| 84240 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
سوال:السلام علیکم
مفتی صاحب میرےوالدصاحب نے15سال قبل مکان میرےنام گفٹ کرکےرجسٹرارآفس میں جاکر سارےکاغذات بنوادیےتھے،اورمجھے مکمل قبضہ اوراختیار دےدیاتھا،جومیں اکلوتابیٹاتھااور میرےآٹھ بچےہیں۔
جب میری والدہ صاحبہ کاانتقال ہواتھااس وقت بہن گھرکےکپڑے،برتن ،بستر ،چارپائی ،قرآن شریف ،دینی کتابیں وغیرہ اورسوناسب لےگئی تھی،اس وقت میرےوالدصاحب کاسامان کچھ بھی نہیں تھا،میرےابوجان ،امی جان سب کےسامنےیہی کہتےتھےکہ مکان تومیرےاکلوتےبیٹےکاہے،کیونکہ میں ایمانداری سےسارے پیسےکماکروالدصاحب اور والدہ صاحبہ کو دےدتیاتھا،اس وقت میں اچھاخاصاکماتاتھا،میری شادی بھی ہوگئی تھی،میری شادی پرابو امی نےنہ کارڈ چھپوائے،نہ ولیمہ کیااورمیری بیوی کوتقریبا دوتولہ سونا دیناتھاوہ بھی نہیں دیا،بس یہی کہتےتھےکہ یہ گھرتیراہےاورمحلےکےافرادمولوی مفتی سب کےسامنےیہی کہاتھاکہ یہ گھرمیرےبیٹے کاہےاوریہ مکان میرےوالدصاحب نےمرنےچندمہینےقبل میرےنام گفٹ کرکےمیرےنام کاغذات بنوادیےتھےاورمجھےمکمل اختیاردےدیاتھااوریہ کہاتھاکہ آپ کوبعدمیں پریشانی نہ ہو،ان کویہ سب معوم تھا،میرےوالدصاحب کےپیرمیں فریکچرہوگیاتھا،ٹانگ ٹوٹ گئی تھی،بہن ہسپتال دیکھنےبھی نہیں آئی تھی،اورمیں گھرمیں میرےوالدصاحب کی دیکھ بھال کرتاتھا،اورمیری بیوی خیال رکھتی تھی کیونکہ وہ میرےسواکہیں بھی نہیں جاسکی تھی،اوردیکھ بھال ہم خود کررہےتھے۔برائےمہربانی میرےمسئلےکاحل بتائیں ،آپ کی عین نوازش ہوگی ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اگروالدکی طرف سےقبضہ واقعتادیاگیاتھا، جیساکہ سوال میں مذکورہے”والدنےمجھےمکمل قبضہ اوراختیاردےدیاتھا “توقبضہ مکمل ہونےکی وجہ سےہبہ بھی مکمل ہوگیاہے،لہذایہ مکان صرف بیٹےکاذاتی ہوگا،اس میں میراث جاری نہ ہوگی،کیونکہ زندگی میں والدکی طرف سےبیٹےیابیٹی کو جو کچھ دیاجاتاہےوہ ہبہ ہوتاہے،اورہبہ کےشرعامکمل ہونےکےلیےقبضہ ضروری ہے۔
حوالہ جات
"شرح المجلۃ"1 /462:
وتتم(الھبۃ)بالقبض الکامل لأنہامن التبرعات والتبرع لایتم الابالقبض الکامل ۔
"شرح المجلۃ" 1 / 473 :
سویملک الموھوب لہ الموھوب بالقبض فالقبض شرط لثبوت الملک ۔
"المبسوط للسرخسي"12 / 83:
ثم الملك لا يثبت في الهبة بالعقد قبل القبض عندنا۔۔۔۔وحجتنا في ذلك ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم: "لا تجوز الهبة إلا مقبوضة" معناه لا يثبت الحكم وهو الملك إذ الجواز ثابت قبل القبض بالاتفاق والصحابة رضوان الله عليهم اتفقوا على هذا فقد ذكر أقاويلهم في الكتاب ولأن هذا عقد تبرع فلا يثبت الملك فيه بمجرد القبول كالوصية۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
07/محرم الحرام1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


