03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وراثتی مکان کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ
84328میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے نانا صاحب کا انتقال ہوا ہے اور ان کے پسماندگان میں 6 بیٹے، 1 بیٹی، اور ایک بیوہ شامل ہیں، وراثت کی جائیداد 12,000,000 روپے میں فروخت ہوئی ہے, یہ وراثت کیسے تقسیم ہو گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم نےبوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا، چاندی، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے،ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز  وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس میں سے آٹھواں حصہ مرحوم کی بیوہ کو دینے کے بعد باقی مال کو بیٹے اور بیٹیوں کے درمیان اس طرح تقسیم کر دیا جائے کہ ہر بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگنا حصہ دیا جائے۔ لہذا پیچھے ذکر کیے گئے میت سے متعلق تین حقوق ادا کرنے کے بعد باقی ترکہ کو ایک سو چار (104) حصوں میں برابر تقسيم كر كے مرحوم  کی بیوہ کو تیرا (13) حصے، ہربیٹے کو چودہ (14) حصے اور ہربیٹی کو سات (7) حصے دے دیئے جائیں، تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیوہ

13

12.5%

2

بیٹا

14

13.461%

3

بیٹا

14

13.461%

4

بیٹا

14

13.461%

5

بیٹا

14

13.461%

6

بیٹا

14

13.461%

7

بیٹا

14

13.461%

8

بیٹی

7

6.730%

 

حوالہ جات

القرآن الكريم: [النساء: 12]

{وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ} فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ .

السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:

وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

16/محرم الحرام 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب