| 84238 | حدود و تعزیرات کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
زنا کی تعریف اور اس کے اوپر جو حد جاری ہوتی ہے، کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زنا کی تعریف فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالی نے قرآن وسنت کی نصوص کی روشنی میں یہ بیان فرمائی ہے کہ" دارالاسلام میں کسی مکلف یعنی عاقل وبالغ اورقوت گویائی رکھنے والے کا اپنے اختیار سےحشفہ کے بقدر اپنے آلہ تناسل کو کسی قابل شہوت(چاہے فی الحال ہویاکبھی رہی ہو اور اب بوڑھی ہوچکی ہو) عورت جو اس کی ملک نکاح وغلامی اور اس کے شبہ سے خالی ہو اس کے آگے کی راہ میں داخل کرنا یا مرد کا مذکورہ عورت کو ایسا کرنے کی قدرت دینا یاایسی عورت کا اپنے اختیار سے مرد کو اپنے ساتھ ایسا فعل کرنے کی قدرت دینا" ۔یہ موجب حدشرعی زنا کی تعریف ہے۔
غیر شادی شدہ زنا کرنے والےمرداورعورت کی سزاسوکوڑے ہیں،جبکہ شادی شدہ زنا کرنے والے کی سزا سنگساری کی موت ہے۔
حوالہ جات
رد المحتار - (ج 14 / ص 496):
والزنا الموجب للحد ( وطء ) وهو إدخال قدر حشفة من ذكر ( مكلف ) خرج الصبي والمعتوه ( ناطق ) خرج وطء الأخرس ، فلا حد عليه مطلقا للشبهة .
وأما الأعمى فيحد للزنا بالإقرار لا بالبرهان شرح وهبانية ( طائع في قبل مشتهاة ) حالا أو ماضيا خرج المكره والدبر ونحو الصغيرة ( خال عن ملكه ) أي ملك الواطئ ( وشبهته ) أي في المحل لا في الفعل ، ذكره ابن الكمال ؛ وزاد الكمال ( في دار الإسلام ) لأنه لا حد بالزنا في دار الحرب ( أو تمكينه من ذلك ) بأن استلقى فقعدت على ذكره فإنهما يحدان لوجود التمكين ( أو تمكينها ) فإن فعلها ليس وطئا بل تمكين فتم التعريف ، وزاد في المحيط : العلم بالتحريم ، فلو لم يعلم لم يحد للشبهة .
ورده في فتح القدير بحرمته في كل ملة .
رد المحتار - (ج 14 / ص 497):
( قوله الموجب للحد ) قيد به ؛ لأن الزنا في اللغة والشرع بمعنى واحد ، وهو وطء الرجل المرأة في القبل في غير الملك وشبهته ، فإن الشرع لم يخص اسم الزنا بما يوجب الحد بل بما هو أعم ، والموجب للحد بعض أنواعه .
ولو وطيء جارية ابنه لا يحد للزنا ولا يحد قاذفه بالزنا ، فدل على أن فعله زنا وإن كان لا يحد به ، وتمامه في الفتح .
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۳محرم۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


