| 84427 | ایمان وعقائد | کفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان |
سوال
ایک شخص 20 برس سے نفسیاتی مرض کا شکار ہے ،کبھی کہتا ہے میں معاذاللہ رسول ہوں ،کبھی کہتا ہے کہ میں ہی معاذاللہ (محمد)ہوں،کبھی کہتا ہے مجھے چوبارہ زندہ کیا گیا ہے،حال اس شخص کا یہ ہے کہ تقریباً ہر وقت گالیاں دیتا رہتا ہے ۔سوال یہ ہے کہ(1) ایسا شخص معاذاللہ توہین رسالت کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
(2)اس کے اس طرح کے بکواسات کی وجہ سے اولاد سخت رویہ اختیار کر لیتی ہے ،تو ان کا حکم کیا ہے؟
(3)اس شخص کے اس طرح کے بکواسات کی وجہ سے اس کا ایک بیٹا قطع تعلق کر گیا (کیونکہ وہ امام مسجد ہے ،اسے دیکھتے ہی یہ شخص اس طرح کے بکواسات اور زیادہ کرتا ہے) تو اس بیٹے کے لیے کیاحکم ہے؟
تنقیح:سائل نے فون پر وضاحت کی کہ مذکورہ شخص کی عمر تقریباً 75 سال ہوگی اورتقریباً55سال تک بالکل صحیح سلامت تھے،مگر اس کے بعد کسی حادثہ کی وجہ سے اس کی دماغی حالت کچھ خراب ہوگئی،علاج کی بہت کوشش کی،دوائیاں کھلاتے ہیں لیکن کوئی خاص افاقہ نہیں ہو ا،کیونکہ ڈاکٹر کے پاس وہ خود جاتے نہیں،کہتا ہے،میں ٹھیک ٹھاک ہوں اور زبردستی لے جانے میں ہمیں مارتاہے،اس لئے کوئی میڈیکل رپورٹ نہیں ہے۔نیز اس کے نفسیاتی ہونے کا پورے علاقے والوں کو معلوم ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(1)واضح رہے کہ کسی عقل مند مسلمان کے مذکورہ کلمات کہنے سے مرتد ہونے میں کوئی شک نہیں ،لیکن چونکہ ارتداد کی صحت کے لئے عقل ِ سلیم شرط ہے،اس لئے اگر واقعی یقینی طور پر مذکورہ شخص ایسا نفسیاتی مریض ہے کہ اس کو اپنے اقوال کا پتہ نہیں چلتا ،تو ایسی صورت میں اس شخص کے سوال میں درج باتیں کرنے سے وہ مرتد نہیں ہوگااور نہ اس کو توہین ِ رسالت کا مرتکب سمجھا جائے گا،کیونکہ ایسے دیوانے شخص کے اقوال شرعاًمعتبر نہیں ہیں ۔
(2)جب مذکورہ شخص نفسیاتی مریض اور معذور ہے تو ایسے میں اولاد کو اس کے ساتھ نرمی کے ساتھ پیش آنا چاہیے،اس کے ساتھ سخت رویہ اپناناجائز نہیں ،کیونکہ اس بیچارے کی ایک تو عمر کافی بڑھ گئی ہے اور دوسری اس کی بیماری کا مسئلہ بھی ہے،لہذا اولاد پر اس کے ساتھ محبت اور شفقت کامعاملہ کرنا لازم ہےاور دوسرے لوگوں بھی چاہیے کہ اس کے ساتھ نرمی کامعاملہ کریں۔
(3)کسی مسلمان کے ساتھ تین دن سے ذیادہ قطع تعلقی کرنا جائر نہیں ہے،اگر یہ قطع تعلقی بیٹے کی اپنے والدِ محترم سے ہو تو اس کی شناعت مزید بڑھ جاتی ہے،لہذا بیٹے کو چاہیے کہ وہ اپنے والدِ محتر م کی باتو ں کو نظرانداز کرکے اس کے ساتھ صلہ رحمی کا مظاہرہ کرے، امید ہے کہ اس طرح وہ اپنے بیٹے کو دیکھ کر مزید نازیبا کلمات ادا نہیں کرےگااور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی دماغی حالت بھی کچھ سدھر جائے۔نیزدوسرے لوگوں کو بھی سمجھائے کہ میرا والدِ محترم بیماری کی وجہ سے معذور ہے اس کی باتوں کو نظر انداز کریں۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (2/ 253):
المرتد عرفا هو الراجع عن دين الإسلام كذا في النهر الفائق وركن الردة إجراء كلمة الكفر على اللسان بعد وجود الإيمان وشرائط صحتها العقل فلا تصح ردة المجنون ولا الصبي الذي لا يعقل، أما من جنونه ينقطع، فإن ارتد حال الجنون لم تصح، وإن ارتد حال إفاقته صحت وكذا لا تصح ردة السكران الذاهب العقل والبلوغ ليس بشرط لصحتها، وكذا الذكورة ليست بشرط لصحتها، ومنها الطوع فلا تصح ردة المكره عليها كذا في البحر الرائق ناقلا عن البدائع...
من أصابه برسام، أو أطعم شيئا فذهب عقله فهذى فارتد لم يكن ذلك ارتدادا، وكذا لو كان معتوها، أو موسوسا، أو مغلوبا على عقله بوجه من الوجوه، فهو على هذا كذا في السراج الوهاج.
الفتاوى الهندية (2/ 263):
وفي الجامع الأصغر إذا وقع بين رجل وبين صهره خلاف، فقال: إن بشر رسول الله لم آتمر بأمره لا يكفر ولو قال: إن كان ما قاله الأنبياء صدقا وعدلا نجونا كفر، وكذلك لو قال: أنا رسول الله، أو قال بالفارسية من بيغمبرم يريد به من بيغام مى برم يكفر ولو أنه حين قال هذه المقالة طلب غيره منه المعجزة قيل يكفر الطالب، والمتأخرون من المشايخ قالوا إن كان غرض الطالب تعجيزه وافتضاحه لا يكفر.
سنن أبي داود (4/ 278):
4910 - حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن أنس بن مالك، أن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لا تباغضوا، ولا تحاسدوا، ولا تدابروا، وكونوا عباد الله إخوانا، ولا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال».
عبدالعلی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
25/ محرم الحرام /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعلی بن عبدالمتین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


