| 84391 | خرید و فروخت کے احکام | بیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان |
سوال
میں سونے کا کاروبار کرتا ہوں ،میں اکثر موبائل کے ذریعے سونا خریدتا ہوں کیونکہ بازار ہم سے 15 کلومیٹر دور ہے،پھر اگلے دن پیسے لیکر اس دوکاندار کو دیتا ہو ں جس سے ایک دن پہلے موبائل کے ذریعے سونا خریدا تھا ۔ کیاشریعت کے روسے یہ جائز ہے ؟اگر یہ ناجائز ہےتو کیا اسکا کوئی جائز طریقہ ہے ؟
دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہی سونا جس کو میں نے موبائل کے ذریعے خریدا تھا دوکاندار کو پیسے ادا کرنے اور قبضہ کرنے سے پہلے کیا میں اس کو آگے بھیج سکتا ہوں یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیا کوئی جائز صورت ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کرنسی نوٹ کے بدلے سونا یا چاندی خریدنے کے لیے شرط یہ ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک پر مجلس میں ہی قبضہ ہو جائے۔ مجلس سے مراد وہ گفتگو ہے جس میں لین دین کی بات ہو رہی ہو۔ چنانچہ اگر فریقین فون پر آپس میں خریداری کا معاملہ کر رہے ہیں تو یہ بھی مجلس شمار ہوگی۔صورتِ مسئولہ میں چونکہ دونوں چیزوں میں سے کسی ایک پر بھی دوسرے فریق کا قبضہ نہیں پایا جاتا،لہذا مذکورہ صورت جائز نہیں ہے۔ متبادل صورت یہ ہے کہ خریدنے کے بجائے ٖصرف خریدنے کاوعدہ کرے ،پھر اگلے روز جاکر وہی پر معاملہ کرکے اسی مجلس میں ایک عوض پر یا دونوں پرقبضہ کریں۔
دوسری صورت میں جب روپے کے بدلے سونا یاچاندی خریدنے کے جائز ہونے کی شرط (مجلس میں ایک عوض پر قبضہ)نہیں پائی گئی تو یہ معاملہ ناجائز ہوگیا ۔مزید یہ کہ کسی منقولی چیز(مثلاً سونا) کو خریدنے کے بعد اس پر قبضہ کئے بغیر آگے بیچنا بھی ناجائز ہے۔ اس کا متبادل یہ ہے کہ کسی شخص کو اسی بازار میں وکیل بناکر سونا قبضہ میں لینے کا کہے اور پیسے اگلے دن اداکرے،یا بیچنے والے کے کاؤنٹ میں پیسے ٹرانسفر کردے ،یا بیچنے والے کی طرف سے کوئی شخص اگر وکیل بنا ہے تو رقم اس کے حوالے کردیں ،ان تین صورتوں میں ایک صورت پرعمل کرنے کے بعد سونے کی خریداری جائز ہوگی،لیکن سونا آگے بیچنا قبضہ کے بعد ہی جائز ہوگا۔
حوالہ جات
فقه البیوع (2/702,703):
أما النسيئة في تبادل العملات المتجانسة، فقد ذكرنا أنها لا تجوز باتفاق الأئمة الحنفية، لا لكونه صرفاً، بل لأن الجنس بانفراده يحرم النسيئة، وإن لم يوجد القدر، أما تبادل العملات المختلفة الجنس، مثل: الربية الباكستانية بالريال السعودي، فقياس قول الإمام محمد ال أن تجوز فيه النسيئة أيضاً، لأن الفلوس وهي الأثمان الاصطلاحية) لو بیعت بخلاف جنسها من الأثمان، مثل الدراهم، فيجوز فيها التفاضل والتسيئة جميعاً، بشرط أن يُقبض أحد البدلين في المجلس، لئلا يؤدي إلى الافتراق عن دين بدين.وعلى هذا، فإنّه لا فرق بين الموقف الثاني والثالث في موضوع العملات الورقية أنها يجري فيها الربا، وتجب فيها الزكاة، وتتأدى بها، ويجوز أن تُصبح رأس مال في السلم، ولكن الفرق بين الموقفين إنما يتمحض في جواز النسيئة وعدمه، فلا تجوز النسيئة في الموقف الثاني، وتجوز في الموقف الثالث، بشرط أن تكون بسعر يوم العقد، وهذا الموقف الثالث هو الذي اخترته في رسالتي أحكام الأوراق النقدية».
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (ص: 169):
ثم إن هذه الأوراق النقدية، وإن كان لا يجوز فيها التفاضل، ولكن بيعها ليس بصرف، فلا يشترط فيه التقابض في مجلس العقد، نعم يشترط قبض أحد البدلين عند الإمام أبي حنيفة وأصحابه؛ لأن الفلوس عندهم لا تتعين بالتعيين، فلو افترقا دون أن يقبض أحد البدلين، لزم الافتراق عن دين بدين. وأما عند الأئمة الثلاثة فينبغي أن لا يشترط ذلك إن كان أحدالبدلين متعينا؛ لأن الأثمان تتعين بالتعيين عندهم .
وهل يجوز هذا البيع نسيئة؟ كما هو معمول به اليوم عند كثير من التجار وعامة الناس، أنهم يعطون عملة بلدهم، بشرط أن يؤدي الآخذ بدلها في شكل عملة بلد آخر بعد مدة، مثل أن يعطي زيد عمرا ألف ريال سعودي في المملكة السعودية، بشرط أن يؤدي عمرو بدلها أربعة آلاف ربية باكستانية في باكستان.
فأما عند الحنفية فيجوز هذا البيع؛ لأن الأثمان لا يشترط فيها كونها مملوكة للعاقد عند البيع عندهم، فيصح فيها التأجيل عند اختلاف الجنس، قال شمس الأئمة السرخسي رحمه الله: وإذا اشترى الرجل فلوسا بدراهم ونقد الثمن، ولم تكن الفلوس عند البائع، فالبيع جائز؛ لأن الفلوس الرائجة ثمن كالنقود. وقد بينا أن حكم العقد في الثمن وجوبها ووجودها معا، ولا يشترط قيامها في ملك بائعها لصحة العقد، كما لا يشترط ذلك في الدراهم والدنانير فصار البيع حينئذ بيعا بثمن مؤجل، وذلك جائز في الأجناس المختلفة.
عبدالعلی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
22/ محرم الحرام /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعلی بن عبدالمتین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


