کے ذریعے کچھ پیسے کمائے، تو میں نے اصل سرٹیفکیٹ خرید لیا۔ اب مجھے یہ فکر ہے کہ جو کچھ میں نے کیا (جعلی سرٹیفکیٹ بناکر ٹیوشن پڑھایا)،وہ اخلاقی طور پر درست تھا یا نہیں؟ کیا مجھے وہ رقم عطیہ کر دینی چاہیے، جو میں نے سرٹیفکیٹ خریدنے سے پہلے کمائی تھی اور نئے سرے سے شروعات کرنی چاہیے؟ یا میرا ابتدائی عمل کوئی بڑی بات نہیں تھی؟ براہ کرم میرے شکوک کو دور کرنے میں میری مدد کریں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر مذکورہ  پلیٹ فارم پر ضروری اور مخصوص سرٹیفکیٹ کے بغیرٹیوشن  پڑھانے کی اجازت نہ ہو، تو دوسرے ذرائع سےمحض  ڈپلومہ کا نمونہ حاصل    کرکے  اس پر اپنے کوائف لکھ کر پروفائل بنانا اور پھر اسی پروفائل سے پڑھاکر کمانا ، شرعا دھوکہ دہی  اور جعل سازی ہے، اس سے بہرصورت بچنا ضروری ہے، لیکن اس کے باوجود اگرآپ میں  مذکورہ پلیٹ فارم کے معیار کے مطابق مطلوبہ صلاحیت  اور اہلیت تھی اورآپ نے دیانتداری سے اپنا کام بھی سرانجام دیا تھا، تو  ایسی صورت میں اب تک ٹیوشن پڑھانے کے نتیجے میں جتنی کمائی کی ہے، اس کا لینا آپ کے لیے جائز ہے، حرام نہیں ، اس لیے کہ یہ اجرت کام کے بدلے میں ملی ہے، البتہ جعل سازی اور غلط بیانی کا گنا ہ ہوا ، جس پر استغفار کریں ۔

حوالہ جات

        رد المحتار" (3/ 156):

"والأجرة إنما تكون في مقابلة العمل"

      الاختيار لتعليل المختار (2/ 55):

والأجرة تستحق باستيفاء المعقود عليه، أو باشتراط التعجيل أو بتعجيلها، وإذا تسلم العين المستأجرة فعليه الأجرة وإن لم ينتفع بها..... فإذا استوفى المعقود عليه استحق الأجرة عملا بالمساواة، وإذا اشترط التعجيل أو عجلها فقد رضي بإسقاط حقه في التأجيل فيسقط.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 106):

قال - رحمه الله - (والأجرة لا تملك بالعقد بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن منه).....قال في الهداية الأجرة لا تجب بالعقد وتستحق بإحدى معان ثلاث إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل من غير شرط أو باستيفاء المعقود عليه اهـ.

صفی اللہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

04/محرم الحرام /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صفی اللہ بن رحمت اللہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب