03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فرضی طلا ق نامہ اور نکاح نامہ بنوانے کا حکم
83189طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

ایک میاں بیوی نے کینیڈا جانے کیلئے اپلائی کیا۔ ایجنٹ نے جو رقم بتائی بہت زیادہ تھی تو میاں نے کہا یہ رقم تو ہماری استطاعت سے باہر ہے ۔ایجنٹ نے کہا چونکہ آپ کی بیوی پڑھی لکھی ہے تو ان کے نام پر ہی درخواست دائر کریں گے۔ ہمارے پاس ایک اور کلائنٹ ہیں،آدھے پیسے کلائنٹ دے گا آدھے آپ دیں گے۔لیکن ہم اس کلائنٹ سے آپ کی بیوی کا کاغذی نکاح کروا دیں گے اور آپ کی بیوی کلائنٹ کو بطور شو ہر ساتھ لیکر اور اپنے بچوں سمیت کینیڈا چلی جائے گی۔

 شوہر نے کہا کہ یہ تو میرے نکاح میں ہیں اور کاغذی نکاح تو قانونی طور پر  کرنا پڑے گا  تویہ  کیسے ہوگا؟ ایجنٹ نے کہا ہم پہلے آپ کی بیوی سے آپ کی قانونی طلاق کروائیں گے اور دوسرے شخص سے کاغذی نکاح ہوگا اور ایجنٹ نے مزید یہ کہا کہ طلاق کے  کا غذات پر شوہر کا انگوٹھا یادستخط نہیں ہوں گے ۔شوہر  نے رضا مندی دے دی کہ میری بیوی کے لیے طلاق کے کاغذات بنوا دیں اور دوسرے شخص سے کاغذی نکاح کروادیں۔

ایجنٹ نے اسٹامپ پیپر پر طلاق ثلاثہ  والی عبارت شوہر  کی جانب سے تحریر کرا کر سائن اور انگوٹھا کسی اور کا لے  لیا اور نادرا سے طلاق کی کمپیوٹر ائزڈ کاپی حاصل کرلی۔بعد ازاں شوہر اور بیوی نے اس تحریر کو پڑھا بھی۔پھر بیوی نے شوہر کی رضا مندی سے ایجنٹ کے بتائے ہوئے کلائنٹ سے کاغذی نکاح کیااور اپنے بچوں کو لیکر کینیڈا چلی گئی ۔

درخواست گزار کا سوال یہ ہے کہ شریعت کی رو سے جبکہ شوہر کی رضا مندی سےکلائنٹ کے ساتھ کا غذی  نکاح  ہوا اور طلاق ثلاثہ والا طلاق نامہ تحریر ہوااس پر   جو عبارت تھی وہ بھی شوہر کی ہی رضا مندی سے تھی۔تو کیا یہ شوہر کی رضا مندی سمجھی جائے گی ؟اور کیا شوہر کی اپنی بیوی سے شرعی طلاق تصور ہو گی؟مفتیان کرام اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں۔

تنقیح:سائل نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ فرضی طلاق نامہ بنوانے  سے قبل تمام خاندان والوں کے علم میں یہ بات لائی گئی تھی کہ ہم فرضی طور پر طلاق نامہ بنوا رہے ہیں ۔لہذا سب اس بات پر گواہ ہیں کہ ہم نے یہ طلاق نامہ فرضی بنوایا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

محض دنیاوی فائدے کے لیے اتنا بڑا جھوٹ اور فراڈ کرنا خاص کر اپنی بیوی کو دوسرے شخص کے نکاح میں دینا اگرچہ فرضی ہو،یہ سب حد درجے کی بے حیائی اور دین سے دوری کی بات ہے۔اس پر توبہ و استغفار لازم ہے۔بہر حال اگر آپ کی بیان کردہ تفصیل درست ہے کہ آپ نے فرضی طلاق نامہ بنوایا تھااور اس پر گواہ بھی موجود ہیں تو آپ کی بیوی کو طلاق نہیں ہوئی۔لہذا جب طلاق واقع نہیں ہوئی تو دوسرے شخص سے نکاح بھی منعقد نہیں ہو گا۔

حوالہ جات

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى:قوله: (أو هازلا) أي فيقع قضاء وديانة كما يذكره الشارح، ….. لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع، كما لو أقر بالطلاق هازلا أو كاذبا فقال في البحر، وإن مراده لعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة، ثم نقل عن البزازية والقنية لو أراد به الخبر عن الماضي كذبا لا يقع ديانة، وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاء أيضا. اهـ.( رد المحتار:3/ 238)

قال العلامۃ ابن عابدین رحمه الله تعالى:ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب؛ ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابة أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه . (رد المحتار:3/ 247)

قال العلامۃ الحصكفي رحمه الله تعالى :أنت طالق أو أنت حر وعنى الإخبار كذبا وقع قضاء، إلا إذا أشهد على ذلك؛ وكذا المظلوم إذا أشهد عند استحلاف الظالم بالطلاق الثلاث أنه يحلف كاذبا صدق قضاء وديانة.(الدر المختار:213)

قال جمع من العلماء رحمهم الله تعالى:لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة، كذا في السراج الوهاج. سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح، كذا في البدائع. ولو تزوج بمنكوحة الغير وهو لا يعلم أنها منكوحة الغير فوطئها؛ تجب العدة، وإن كان يعلم أنها منكوحة الغير لا تجب حتى لا يحرم على الزوج وطؤها، كذا في فتاوى قاضي خان.( الفتاوى الهندية:1/ 280)

قال العلامة النووي رحمه الله تعالى:واتفقوا على أن التوبة من جميع المعاصي واجبة وأنها واجبة على الفور لايجوز تأخيرها سواء كانت المعصية صغيرة أوكبيرة والتوبة من مهمات الإسلام وقواعده المتأكدة ووجوبها عند أهل السنة.(شرح النووي على مسلم:17/ 59)                              

    ہارون  عبداللہ

      دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

 07شعبان 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ہارون عبداللہ بن عزیز الحق

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب