84417 | طلاق کے احکام | بچوں کی پرورش کے مسائل |
سوال
اگر مقرر کردہ عمر کے بعد بھی بچوں کی والدہ بچوں کو والد کی تحویل میں نہ دے تو دینِ اسلام میں اس کا کیا گناہ اور کیا وعید ہے؟
برائے مہربانی شریعتِ محمدی کی رو سے جواب ارسال فرمائیں۔ شکریہ
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حضانت(پرورش) کی طے شدہ عمر کے بعد ماں کے ذمے لازم ہے کہ بچوں کو والد کی تحویل میں دے دے،اگر وہ نہیں دے گی تو والد کی حق تلفی کی وجہ سےگناہ گار ہوگی،اگر وہ خوشی سے اس پر آمادہ نہ ہو تو باپ زبردستی لے سکتا ہے اور اس کے لئے اسے قانونی چارہ جوئی کا حق بھی حاصل ہے۔
نیز بچے جب تک والدہ کی پرورش میں ہوں تو والد کو اور جب والد کی پرورش میں ہوں تو والدہ کو ان سے ملاقات کا حق حاصل ہوتا ہے،ان میں سے کوئی بھی دوسرے کو بچوں سے ملنے سے منع نہیں کرسکتا۔
حوالہ جات
"صفوة التفاسير" (1/ 261):
"التفسیر: {إِنَّ الله يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤدُّواْ الأمانات إلى أَهْلِهَا} الخطاب عام لجميع المكلفين كما أن الأمانات تعم جميع الحقوق المتعلقة بالذمم سواءً كانت حقوق الله أو العباد .
قال الزمخشري: الخطاب عام لكل أحد في كل أمانة، والمعنى يأمركمﷲ أيها المؤمنون! بأداء الأمانات إِلى أربابها. قال ابن كثير: يأمر تعالى بأداء الأمانات إِلى أهلها وهو يعم جميع الأمانات الواجبة على الإِنسان من حقوقﷲ عَزَّ وَجَلَّ على عباده من الصلاة والزكاة والصيام والكفارات وغيرها، ومن حقوق العباد بعضهم على بعض كالودائع وغيرها".
"البحر الرائق " (4/ 186):
"(قوله:ولا تسافر مطلقة بولدها إلا إلى وطنها وقد نكحها ثم) ؛ لأن في السفر به إضرارا بأبيه، فإذا خرجت به إلى وطنها وقد كان تزوجها الزوج فيه فلها ذلك؛ لأنه التزم المقام فيه عرفا وشرعا قال - عليه السلام - «من تأهل ببلدة فهو منهم».....
وفي شرح النقاية وإنما قال المصنف تسافر دون أن تخرج؛ لأنه لو كان بين الموضعين تقارب بحيث يتمكن الأب من مطالعة ولده والرجوع إليه في نهاره جاز لها أن تنتقل إليه سواء كان وطنا لها أو لم يكن وقع العقد فيه أو لم يقع؛ لأن الانتقال إلى قريب بمنزلة الانتقال من محلة إلى محلة في بلدة واحدة اهـ".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
25/محرم الحرام1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |