| 84164 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک عورت فوت ہوئی، جس کی ایک بہن ہے، دو بھائی تھے، وہ بھی وفات پا چکے ہیں، البتہ دونوں بھائیوں کی اولادیں موجود ہیں، ایک بھائی کے دو بیٹے اور دوسرے بھائی کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، مرحومہ کے اصول وفروع وغیرہ سب وفات پا چکے ہیں، سوال یہ ہے کہ ترکہ کیسے تقسیم ہو گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومہ نےبوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا، چاندی، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے،ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس میں سے آدھا حصہ بہن کو دینے کے بعد باقی ترکہ کو مرحومہ کے بھتیجوں میں برابرتقسیم کر دیا جائے، باقی مرحومہ کی بھتیجیوں کو وراثت میں شرعاً حصہ نہیں ملے گا، کیونکہ عصبہ ورثاء میں بھتیجوں کے ساتھ بھتیجیاں وارث نہیں ہوتی،تقسیم ِ میراث کا نقشہ یہ ہے:
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بہن |
2 |
50% |
|
2 |
بھائی |
1 |
25% |
|
3 |
بھائی |
1 |
25% |
حوالہ جات
السراجية في الميراث (1/ 24) مكتبة المدينة، كراتشي، باكستان:
وأما للأخوات لأب وأم فأحوال خمس: النصف للواحدة، والثلثان للاثنتين فصاعدة، ومع الأخ لأب وأم للذكر مثل حظ الأنثيين يصرن به عصبة لاستوائهم في القرابة إلى الميت.
السراجية في الميراث (1/ 29) مكتبة المدينة، كراتشي، باكستان:
لعصبات النسبية ثلاثة: عصبة بنفسه، وعصبة بغيره، وعصبة مع غيره............ وإن علا، ثم جزء أبيه أي: الإخوة، ثم بنوهم وإن سفلوا، ثم جزء جده.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
7/محرم الحرام 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


