03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زبردستی طلاق نامہ پر دستخط کرنے کا حکم
88314طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

  1. میری عمر تقریباً پینسٹھ سال ہے، میں دل کا مریض ہوں، میں نے اپنی پہلی بیوی کے فوت ہو جانے کے بعد دوسری عورت سے شادی کی، لیکن میری دوسری بیوی کی میری بہو سے نہ بن سکی، چار سال اسی حالت میں گزرے، ایک دن میرے بیٹے نے مجھے اپنی بیوی کو طلاق دینے پر مجبور کیا، انہوں نے ایک طلاق نامہ تیار کروایا اور مجھے کہا کہ اس پر دستخط کرو، میرے بیٹے کے سا تھ اس کا ڈرائیور بھی تھا، بیٹے نے کہا اگر تم اس پر دستخط نہیں کرو گے تو میں تمہیں ذلیل کروں گا، گھر سے نکال دوں گا، مجھے وہ ماہانہ کچھ رقم دیتا تھا اس نے کہا وہ بھی نہیں دوں گا، میری زمین پر بھی وہ قابض ہے، یہ میرابیٹا نافرمان ہے، اگر میں اس پر دستخط نہ کرتا تو وہ یہ کام کر گزرتا، اس کے ساتھ موجود اس کے ڈرائیور نے کہا تجھے زبردستی اٹھا کر لے جائیں گے اور تجھے قتل کر دیں گے۔ میں دل کا مریض ہوں، اس لیے میں ڈر گیا اور طلاق نامہ پر دستخظ کر دیے، جبکہ میری طلاق دینے کی کوئی نیت نہیں تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا طلاق ہوئی یا نہیں؟
  2. اس کے بعد میں نے اپنی بیوی کے گاؤں جا کر اس سے دوبارہ نکاح کر لیا، اب یہ بیٹا میرے پیچھے پڑا ہوا ہے، اس کا ڈرائیور وغیرہ مجھے دھمکیاں دے رہے ہیں کہ تم نے غلط نکاح کیا ہے، تمہارا نکاح درست نہیں ہے، لہذا تم اس عورت کو چھوڑو، ورنہ ہم تمہیں قتل کر دیں گے، اس لیے میں آج کل روپوشی کی زندگی گزار  رہا ہوں، میرا ماہانہ وظیفہ بھی بیٹے نے بند کر دیا ہے، میرے پاس دوائی خریدنے کے بھی پیسے نہیں ہیں، میری جائیداد پر بھی وہ قابض ہے، سوال یہ ہے کہ کیا میرا یہ نکاح شرعاً صحیح ہوا ہے یا نہیں؟ میرا بیٹا یہ سب قدم اس لیے اٹھا رہا ہے کہ میرے مرنے کے بعد میری بیوی میری جائیداد پر کسی قسم کا دعوی نہ کرے۔اور میں نےاس عورت سے دوبارہ نکاح ناواقفیت کی وجہ سے کیا ہے، میرے علم میں نہیں کہ زبردستی طلاق دینے سے طلاق نہیں ہوتی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  1. سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اگر واقعتاً طلاق نامہ پر دستخط نہ کرنے کی صورت میں آپ کو اپنے بیٹے اور اس کے ڈرائیور کی طرف سے دی گئی دھمکیوں کے واقع ہونے کا یقین یاظنِ غالب تھا تو اس صورت میں بغیر طلاق کی نیت کے محض طلاق نامہ پر مجبوراً دستخظ کرنے سے آپ کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور آپ دونوں کے درمیان شرعی نقطہٴ نظر سے بدستور نکاح قائم ہے۔   

الفتاوى الهندية (1/ 379) دار الفكر،بيروت:

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان.

  • مكتبة رشيدية، كوئٹة:

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة ههنا.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 175) دار الكتب العلمية:

وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 80) دار الكتاب الإسلامي:

وقد يكون فيه ما يكون في الحبس من الإكراه لما يجيء به من الاغتمام البين ومن الضرب ما يجد به الألم الشديد وليس في ذلك حد لا يزاد عليه ولا ينقص منه؛ لأنه يختلف باختلاف أحوال الناس فمنهم لا يتضرر إلا بضرب شديد وحبس مديد ومنهم من يتضرر بأدنى شيء كالشرفاء والرؤساء يتضررون بضرب سوط أو بفرك أذنه لا سيما في ملأ من الناس أو بحضرة السلطان. وفي الخانية، ولو أكره على بيع جارية ولم يعين فباع من إنسان كان فاسدا.

  1. اصولی طور پر آپ کے ذمہ دوبارہ نکاح کرنا لازم نہیں تھا، کیونکہ طلاق واقع نہ ہونے کی وجہ سے فریقین کے درمیان بدستور نکاح شرعاً قائم تھا، جہاں تک آپ کے بیٹے کا آپ کو اپنی بیوی چھوڑنے پر مجبور کرنے کا تعلق ہے تو یہ شرعاً اس کے لیے ہرگز جائز نہیں، کیونکہ نکاح کرنا آپ کا شرعی حق ہے، جو شریعت نے آپ کو دیا ہے، اس لیے یہ حق کوئی بھی شخص آپ سے نہیں چھین سکتا، لہذا بیٹے کا آپ کی جائیداد پر قبضہ کرنے اور آپ کی اہلیہ کو آپ کی وراثت سے محروم کرنے کے لیے آپ کو طلاق دینے پر مجبور کرنا انتہائی ظلم اور زیادتی ہے، خصوصاً دل کے مریض بوڑھے والد کو بڑھاپے کی حالت میں اس قدر تنگ کرنا کہ وہ روپوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائیں درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے  والی بات ہے، اس لیے آپ کے بیٹے کے ذمہ لازم ہے کہ وہ آپ کو تنگ کرنا چھوڑ دے، آپ اور آپ کی اہلیہ کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کرے اور آپ کو ماہانہ وظیفہ بھی دینا شروع کرے اور آپ کی جائیداد آپ کے حوالے کرے یا یہ کہ اس کو کرایہ وغیرہ پر دے کر اس کا حاصل شدہ ٹھیکہ آپ کو دیا کرے، اگر آپ کا بیٹا ایسا کرنے پر آمادہ نہ ہو اور بدستور اپنے سابقہ رویے پر برقرار رہے تواس کو یادرکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب بہت سخت ہے ، ایک حدیث میں وارد ہے کہ تين شخصوں كی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے، ان میں سے ایک شخص والدین کا نافرمان بھی ہو گا  اور کسی بھی شخص کا ناحق مال کھانے پر قرآن وحدیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں، چنانچہ صحيح بخاری شریف(3/130) کی ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

«من ظلم من الأرض شيئا طوقه من سبع أرضين»

ترجمہ: جو شخص کسی کی زمین پر کے کسی بھی حصے پر ناجائز قبضہ کرے گا تو اس کو سات زمینوں تک اس کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔

حوالہ جات

مسند البزار (12/ 269) الناشر: مكتبة العلوم والحكم - المدينة المنورة:

عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ثلاثة لا ينظر الله إليهم يوم القيامة: العاق لوالديه ومدمن الخمر والمنان عطاءه وثلاثة لا يدخلون الجنة: العاق بوالديه والديوث والرجلة.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

8/صفرالخیر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب