03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کرسی پر نماز کاحکم
84276نماز کا بیاننماز کےمتفرق مسائل

سوال

نماز میں کرسی کا استعمال کس کے لیے جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جوشخص سجدہ ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، اس کے لیے رکوع اور سجدہ، اشارے سے ادا کرنے کی گنجائش ہے،اورایسے شخص کےلیےقیام کی حالت میں اشارے سے رکوع اور سجدہ کرنا بھی جائز ہے اور زمین پر بیٹھ کر بھی،لیکن زمین پر  بیٹھ کر اشارے سےرکوع اور سجدہ کرنا زیادہ  بہتر ہے،کیونکہ بیٹھنے کی حالت سجدے کے زیادہ قریب ہے،تا ہم اگر زمین پربیٹھنے سے بھی عذر مانع ہوتوکرسی پر بیٹھ کر اشارے سے رکوع ،سجدہ کرنا بھی جائز ہے،البتہ اگر ایساشخص سجدےپرعدم قدرت کےساتھ قیام پرقادر ہوتو راجح قول کےمطابق اس کےلیے قیام ضروری ہے،پھراگر قیام و رکوع دونوں پر قادر ہےتودونوں کھڑےہوکرادا کرےاوراگررکوع یا صرف قیام پر قادر ہے اور سجدے پر قادر نہیں تو جس رکن کی ادائیگی پر قادر ہےیعنی قیام،اس کو اپنی اصل کے مطابق ادا کرے اوررکوع و سجدہ  دونوں اشارے سے کرلے۔

یاد رہےکہ   کسی قابلِ برداشت معمولی درد یا کسی موہوم تکلیف کی وجہ سے فرض نماز میں قیام کو ترک کردینا اور کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز  نہیں، زمین پر سجدہ کرنے اور قیام پر قدرت ہونے کی صورت میں اگر فرض و واجب نماز میں قیام ترک کیا تو نماز ادا نہیں ہوگی،چنانچہ اگر کوئی فرض نماز  میں مکمل قیام پر قادر نہ ہو، لیکن کچھ دیر کھڑا ہو سکتا ہو تو فقہاء نے یہاں تک لکھا ہے کہ ایسے شخص کے لیے بھی اتنی دیر کھڑا ہونا فرض ہے،جس کی وہ قدرت رکھتا ہو اگرچہ اُسے اتنے قیام کے لیے کسی چیز کا سہارا لینا پڑے، اس کے بعد وہ بقیہ نماز بیٹھ کر پڑھ سکتاہے۔

اسی طرح جو شخص قیام پر تو قادر نہیں، لیکن زمین پر بیٹھ کر سجدہ کرنے پر قادر ہے تو اس کے لیے بھی اشارے سے سجدہ کرنا جائز نہیں،ایسے شخص کے لیے حکم یہ ہے کہ زمین پر بیٹھ کر باقاعدہ سجدےکے ساتھ نماز ادا کرے،صرف اشارے سے سجدہ کرنا کافی نہیں ہوگا،اگر بیٹھ نہ سکے اور سجدہ کرسکے تو کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھے،لیکن سجدے کے ساتھ نماز پڑھے ،سجدے کے لیے ایسی صورت میں اشارہ کرنا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 95)

(من تعذر عليه القيام) أي كله (لمرض) حقيقي وحده أن يلحقه بالقيام ضرر به يفتى قبلها أو فيها) أي الفريضة (أو) حكمي بأن (خاف زيادته أو بطء برئه بقيامه أو دوران رأسه أو وجد لقيامه ألما شديدا) أو كان لو صلى قائما سلس بوله أو تعذر عليه الصوم كما مر (صلى قاعدا) ولو مستندا إلى وسادةأو إنسان فإنه يلزمه ذلك على المختار (كيف شاء) على المذهب لأن المرض أسقط عنه الأركان فالهيئات أولى. وقال زفر: كالمتشهد، قيل وبه يفتى (بركوع وسجود وإن قدر على بعض القيام) ولو متكئا على عصا أو حائط (قام) لزوما بقدر ما يقدر ولو قدر آية أو تكبيرة على المذهب لأن البعض معتبر بالكل (وإن تعذرا) ليس تعذرهما شرطا بل تعذر السجود كاف (لا القيام أومأ)بالهمز (قاعدا) وهو أفضل من الإيماء قائما لقربه من الأرض (ويجعل سجوده أخفض من ركوعه) لزوما.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 97)

(قوله على المذهب) في شرح الحلواني نقلا عن الهندواني: لو قدر على بعض القيام دون تمامه، أو كان يقدر على القيام لبعض القراءة دون تمامها يؤمر بأن يكبر قائما ويقرأ ما قدر عليه ثم يقعد إن عجز وهو المذهب الصحيح لا يروى خلافه عن أصحابنا؛ ولو ترك هذا خفت أن لا تجوز صلاته. وفي شرح القاضي: فإن عجز عن القيام مستويا قالوا يقوم متكئا لا يجزيه إلا ذلك، وكذا لو عجز عن القعود مستويا قالوا يقعد متكئا لا يجزيه إلا ذلك، فقال عن شرح التمرتاشي ونحوه في العناية بزيادة: وكذلك لو قدر أن يعتمد على عصا أو كان له خادم لو اتكأ عليه قدر على القيام اهـ (قوله لأن البعض معتبر بالكل) أي إن حكم البعض كحكم الكل، بمعنى أن من قدر على كل القيام يلزمه فكذا من قدر على بعضه.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 97)

(قوله بل تعذر السجود كاف) نقله في البحر عن البدائع وغيرها. وفي الذخيرة: رجل بحلقه خراج إن سجد سال وهو قادر على الركوع والقيام والقراءة يصلي قاعدا يومئ؛ ولو صلى قائما بركوع وقعد وأومأ بالسجود أجزأه، والأول أفضل لأن القيام والركوع لم يشرعا قربة بنفسهما، بل ليكونا وسيلتين إلى السجود. اهـ. قال في البحر: ولم أر ما إذا تعذر الركوع دون السجود غير واقع اهـ أي لأنه متى عجز عن الركوع عجز عن السجود نهر. قال ح: أقول على فرض تصوره ينبغي أن لا يسقط لأن الركوع وسيلة إليه ولا يسقط المقصود عند تعذر الوسيلة، كما لم يسقط الركوع والسجود عند تعذر القيام.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

         ۱۱.محرم۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب