03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سید کو زکوۃ دینے کا حکم
84553زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

آج کل اگر سادات کی کفالت دوسرے ذرائع سے ممکن نہ ہو اور ان کو صدقات واجبہ دینے پربھی حرمت کا فتوی ہو تو اس کا شرعا ذمہ دار کون ہوگا؟اسی طرح سادات کے مسئلہ کے سلسلے میں ائمہ مجتہدین کے اختلاف کو مدنظر رکھتے ہوئےدو دارالافتاؤوں سے الگ الگ فتوی جاری ہو ،ایک سادات کو صدقات واجبہ کی حرمت  پر فتوی دے اور دوسرا گنجائش کے اقوال سے فائدہ اٹھاتے ہوئےحلت پر دے، تو آیا حلت پر فتوی دینے  والےدارالافتاء کے فتوی پر عمل کیا جاسکتا ہے ،جبکہ اکثر دارالافتاؤوں کا فتوی حرمت پر ہے؟برائے مہربانی ذرا تفصیلی جواب حوالہ جات کے ساتھ عنایت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سادات کے حوالہ سے عام حالات میں حکم یہی ہے کہ ظاہر الروایہ پر عمل کرتے ہوئے بنو ہاشم کے لیے زکوة لینا جائز نہیں اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سادات کی عظمت اور احترام کے پیش نظر ان کی حاجات کے لیے عطیات اور صدقات نافلہ وغیرہ کا کوئی نظم بنائے، جیسا کہ قرون اولی میں ان کو بیت المال سے رقوم دی جاتی تھیں ۔ اگر حکومت ایسا اقدام نہ کرے تو صاحب ثروت لوگوں کو چاہیے کہ حضورﷺ کے مبارک خاندان کی کفالت کا ذمہ اٹھائیں اور ان کی خبر گیری کے لئے  کوئی مستقل نظم قائم کریں۔ اگر مذ کورہ بالا دو صورتوں میں سے کوئی بھی  صورت نہ ہو تو سادات کو زکوۃ و صدقات کی رقم تملیک کرواکر بطور عطیہ دی جاسکتی ہے،البتہ اگر کوئی معتبر دارالافتاء  اس مسئلہ میں گنجائش کا فتوی دیتا ہے ،تو سائل کو جس کے علم و تقوی پر زیادہ اعتماد ہو اس کےفتوی پر عمل کر ے۔(مستفاد از تبویب 64461)                           

حوالہ جات

سنن أبي داود (2/ 49):

1650 - حدثنا محمد بن كثير ، أخبرناشعبة ، عن الحكم ، عن ابن أبى رافع ، عن أبى رافع ، أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث رجلا على الصدقة من بنى مخزوم ، فقال لابي رافع: اصحبني فإنك تصيب منها ، قال : حتى آتى النبي صلى الله عليه وسلم فأسأله ، فأتاه فسأله فقال : " مولى القوم من أنفسهم وإنا لا تحل لنا الصدقة "

مشكاة المصابيح للتبريزي (1/ 412):

عن أبي رافع أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث رجلا من بني مخزوم على الصدقة فقال لأبي رافع اصحبني كيما تصيب منها . فقال : لا، حتى آتي رسول الله صلى الله عليه و سلم فأسأله . فانطلق إلى النبي صلى الله عليه و سلم فسأله فقال : " إن الصدقة لا تحل لنا وإن موالي القوم من أنفسهم " . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 350):

(و) لا إلى (بني هاشم) إلا من أبطل النص قرابته وهم بنو لهب، فتحل لمن أسلم منهم كما تحل لبني المطلب. ثم ظاهر المذهب إطلاق المنع، وقول العيني والهاشمي: يجوز له دفع زكاته لمثله صوابه لا يجوز نهر (و) لا إلى (مواليهم) أي عتقائهم فأرقاؤهم أولى لحديث «مولى القوم منهم»

اصول الافتاء وآدابہ ، (صفحہ 383،384):

- لو اختلفت فتوى مفتيين، يقدم من هو أعلم وأورع في نظره؛ فإن كان أحدهما أعلم، والآخر أورع، فقيل : يقدم الأورع، ولكن الصحيح أنه يقدم الأعلم. هذا ما جزم به ابن نجيم رحمه الله تعالى ۔

وقال ابن الهمام رحمه الله تعالى : إذا استفتی فقيهين، أعنی  مجتهدين، فاختلفا عليه، فالأولى أن يأخذ بما يميل إليه قلبه منهما. وعندي أنه لو أخذ بقول الذي لا يميل إليه قلبه جاز، لأن ميله وعَدَمَه

سواء، والواجب عليه تقليد مُجْتَهِد ، وقد فَعَلَ، أصاب ذلك المجتهد أو أخطأ  ۔

والظاهر أن هذا إذا تساوى الفقيهان عنده، وإلا فيعمل بقول الأعلم،كما قدمنا عن ابن نجيم رحمه الله تعالى. والله أعلم ۔

اسامہ مدنی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

29/ محرم/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسامہ بن محمد مدنی

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب