03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
علماء کی تحقیر کرنے کا حکم
83581علم کا بیانعلم اور علماء کی تعظیم کا بیان

سوال

 ایسے فرد کے بارے میں راہنمائی درکار ہے جو اپنے مرید کو اپنا جوتا دے اور وہ مرید اس جوتے سے اپنے سامنے موجود شخص کا جن اتارنے کا دعویٰ کرے اور پھر حق خطیب کی موجودگی اور تائید میں وہ مرید یہ الفاظ ادا کرے کہ ’’جو نام نہاد قسم کے مولوی اور پیر جنات کے نام پر آدھا آدھا گھنٹہ پڑھائیاں کرتے رہتے ہیں، تین تین دن کے وظائف بتاتے ہیں تو وہ سرکار(حق خطیب) کے جوتے کے برابر بھی نہیں ہیں۔ جو طاقت اللہ کے ولی کے جوتے میں ہے وہ نام نہاد کسی مولوی کے وظیفے میں نہیں ہے" اس دعوے، یہ دعویٰ کرنے والے شخص اور ساتھ کھڑے ہو کر تائید میں سر ہلانے والے اس خود ساختہ اللہ کے ولی کے بارے میں بھی آپ کی راہنمائی اور فتوی درکار ہے۔ مذکورہ ویڈیو کا لنک اور ویڈیو ساتھ ارسال کر رہا ہوں۔

https://www.youtube.com/watch?v=YD9uf0kICgE

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

علاج اور دم وغیرہ کے طریقے مختلف اور متعدد انواع کے ہو سکتے ہیں ،یوں بے جا کسی کو تنقید کا نشانہ بنانا اور حقارت آمیز انداز میں اپنی بڑائی بیان کرنا  تکبر کی علامت ہے ۔اس سے توبہ و اجتناب لازم ہے ۔اسی طرح بعض عالم کہلانے والے غلط کار بھی ہو سکتے ہیں،لیکن بے دھڑک تمام علماء کو برا بھلاکہنا  اور ان کی سر عام تحقیر کرنا انتہائی نا مناسب اور غلط ہے،اور اس سے ایمان ضائع  ہو جانے کا اندیشہ ہے،ایسے شخص کو توبہ کی تلقین کرنی چاہیے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن عابدین رحمه الله تعالى: فلو بطريق الحقارة كفر؛ لأن إهانة أهل العلم كفر على المختار.(رد المحتار     (4/ 72:

قال العلامۃ داماد آفندي رحمه الله تعالى : وفي البزازية: فالاستخفاف بالعلماء لكونهم علماء استخفاف بالعلم، والعلم صفة الله تعالى منحه فضلا على خيار عباده؛ ليدلوا خلقه على شريعته نيابة عن رسله ،فاستخفافه بهذا يعلم أنه إلى من يعود، فإن افتخر سلطان عادل بأنه ظل الله تعالى على خلقه يقول العلماء: بلطف الله اتصفنا بصفته بنفس العلم فكيف إذا اقترن به العمل الملك عليك لولا عدلك فأين المتصف بصفته من الذين إذا عدلوا لم يعدلوا عن ظله. والاستخفاف بالأشراف والعلماء كفر. ومن قال للعالم عويلم أو لعلوي عليوي قاصدا به الاستخفاف كفر .(مجمع الأنهر:1/ 695)

قال جمع من العلماء رحمه الله تعالى:في النصاب من أبغض عالما من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر، إذا قال لرجل مصلح: ديدا روى نزد من جنان است كه ديدار خوك يخاف عليه الكفر كذا في الخلاصة.ويخاف عليه الكفر إذا شتم عالما، أو فقيها من غير سبب، ويكفر بقوله لعالم ذكر الحمار في است علمك يريد علم الدين ،كذا في البحر الرائق. (الفتاوى الهندية:2/ 270)

ہارون  عبداللہ

  دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

29  شعبان1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ہارون عبداللہ بن عزیز الحق

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب