03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مال مغصوب کا حکم
84455غصب اورضمان”Liability” کے مسائل متفرّق مسائل

سوال

مجھے ایک دوست نے کچھ رقم دی کہ اپنے بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں جمع کروا دو ،نیت یہ کی تھی کہ اس طرح بینک سے نفع کمایا جائے ،لیکن بعد میں ان پیسوں میں مجھ سے خیانت ہو گئی ،یعنی میں نے بینک میں وہ رقم جمع نہیں کروائی ۔اب اگر میرا دوست مجھ سے مطالبہ کرتا ہے تو میرے لیے کیا حکم ہے ؟اتنی مدت میں بینک سے حاصل ہونے والے منافع کی مقدار معلوم کی جا سکتی ہے ،تو کیا نفع کے ساتھ اپنی طرف سے پیسے دینا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے دوست نے آپ کو وہ رقم بینک میں پہنچانے کے لیے دی تھی ،لہذا وہ رقم آپ کے پاس امانت تھی ، آپ کا رقم بینک میں نہ پہنچانا اور اس کو بغیر اجازت استعمال کرنا نا جائز عمل ہے اور غصب کے حکم میں ہے۔مغصوبہ رقم کا حکم یہ ہے کہ جتنی رقم غصب کی ہے اتنی ہی واپس لوٹائی جائے، لہذا آپ پر لازم ہے کہ اپنے دوست کومعاملہ کی فوری  اطلاع دے کر معافی تلافی کر لیں، اور آئندہ کے لئے ایسے معاملات سے بچنے کا قوی عزم کر لیں۔ 

حوالہ جات

  الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 179):

(وحكمه الإثم لمن علم أنه مال الغير ورد العين قائمة والغرم هالكة ولغير من علم الأخيران) فلا إثم؛ لأنه خطأ وهو مرفوع بالحديث۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 182):

(قوله ويجب رد عين المغصوب) لقوله - عليه الصلاة والسلام - «على اليد ما أخذت حتى ترد» ولقوله - عليه الصلاة والسلام - «لا يحل لأحدكم أن يأخذ مال أخيه لاعبا ولا جادا، وإن أخذه فليرده عليه» زيلعي۔

المبسوط للسرخسي (11/ 51):

والواجب على الغاصب ضمان القيمة عند تعذر رد العين عندنا۔

اسامہ مدنی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

28/ محرم/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسامہ بن محمد مدنی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب