03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جائز و ناجائز امور پر مشتمل سافٹ ویئر پر کام کرنے کا حکم
84462اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

میں ایک کمپنی میں بطور سافٹ ویر انجینئر کام کرتا ہوں  ،میرے ذمہ جس سافٹ ویئر کو مینٹین کرنا اور مستقبل میں نئے سرے سے بنانا ہے، وہ ٹریڈنگ سافٹ ویئر ہے ۔جو کمپنی اپنے کسی کلائنٹ کے لیے بنا رہی ہے ،وہ کلائنٹ امریکہ میں بروکر ہے اور ساری ٹریڈنگ امریکہ میں ہو گی۔ سافٹ ویئر  کے بہت حصے ہیں: ایک یوزر آن بوڈنگ کا جس کو استعمال کر کے لوگ اپنا اکاؤنٹ کھلواتے ہیں ،بہت قسم کے اکاؤنٹ ہیں جن کی زیادہ تفصیل مجھے معلوم نہیں ،اس پر کوئی اور بندہ کام کرتا ہے۔ ان اکاؤنٹس میں مارجن اکاؤنٹ  ،کیش اکاؤنٹ اور جوائنٹ اکاؤنٹ ہیں۔ اب مارجن اکاؤنٹ میں شاید بروکر یوزر کو انویسٹ کرنے کے لیے اپنی طرف سے سود پر پیسے بھی دیتا ہے ۔لیکن کیا یہ فیچر ہمارا یوزر آن بورڈنگ والا سافٹ ویئر کرتا ہے یا نہیں، مجھے معلوم نہیں ۔جب اکاؤنٹ بن جاتا ہے تو پھر وہ یوزر ٹریڈنگ کر سکتا ہے ۔ اس سافٹ ویئر  پر میں کام کرتا ہوں، اس سافٹ ویئرمیں کیش اور مارجن پر سٹاکس اور آپشن کی ٹریڈنگ کی جاتی ہے۔ سٹاکس میں  سيل شارٹ  اور بائے ٹو کور کا فیچر بھی موجود ہے اور آپشن میں کوئی 16 اقسام کی مختلف کمبی نیشن کے ساتھ موجود ہے، کیونکہ کلائنٹ مسلمان نہیں ہیں تو جس بھی طرح کی ٹریڈنگ پائی جاتی ہے ،وہ سب اس سافٹ ویئر میں ہو گی۔ اگر اس سوال کو میں دو سطروں میں بند کرنے کی کوشش کروں تو کیا ایسا سافٹ ویئر جس کے چند فیچرز اسلام کے مطابق ٹھیک ہوں اور بعض یا زیادہ تر فیچرز  اسلام کے مطابق  صحیح نہ ہوں تو کیا میرا ایسے سافٹ ویئر پر کام کرنا جائز ہوگا؟ میں نے کمپنی میں اپنی کارکردگی کی وجہ  سے  بہت اچھا نام بنا لیا ہے ۔ میرا کمپنی کے ساتھ ایک سال کا معاہدہ ہے  اوراس وقت  میرا ساتواں ماہ چل رہا ہے۔

تنقیح : سائل نے زبانی  بتایا کہ سافٹ ویئر کو   مینٹین کرنے کا مطلب  سسٹم میں خرابی کو درست کرنا ہے اور  بنانے کا مطلب   مستقبل میں  اس سسٹم کو جدید ٹیکنالوجی کے مطابق  ڈیولپ کرنا ہے، اس سافٹ ویئر کے بہت سے حصے ہیں :سائل ان میں سے ٹریڈنگ کے حصہ پر کام کررہا ہے، جس کےلیے کمپنی نے ابھی تک  سائل اورایک دوسرےڈیولپر  کو پاکستا ن سے   ہائر کیاہے ۔مزید یہ کہ معقول یا شرعی عذر پیش کرنے کی صورت میں  کمپنی سال سے پہلے بھی بغیر کسی جرمانہ کی ملازمت   چھوڑنے کی    اجازت  دیتی ہے ۔ اس طرح  کمپنی کا ہیلتھ کیئر کا  ذیلی ادارہ   ہے ، انہوں نے بھی    یہاں سے سی ای او کی اجازت سےجانے کی صورت میں ملازمت کی  آفر کی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  اگرسافٹ ویئر   کےبعض یا  اکثرفیچرز اسلامی تعلیمات کے مطابق نہ ہوں  اور آپ  کو یقین یا غالب گمان ہو کہ  کمپنی کا کلائنٹ اوریوزرز ان کو استعمال کریں گے   ،تو ایسا سافٹ ویئر بنانا اور اس کو مینٹین کرنا ناجائز ہے ۔گناہ کے کام میں تعاون کی وجہ سے کمپنی کے ساتھ کیا گیا معاہدہ خلاف شریعت ہے، جس کوفی الفور  ختم کرنا   لازمی ہے ، خاص کر جبکہ متبادل ملازمت دستیاب ہے اور  معقول  عذرپیش کرنے پر  کمپنی کی طرف سے  ملازمت چھوڑنے کی بھی اجازت ہے۔

حوالہ جات

فتح القدير للكمال ابن الهمام (10/ 59):

قال (ومن أجر بيتا ليتخذ فيه بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر بالسواد فلا بأس به) وهذا عند أبي حنيفة، وقالا: لا ينبغي أن يكريه لشيء من ذلك؛ لأنه إعانة على المعصية. وله أن الإجارة ترد على منفعة البيت، ولهذا تجب الأجرة بمجرد التسليم، ولا معصية فيه، وإنما المعصية بفعل المستأجر، وهو مختار فيه فقطع نسبته عنه.

 (قوله وله أن الإجارة ترد على منفعة البيت، ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم، ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار فيه فقطع نسبته عنه) أقول: ينتقض هذا التعليل المذكور من قبل أبي حنيفة - رحمه الله - في هذه المسألة بمسائل متعددة مذكورة في الذخيرة والمحيط وفتاوى قاضي خان وسائر المعتبرات من غير بيان خلاف في شيء منها من أحد من أئمتنا.منها أنه إذا استأجر الذمي من المسلم بيعة ليصلي فيها فإن ذلك لا يجوز. قال في المحيط والذخيرة:لأنه استأجرها ليصلي فيها، وصلاة الذمي معصية عندنا وطاعة في زعمه، وأي ذلك اعتبرنا كانت الإجارة باطلة؛ لأن الإجارة على ما هو طاعة أو معصية لا تجوز انتهى. ومنها أنه إذا استأجر المسلم من المسلم بيتا ليجعله مسجدا يصلي فيه المكتوبة أو النافلة. فإن هذه الإجارة لا تجوز في قول علمائنا. قال في المحيط: وهذا لأنها وقعت على ما هو طاعة، فإن تسليم الدار ليصلي فيها طاعة، ومن مذهبنا أن الإجارة على ما هو طاعة لا تجوز وكان هذا بمنزلة ما لو استأجر رجلا للأذان أو الإمامة لا يجوز عندنا؛ لأنه طاعة، وعند الشافعي يجوز فكذلك هذا انتهى.ومنها أنه إذا استأجر ذمي من ذمي بيتا يصلي فيه لا يجوز. قال في المحيط والذخيرة: لأن صلاتهم طاعة عندهم معصية عندنا، وأي ذلك كان لم تجز الإجارة انتهى.إذ لا يخفى أن التعليل المذكور في الكتاب من قبل أبي حنيفة في مسألتنا يقتضي أن لا تبطل الإجارة في تلك المسائل أيضا، فإن الإجارة إنما ترد على منفعة البيت ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم، ومنفعة البيت ليس بطاعة ولا معصية، وإنما الطاعة والمعصية بفعل المستأجر وهو مختار فيه. فقطع نسبة ذلك الفعل عن المؤجر، فينبغي أن تصح الإجارة فيها أيضا عنده مع أن الأمر ليس كذلك كما عرفت . َ..والحاصل أن الفرق بين تلك المسائل ومسألتنا هذه في الحكم والدليل مشكل جدا فليتأمل.

    نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

28    /محرم/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب