03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شریعہ کمپلائنٹ (Shariah Compliant)کمپنی کے شئیر زخریدنے کے بعد نان شریعہ ہونے کی صورت میں اس کمپنی کےشئیرز سے حاصل شدہ نفع کا حکم
84382خرید و فروخت کے احکامشئیرزاور اسٹاک ایکسچینج کے مسائل

سوال

حضرت میں پاکستان اسٹاک ایکسچنج میں شیئرز کی خریدوفروخت کرتا ہوں،یہ بات واضح رہے کے میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ صرف KMI-30 انڈیکس میں ٹریڈنگ کروں جس میں صرف شریعہ کمپلائنٹ (Shariah Compliant) کمپنیاں شامل ہوتی ہیں،اسی کے متعلق میرا سوال مندرجہ ذیل ہے۔

میں نے ایک کمپنی کے شیئرز خریدے تھے، خریدنے کے وقت سے لے کر   ایک مہینے  کےبعد تک وہ کمپنی  Shariah Compliant تھی، اس کے بعد وہ کمپنی  Shariah Compliant  Non ہوئی،جس  کی وجہ سے میں نے وہ شیئرز بیچ دیے، بیچنے پر جو مجھے منافع ہوا ،کیا وہ میرے لیے جائز ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ شئیر ز کے خرید و فروخت کے لئے  جہاں دوسرے شرائط کا پایا جا ناضروری ہے وہاں ایک یہ شرط  بھی ہے کہ متعلقہ کمپنی کی آمدن شریعہ کمپلائنٹ ہو  یعنی  اس کی سودی یا حرام  آمدن کاریشیو  پانچ فیصد سے کم ہو،اگر اس سے زیادہ ہو جائے تو وہ  کمپنی   KMI-30کے معیار کے مطابق شریعہ کمپلائنٹ نہیں رہے  گی ،  اس لئے ایسی کمپنی کے شئیرز بیچنا یا خریدنا جائز نہیں ہوگا،لہذا صورتِ مسولہ میں شریعہ کمپلائنٹ کمپنی جب نان شریعہ بن گئی ،اس وجہ سے اس کے شئیرز بیچے گئے،تو اب یہ دیکھا جائے گاکہ جس تاریخ سے کمپنی نا ن شریعہ بن گئی ہے  اس تاریخ سے اس کمپنی  کے شئیرز کی قیمت  میں  اضافہ  ہوا ہے یا نہیں ،  اگر اضافہ ہوا  ہے، تو جتنا  اضافہ ہوا ہے وہ اضافہ حرام ہے  ،لہذا اس اضافہ کے بقدر  نفع  صدقہ کرنا واجب ہے،  مثال کے طور پر   پانچ جولائی کو آ پ نے ایک شئیر   بیس روپے کا خریدا ، پانچ اگست کو کمپنی نان کمپلائنٹ ہوگئی  ،پھر آ پ نے  پندرہ اگست کو فی  شئیر تیس روپے کا بیچا،لہذا آپ یہ دس روپے نفع صدقہ کروگے، کیونکہ یہ نفع  کمپنی کے نان شریعہ بننے کے بعد شئیر ز کی قیمت میں اضافے  کی وجہ سے ہوا ہے،اگر  شئیرز کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوا  ہے اور آپ کو بیچنے سے جو نفع ہوا ہے وہ اس وقت کے شئیرز کے پرائسز میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے  جس وقت یہ مذکورہ کمپنی شریعہ کمپلائنٹ تھی  ،تو یہ نفع حلال ہوگا۔

حوالہ جات

المعاییر الشرعیۃ: (ص: 569):

أن لا یتجاوز مقدار الإیراد الناتج من عنصر محرم نسبۃ 5 من إجمالی إیرادات الشرکۃ سواء أکان ھذا الإیراد ناتجا عن ممارسۃ نشاط محرم أم عن تملک لمحرم، وإذا لم یتم الإفصاح عن بعض الإیرادات فیجتھد فی معرفتھا ویراعی جانب الاحتیاط.

المعاییر الشرعیۃ: (ص: 568):

أن لا یبلغ اجمالی المبلغ المقترض بالربا، سواء أکان قرضا طویل الأجل أم قرضا قصیر الأجل، 30٪ من القیمۃ السوقیۃ (Market Cap) لمجموع أسھم الشرکۃ علما بأن الاقتراض بالربا مھما کان مبلغہ.

عبدالعلی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

22/ محرم الحرام /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالعلی بن عبدالمتین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب