| 83610 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
ایک شخص زکاۃ کے نصاب کا مالک نہیں ہے، کیاوہ زکاۃ لے سکتا ہے؟کیا مفتیان عظام، علماء کرام، ائمہ مساجد، قراء عظام زکاۃ لے سکتے ہیں ؟ اگرچہ وہ صاحب نصاب نہ ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت نے زکاۃ کے دو معیار رکھے ہیں۔ایک معیار زکاۃ کی فرضیت کے لیے ہے۔وہ صاحب نصاب ہونا ہے یعنی جس شخص کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے بقدر سونا ،چاندی،نقدی یا مال تجارت ہو تو اس پر زکاۃ کی ادائیگی فرض ہے۔اور ایسا شخص زکاۃ وصول نہیں کر سکتا۔
دوسرا معیار زکاۃ کی وصولی جائز ہونے کے لیے ہے۔جس شخص کے پاس مذکورہ چار اشیاء کے ساتھ ضرورت سے زائد سامان شامل کر کے مجموعی قیمت نصاب کے بقدر یعنی ساڑھےباون تولے چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو وہ زکاۃ وصول نہیں کر سکتا ۔اور جس شخص کے چار اموال زکاۃ اور ضرورت سے زائد سامان ملا کر بھی مجموعہ نصاب کے بقدر نہ ہو تو ایسا شخص زکاۃ وصول کر سکتا ہے۔لہذا جس شخص کے پاس نصاب کے بقدر اموال زکاۃ اور ضرورت سے زائد سامان بھی نہیں تو چاہے وہ زندگی کے جس شعبے سے بھی وابستہ ہو وہ مستحق زکاۃ ہے۔اس میں مفتیان،علماء اور قراء کی کوئی تخصیص و تعیین نہیں۔یعنی یہ لوگ بھی اگر مستحق ہوں تو زکاۃ لے سکتے ہیں۔
حوالہ جات
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى:لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا إلا إلى طالب العلم والغازي ومنقطع الحج.( رد المحتار:2/ 340)
قال العلامة الحداد رحمه الله تعالى:فالفقير من له أدنى شيء والمسكين من لا شيء له) قال في الينابيع الفقير هو الذي لا يسأل الناس ولا يطوف على الأبواب والمسكين هو الذي يسأل الناس ويطوف على الأبواب فإن قيل البداءة بالفقراء دليل على أنهم أحوج قلنا إنما بدأ بهم لأنهم لا يسألون فالاهتمام بهم مقدم على من يسأل وهذا الخلاف لا يظهر له فائدة في الزكاة لأنه يجوز الدفع إلى جميعهم.
(الجوهرة النيرة:1/ 128)
قال العلامة الحلبي رحمه الله تعالى:الفقير: وهو الذي يملك شيئاً قليلاً لا يكفيه؛ أي الذي يملك ما لا يبلغ نصاباً، أو يملك نصاباً غير نامٍ مُسْتَغْرَقَاً في حوائجه (كثمن داره التي يسكنها، أو مصروفه) ولو كان صحيحاً مكتسباً. أما إن كان يملك نصاباً غير نامٍ غير مستهلكٍ فلي حوائجه الأصلية فلا يجوز إعطاؤه من مال الزكاة ولا يجب عليه دفع الزكاة، بل تجب عليه صدقة الفطر والأضحية.(فقه العبادات :ص166)
قال العلامة الكاساني رحمه الله تعالى:وأما مقدار الواجب من هذا النصاب فما هو مقدار الواجب من نصاب الذهب والفضة وهو ربع العشر؛ لأن نصاب مال التجارة مقدر بقيمته من الذهب والفضة فكان الواجب فيه ما هو الواجب في الذهب والفضة وهو ربع العشر، ولقول النبي: صلى الله عليه وسلم "هاتوا ربع عشور أموالكم" من غير فصل.(بدائع الصنائع :2/ 21)
ہارون عبداللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
06 رمضان1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ہارون عبداللہ بن عزیز الحق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


