03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آن لائن نکاح کا حکم
84468نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

کیا آ ن لائن نکاح جائز ہے ؟مرد عورت دونوں  کی عمر ساٹھ سال سے زائد ہیں ۔نکاح کرنا چاہتے ہیں ،لیکن کچھ وجوہات کی بناء پر ابھی ظاہر نہیں کرنا چاہ رہے ہیں ،دونوں الگ  الگ شہروں  میں رہتے ہیں ،اگر آ ن لائن نکاح کر لیں تو جائز ہوگا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ نکاح منعقد ہونے کےلیےدو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کی مجلس بھی ایک ہونا ضروری ہے ،یعنی دولہا اور دلہن یا ان کے مقرر کردہ وکیل ایک ہی  مجلس میں موجود ہو کر ایجاب و قبول کریں   ۔ آن لائن ایجاب و قبول  کرنے کی صورت میں چوں کہ یہ شرط(اتحاد مجلس ) نہیں پائی جاتی ،اس لیے آن لائن نکاح کرنے سے شرعًا نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ نیزاس کی ضرورت بھی نہیں ، دونوں یا ان میں سے ایک اپنا وکیل مقرر کرے اور وکیل ایک مجلس میں گواہوں کی موجودگی میں نکاح پڑھائیں ۔ نکاح ہو جائے گا۔

         چھپ کر نکاح  کرنامصالحِ نکاح کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سی شرعی و معاشرتی برائیوں کا سبب بھی ہے۔ لہذا نکاح علی الاعلان کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

سنن الترمذي ت بشار (2/ 390):

حدثنا أحمد بن منيع، قال: حدثنا يزيد بن هارون، قال: أخبرنا عيسى بن ميمون الأنصاري، عن القاسم بن محمد، عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أعلنوا هذا النكاح، واجعلوه في المساجد، واضربوا عليه بالدفوف.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 14):

"ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين.

 (قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد".

الفتاوى الهندية (1/ 269):

"(ومنها) أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لا ينعقد، وكذا إذا كان أحدهما غائباً لم ينعقد حتى لو قالت امرأة بحضرة شاهدين: زوجت نفسي من فلان وهو غائب فبلغه الخبر فقال: قبلت، أو قال رجل بحضرة شاهدين: تزوجت فلانةً وهي غائبة فبلغها الخبر فقالت: زوجت نفسي منه لم يجز وإن كان القبول بحضرة ذينك الشاهدين وهذا قول أبي حنيفة ومحمد -رحمهما الله تعالى - ولو أرسل إليها رسولاً أو كتب إليها بذلك كتاباً فقبلت بحضرة شاهدين سمعا كلام الرسول وقراءة الكتاب؛ جاز لاتحاد المجلس من حيث المعنى".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 231):

"ثم النكاح كما ينعقد بهذه الألفاظ بطريق الأصالة ينعقد بها بطريق النيابة، بالوكالة، والرسالة؛ لأن تصرف الوكيل كتصرف الموكل، وكلام الرسول كلام المرسل، والأصل في جواز الوكالة في باب النكاح ما روي أن النجاشي زوج رسول الله صلى الله عليه وسلم أم حبيبة - رضي الله عنها - فلا يخلو ذلك إما أن فعله بأمر النبي صلى الله عليه وسلم أو لا بأمره، فإن فعله بأمره فهو وكيله، وإن فعله بغير أمره فقد أجاز النبي صلى الله عليه وسلم عقده، والإجازة اللاحقة كالوكالة السابقة".

عطاء الر حمٰن

دارالافتاء،جامعۃالرشید کراچی

29/محرم الحرام/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عطاء الرحمن بن یوسف خان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب