03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چار سو سال گزرنے کے بعدزمین کا دعوی کرنا
84247دعوی گواہی کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

ہمارے علاقے میں زمانہ قدیم سے یہ سلسلہ چلتا آرہا تھا، حالانکہ یہ سلسلہ ابھی مفقود ہو چکا ہے اور وہ یہ کہ لوگ مسجد کے امام کو بطور اجرت یا عوض کوئی زمین حوالہ کر دیاکرتے تھے ، جس کو ہمارے علاقے میں (سیری) کہتے ہیں، جس سے امام صاحب کھیتی باڑی کے ذریعے اپنی زندگی بسر کرتے تھے،ا بھی ہوا یہ کہ ہمارے علاقے میں کچھ علمائے کرام جن کے پاس مسجد کی سیری ہے جس پر تقریباً94 سال سے نسل در نسل امامت کرتے چلے آرہے ہیں، ابھی علاقے کے کچھ لوگ اٹھتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ یہ زمین ہماری ہے اور ہم سے یہ زمین400 سال پہلے زبردستی چھینی گئی ہے ، ان کے پاس نہ کوئی ثبوت اور نہ کوئی دلیل ہے ، بس پوچھنا یہ چاہتا ہوں، کہ کیا ان کا یہ دعوی شرعاً قابل قبول ہے ، اگر نہیں تو اس پر شریعت اسلامی کے حوالہ جات اور دلائل سے ہمیں آگاہ فرمائیں۔

وضاحت: سائل نےبتایا کہ یہ زمین مسجد کے امام کے لیے خاص کی گئی ہے، جو بھی پیش امام ہوتا ہے اس کو اس کی امامت کے عوض اس زمین کے استعمال کا حق حاصل ہوتا ہے، تاکہ اس میں کھیتی باڑی کر کے اپنا روزگار چلا سکے، البتہ یہ زمین ملکیتا نہیں دی جاتی، بلکہ امام کے فوت ہونے یا تبدیل ہونے کے بعد زمین واپس لے کر دوسرے مقررہ امام کے سپرد کر دی جاتی ہے، البتہ اگر نیا امام سابقہ امام کا بیٹا ہو تو پھر اسی کے پاس چھوڑ دی جاتی ہے۔باقی اس کا علم نہیں کہ یہ زمین مسجد کے لیے وقف ہوتی ہے یا نہیں؟ کیونکہ معاملہ بہت پرانا ہو چکا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اگر واقعتاً مذکورہ علمائے کرام کے پاس چورانے (94) سال سے مسجد کی سیری(کھیتی باڑی کا حق) ہے اور وہ نسل در نسل اسی وقت سے اس زمین پر کھیتی باڑی کرتے چلے آرہے ہیں تو اس صورت میں انہی علمائے کرام کو ہی مذکورہ زمین کی سیری کا حق حاصل ہے، اب علاقے کے بعض لوگوں کا بغیر کسی ثبوت کے یہ دعوی کرنا کہ چار سوسال قبل ہم سے یہ زمین زبردستی چھینی گئی ہے، درست نہیں، نیز اگر ان لوگوں کے پاس ثبوت بھی ہی تو بھی ان کا دعوی نہیں سنا جائے گا، کیونکہ لوگوں کے ذاتی معاملات میں پندرہ سال گزر جانے کے بعد اور وقف کے معاملات میں زیادہ سے زیادہ چھتیس سال کے بعد کسی شخص کا اپنے حق کا دعوی کرنا معتبر نہیں ہوتا، اس لیے صورتِ مسئولہ میں ان لوگوں کا یہ دعوی غیر معتبر ہے اور انہی علمائے کرام کو اس زمین کی سیری کا حق حاصل ہے جن کے پاس عرصہ دراز سے یہ زمین نسل در نسل چلی آرہی ہے۔  

البتہ سوال میں تصریح کے مطابق چونکہ یہ زمین ملکیتا نہیں دی جاتی، بلکہ امامت کا فريضہ انجام دینے کے عوض اس زمین میں کاشت کاری وغیرہ کے لیے استعمال کرنے کا حق دیا جاتا ہے، لہذا یہ زمین مذکورہ علمائے کرام کے پاس اسی وقت تک رہے گی جب تک وہ امامت کا فريضہ انجام دیں اور اگر وہ یہ فريضہ انجام دینا چھوڑ دیں تو اس صورت میں یہ زمین واپس کرنا ضروری ہو گا، لیکن اگر یہ زمین ملکیتا دی گئی ہو، جیسا بعض علاقوں کا عرف تو ایسی صورت میں یہ زمین واپس کرنا ضروری نہیں ہو گا، بلکہ یہ زمین امام کی وراثت شمار ہو گی۔

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 333) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

     المادة (1660) لا تسمع الدعاوى غير العائدة لأصل الوقف   أو للعموم كالدين الوديعة والعقار الملك والميراثوالمقاطعة في العقارات الموقوفة أو التصرف بالإجارتين والتولية المشروطة والغلة بعد تركها خمس عشرة سنة.

مجلة الأحكام العدلية (ص: 334) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

المادة (1661) تسمع دعوى المتولي والمرتزقة في حق أصل الوقف إلى ست وثلاثين سنة ولا تسمع بعد مرور ست وثلاثين سنة مثلا إذا تصرف أحد في عقار على وجه الملكية ستا وثلاثين سنة ثم ادعى متولي وقف قائلا: إن ذلك العقار هو من مستغلات وقفي فلا تسمع دعواه.

 مجلة الأحكام العدلية (ص: 336) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

المادة (1669) إذا ترك أحد الدعوى بلا عذر على الوجه الآنف ووجد مرور الزمن فكما لا تسمع الدعوى في حياته لا تسمع من ورثته بعد مماته أيضا.

محمد نعمان خالد

  دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

   7/محرم الحرام 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب