| 84461 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں ایک فلاحی ادارہ اور سکول چلا رہا ہوں اور میری ذمہ داریاں درج ذیل ہیں:
سکول کی ذمہ داریاں: میں ایک سکول کے انتظامات کی مکمل ذمہ داری سنبھال رہا ہوں، جس میں اساتذہ کی تعیناتی، مرمت، نائٹ سیکیورٹی گارڈ کی نگرانی اور کسی بھی وقت سکول کی ضروریات کو پورا کرنا شامل ہے، سکول میں کل 250 طلباء ہیں، جن میں 95 یتیم بچے ہیں اور باقی طلباء سے ہم 1000 روپے ماہانہ فیس لیتے ہیں،سکول کا عملہ 14 افراد پر مشتمل ہے، جن میں اساتذہ، صفائی والا، خالہ، سیکیورٹی گارڈ، اور کمپیوٹر آپریٹر شامل ہیں۔
فلاحی ادارے کی ذمہ داریاں:فلاحی ادارے میں ہم غریب لوگوں کی مدد کرتے ہیں، وہیل چیئر فراہم کرنا، ہینڈ پمپ لگانا، بیوہ کو راشن دینا،کینسر مریض کی دوائی میں مدد کرنا اور ماہانہ میڈیسن میں مدد کرنا شامل ہے، روزانہ کی بنیاد پر سستی روٹی کی تقسیم کرتے ہیں، جس میں یومیہ 250 روٹیاں 47 گھروں کو دی جاتی ہیں،ادارے کا ماہانہ خرچہ کبھی 5 لاکھ روپے یا اس سے کم یا زیادہ ہوتا ہے ، جو ڈونیشن کے پیسوں سے پورا ہوتا ہے اور سکول کا ماہانہ خرچہ 2 لاکھ 58 ہزار روپے ہے جو کچھ فیس اور کچھ ڈونیشن سے پوری ہوتی ہے، میں ڈونرز کے ساتھ رابطے میں رہتا ہوں اور ان کی کالز کا جواب دیتا ہوں، اور ان کی ہدایات اور مرضی کے مطابق کام کرتا ہوں۔
سلائی سنٹر:ابھی حال ہی میں میں نے ایک سلائی سنٹر شروع کیا ہے، جس میں علاقے کے غریب 500 روپے فیس ماہانہ دیتے ہیں اور بیوہ اور یتیم بچوں کو مفت سلائی سکھاتے ہیں، سلائی سنٹر کی نگرانی اور اس کے تمام امور کی دیکھ بھال میری ذمہ داری ہے۔
ذاتی حالات:میرے 6 بچے ہیں، جن میں 5 بیٹیاں اور ایک 8 سال کا بیٹا شامل ہیں،والد کا انتقال ہو چکا ہے، گھر میں میری بیوہ ماں، ایک بہن اور دو بھائی ہیں، ایک بھائی نوکری کرتا ہے لیکن گھر کے ضروریات میں دلچسپی نہیں لیتا اور خاندان کے بڑوں کے اصرار پر 20,000 روپے ماہانہ دیتا ہے، باقی تمام اخراجات، جیسے گیس بل، بجلی بل، مہینے کا خرچہ، غم خوشی، مہمان داری، بچوں کی ضروریات ،دوائی ،کپڑے اور باقی گھر کے اخراجات وغیرہ میری ذمہ داری ہے۔ میرے تمام کاموں کی نوعیت اور ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے، برائےکرم میری رہنمائی فرمائیں کہ میری ماہانہ تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟تاکہ شرعی نقطہ نظر سے یہ جائز ہو اور آخرت میں پکڑ نہ ہو۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ کسی فلاحی ادارہ کو دی جانے والی رقم وقف کی طرح ہے اور وقف کے مال کو بہت احتیاط کے ساتھ استعمال کرناچاہیے،کیونکہ اس میں بہت سارے لوگوں کا حق متعلق ہوتاہےاور حق تلفی ہونے کی صورت عند اللہ جواب دہ ہونا ہے، اس لئے تنخواہ لینے میں بھی بہت احتیا ط کرنی چاہیے جتنی کم تنخواہ میں گزارا کر سکیں وہی بہتر ہے ،تاہم زیاد ہ سے زیادہ اتنی تنخواہ لینے کی گنجائش ہےجتنی تنخواہ اس جیسے ادارے میں اتنی ذمہ داریاں نبھانے والے کو عموماً ملتی ہے ،بہر حال احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 381):
قال: "ولا بأس برزق القاضي"؛ لأنه عليه الصلاة والسلام بعث عتاب بن أسيد إلى مكة وفرض له، وبعث عليا إلى اليمن وفرض له ولأنه محبوس لحق المسلمين فتكون نفقته في مالهم وهو مال بيت المال، وهذا لأن الحبس من أسباب النفقة كما في الوصي والمضارب إذا سافر بمال المضاربة، وهذا فيما يكون كفاية، فإن كان شرطا فهو حرام؛ لأنه استئجار على الطاعة، إذ القضاء طاعة بل هو أفضلها، ثم القاضي إذا كان فقيرا: فالأفضل بل الواجب الأخذ؛ لأنه لا يمكنه إقامة فرض القضاء إلا به، إذ الاشتغال بالكسب يقعده عن إقامته، وإن كان غنيا فالأفضل الامتناع على ما قيل رفقا ببيت المال.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 389):
وجاز (رزق القاضي) من بيت المال لو بيت المال حلالا جمع بحق وإلا لم يحل وعبر بالرزق ليفيد تقديره بقدر ما يكفيه وأهله في كل زمان ولو غنيا في الأصح وهذا لو بلا شرط ولو به كالأجرة فحرام، لأن القضاء طاعة،فلم تجز كسائر الطاعات قلت: وهل يجري فيه كلام المتأخرين يحرر.
[رد المحتار]
(قوله وهذا لو بلا شرط إلخ) بأن تقلد القضاء ابتداء من غير شرط،ثم رزقه الوالي كفايته، أما إن قال ابتداء إنما أقبل القضاء إن رزقني الوالي كذا بمقابلة قضائي، وإلا فلا أقبل فهو باطل لأنه استئجار على الطاعة اهـ كفاية (قوله فلم تجز) أي الأجرة عليه أي لم يجز أخذها (قوله يحرر) أقول: قدمنا تحريره في كتاب الإجارات بما لا مزيد عليه، وبينا أن كلام المتأخرين ليس عاما في كل طاعة بل فيما فيه ضرورة كتعليم القرآن والفقه والإمامة والأذان.
عبدالعلی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
29/ محرم الحرام /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعلی بن عبدالمتین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


