| 84350 | نماز کا بیان | قراءت کے واجب ہونے اور قراء ت میں غلطی کرنے کا بیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے آبائی علاقہ میں فقط تین مساجد ہیں،کثیر تعداد میں لوگ بریلوی ہیں،جبکہ اقلیت ہمارے دیوبندی حضرات کی ہے،تینوں مساجد کے امام لحن جلی کی غلطیاں کرتے ہیں،ان ائمہ کرام کی اقتداء میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟مذکورہ حالت میں دوسری الگ جماعت کرنا شرعا کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
امام صاحب کی قراءت کا فیصلہ ماہرِ فن یعنی ماہر مجود قاری ہی کر سکتا ہے، یہ عوام کاکام نہیں ہے،تاہم اس حوالے سے اصولی حکم یہ ہے کہ نماز کے دوران قراءت کرتے وقت تلفظ میں ایسی غلطی کرنا جس سے معنی میں بگاڑ نہ آئے، اس سے نماز فاسدنہیں ہوتی ، البتہ اگر تلفظ میں ایسی غلطی ہو جائے جس سے معنی بگڑ کر تبدیل ہو جائے تو اس کی دو صورتیں ہیں:
ا۔ غلطی ایسے دو حروف کے درمیان ہو جو قریب المخرج نہ ہوں یعنی ان کا تلفظ ایک دوسرے سے ملتا جلتا نہ ہو اوردونوں کے تلفظ کے درمیان فرق با آسانی ممکن ہو ، اس سے بالا تفاق نماز فاسد ہو جاتی ہے۔
۲- غلطی ایسے دو حروف کے درمیان ہو جو قریب المخرج ہوں یعنی ان کا تلفظ ایک دوسرے سے ملتا جلتاہو ، جیسے : سین اور صاد، زاء اور ظاء، تاء اور طاء وغیرہ، ایسی غلطی سے نماز کے فاسد ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں دوقول ہیں :۔
پہلا قول جو اکثر فقہاء کا ہے یہ ہے کہ ایسی غلطی سے نماز فاسد نہیں ہوتی، جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ اگر جان بوجھ کر ایسی غلطی کی تو نماز فاسد ہو جائے گی، لیکن اگر بلا قصد زبان سے غلط تلفظ نکل گیا یا ان حروف کے صحیح تلفظ کے ساتھ ادائیگی پر قدرت نہ ہونے کی وجہ سے ایک حرف کی جگہ دوسرا پڑھ دیا تو نماز فاسد نہیں ہوگی، یہ قول قاضی امام ابو حسن اور قاضی ابو عاصم کا ہے، پہلا قول اوسع ہے، جبکہ دوسرا قول احوط ہے ، دونوں پر عمل کی گنجائش ہے، البتہ نماز جیسی عبادت کے معاملے میں احتیاط پر عمل کرنا بہتر ہے۔
یہاں تک تو نماز کے فساد اور عدم فساد کی تفصیل ذکر کی گئی ، بقیہ ایسے شخص کو امام بنانا جو حروف کی صحیح تلفظ کے ساتھ ادا ئیگی پر قادر نہ ہو اور مقتدیوں میں صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنے والا موجود ہو ، درست نہیں،البتہ اگر اس مسجد میں اس سے بہتر کوئی نماز پڑھانے والا نہیں ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھتےہوئےمناسب انداز میں امام صاحب یا کسی ذمہ دار کو اچھے انداز میں صحیح مسئلہ بھی بتادیں، خصوصا ایسے علاقے میں جہاں آپ پہلے سے اقلیت میں ہیں۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية " (79/1):
" (ومنها) ذكر حرف مكان حرف إن ذكر حر فامكان حرف ولم يغير المعنى بأن قرأ إن المسلمون
إن الظالمون وما أشبه ذلك لم تفسد صلاته وإن غير المعنى فإن أمكن الفصل بين الحرفين من غير
مشقة كالطاء مع الصاد فقرأ الطالحات مكان الصالحات تفسد صلاته عند الكل وإن كان لا يمكن الفصل بين الحرفين إلا بمشقة كالظاء مع الضاد و الصادمع السين والطاء مع التاء اختلف المشايخ قال أكثر هم: لا تفسد صلاته . هكذا في فتاوی قاضی خان ،وكثير من المشايخ أفتوا به، قال القاضي الإمام أبو الحسن والقاضي الإمام أبو عاصم: إن تعمد فسدت وإن جرى على لسانه أو كان لا يعرف التميز لا تفسد وهو أعدل الأقاويل والمختار هكذا في الوجيز للكردري".
"الفتاوى الهندية " (86/1)
"ولا يجوز إمامة الألثغ الذي لا يقدر على التكلم ببعض الحروف إلا لمثله إذا لم يكن في القوم من يقدر على التكلم بتلك الحروف فأما إذا كان في القوم من يقدر على التكلم بها فسدت صلاته وصلاة القوم۔ "
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
20/محرم1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


