03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی دو بیٹوں اورتین بیٹیوں میں میراث کی شرعی تقسیم
84399میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا انتقال ہوا،اس کے ورثہ میں ایک بیوہ،دوبیٹے  اورتین بیٹیاں ہیں اوراس کا کل ترکہ 4ایکڑاور22 مرلہ زمین ہے، یہ ترکہ کس طرح  مذکورہ  بالا ورثہ  میں تقسیم ہوگا؟رہنمائی کی درخواست ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات ،قرض جس میں مرحوم کی بیوی کامہر بھی داخل ہے اگر زندگی میں اس کی ادائیگی نہ ہوئی ہواوروصیت(اگرکی ہو) کی علی الترتیب ادائیگی کے بعد اگر مرحوم کےانتقال کے وقت صرف یہی ورثاء ہوں جوسوال میں مذکورہیں تومذکورہ ترکہ درج بالا ورثہ میں ذیل طریقے سے تقسیم ہوگا۔

نمبرشمار

ورثہ

حصہ مرلوں میں

فیصدی حصہ

1

بیوی

82.75

12.5%

2

بیٹا

165.5

25%

3

بیٹا

165.5

25%

4

بیٹی

82.75

12.5%

5

بیٹی

82.75

12.5%

6

بیٹی

82.75

12.5%

 

ٹوٹل

 مرلہ662

100%

حوالہ جات

قال في كنز الدقائق :

"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..."  (ص:696, المكتبة الشاملة)

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ........ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...... }[النساء: 12, 11]

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

 20/1/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب