03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مختلف مکاتبِ فکر کے ائمہ کی اقتدا میں نماز میں پڑھنے کا حکم
84499نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور فقہاء عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ!

 جب ہم تبلیغی جماعت میں جاتے ہیں تو ہم مختلف  مکتبہ فکر کے ائمہ کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں جیسے بریلوی حضرات، اشاعت توحید، اہل حدیث اور جماعت اسلامی والے حضرات کےپیچھے ہماری نمازیں آتی ہیں، کیا ہماری نمازیں ان کے پیچھے درست ہیں یا واجب الاعادہ ہیں ؟

دوسری بات یہ ہے کہ کیا اس میں تخصیص ہے کہ علماء کرام نمازوں کو لوٹائیں گے اور  عوام کی نمازیں جائز ہوجائیں گی   یا ان کی نمازیں بھی واجب الاعادہ ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نماز ہرمسلمان کے پیچھے جائز ہے جس میں ظاہراً کوئی بڑا گناہ نظر نہ آئے اور اس کے بارے میں کوئی بدعقیدگی یقینی طور پر معلوم نہ ہو،البتہ اگر کسی کے بارے میں یقین ہوجائے کہ وہ خلاف ِ شریعت کفریہ   شرکیہ عقیدے کاحامل ہے تو اس کے پیچھے نماز صحیح نہیں ہے۔

مزید تفصیل یہ ہے کہ اگر کسی   امام کے عقائدبلاتأویل کفریہ و شرکیہ  ہوں (     اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے کسی بھی صفت میں کسی کو شریک ٹھرائے، جیسے کہ بغیر کسی تاویل کے حضور اکرمﷺ کے حاضر و ناظر ہونے کا یا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے عالم الغیب ہونے کا عقیدہ رکھے) اور اس کے بارے میں  یقینی طور پر معلوم  ہویا ظن غالب ہو تو اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے،لیکن اگر  یقینی طور پر معلوم نہ ہویا  ظن غالب نہ ہو، پھر بھی ایسے بدعتی امام کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی  ہے ۔

اشاعت توحید  کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے امام کے بارے میں یہ بات ذہن میں رکھناچاہیئے کہ اہل السنہ والجماعہ کااجماعی عقیدہ ہےکہ آپ صلی  اللہ علیہ وسلم اپنی قبرمبارک میں زند ہ ہیں،اوریہ حیات حقیقی جسمانی حیات ہے،جوروح کےجسم کے ساتھ تعلق کی صورت میں ہے،انبیائےکرام علیہم السلام کی روحوں کاان کے مدفون اجسام کےساتھ تعلق اتناقوی ہےکہ اس کی بناء پر ان کوشہداء (جن کے احیاء ہونے اور اموات کہنےکی ممانعت صراحۃً قرآن کریم میں ہے)سےبھی زیادہ قوی حیات حاصل ہے،نیزروح کابدن کےساتھ تعلق احادیث صحیحہ کثیرہ سےثابت ہے،البتہ اس تعلق کی  حقیقت اللہ ہی کےعلم میں ہے،اگرکوئی شخص روح کےجسم کےساتھ تعلق کاانکارنہیں کرتاتواس کےپیچھےنماز پڑھناجائزہے۔اگرکوئی امام اس مذکورہ بالا عقیدہ کےخلاف عقیدہ رکھتاہویعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سےمتعلق قبرمیں جسمانی  حیات  کابالکلیہ انکار کرےاورجسم مبارک کومردہ سمجھتاہوتویہ عقیدہ چونکہ قرآن پاک ، احادیث مبارکہ  کی تصریح اوراہل السنہ والجماعہ کے اجماعی عقیدےکےخلاف ہے، اس لیےایسے شخص کےپیچھےنماز پڑھنامکروہ تحریمی ہوگی۔

اہل حدیث حضرات کا اہل السنہ والجماعہ کے ساتھ بعض فقہی قواعد و مسائل میں اختلاف ہے، جیسے اجماع اور قیاس کو حجت نہ ماننا، ائمہ اربعہ کی تقلید کو جائز نہ سمجھنا،  ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک ماننا وغیرہ، لہذا اگرغیر مقلد امام  سلف صالحین اورائمہ کوبرابھلاکہتاہو اورمقتدیوں کے مذہب کی ان امور کی رعایت نہ رکھتا ہو جن پر نماز کا صحیح ہونا  موقوف ہو تواس کی اقتدا  میں نماز پڑھناجائز نہیں اور امام کا حال معلوم نہ ہونے کی صورت میں اس کے اقتدا میں نماز مکروہ  تحریمی ہے، البتہ  خوش عقیدہ امام ( ائمہ سلف کو بُرا بھلا نہ کہتا ہو اور مسائل میں مقتدیوں کے مذہب کی رعایت کرتا ہو )کے پیچھے نمازجائز ہوگی۔

جماعتِ اسلامی سے تعلق رکھنے والے امام کا بھی یہی حکم ہے۔

واضح رہے کہ انفراداً نماز پڑھنے سے بہتر ہے کہ نماز باجماعت پڑھی جائے ۔نیز ان جیسے ائمہ کرام کی اقتدا میں پڑھی جانے والی نمازیں واجب الاعادہ نہیں ہیں۔

یہ امر بھی واضح  رہے کہ کراہت کا مذکورہ بالا حکم اس وقت ہے جب کوئی متبع سنت امام میسر  ہو ،یا  مندرجہ بالا صفات کے حامل شخص کو اپنے اختیارسے اما م بنایاجائے، جبکہ دوسری مسجد میں نماز پڑھنے میں فتنہ برپا ہونے  کا قوی اندیشہ نہ  ہو،ورنہ کراہت  نہیں ۔اس وضاحت کی روشنی میں تبلیغی حضرات کے ساتھ اگرچہ جماعت میں متبع سنت اما م تو اکثر ہوتاہے ،لیکن ان مساجد میں  نہ اسے اپنے  اختیارسے امام بنایا جاسکتاہے اور نہ وہ  اس مسجد کو چھوڑ کر دوسری مسجدمیں صرف نماز پڑھنے کے لئے جاسکتے ہیں ، کیونکہ  تبلیغی حضرات  جس  مسجد میں جاتے ہیں تو ساراسامان وغیر ہ بھی اسی مسجد میں لے جاتے ہیں ،اس لئے اس مسجد کوچھوڑکر دوسری مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے جانے سے فتنہ پید اہونے کا قوی امکان  ہوتا ہے ، لہٰذا ان کا  مجبوراً  ایسے امام کے پیچھےنماز پڑھنا بلاکراہت جائز ہے ۔

اس  حکم میں کسی قسم کی تخصیص نہیں ہے، اور ایسی نماز  واجب الاعادہ بھی نہیں ،خواص و عوام  سب کے لئے شرعی حکم  میں یہی تفصیل ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 560):

(ومبتدع) أي صاحب بدعة وهي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لا بمعاندة بل بنوع شبهة وكل من كان من قبلتنا (لا يكفر بها) حتى الخوارج الذين يستحلون دماءنا وأموالنا وسب الرسول، وينكرون صفاته تعالى وجواز رؤيته لكونه عن تأويل وشبهة بدليل قبول شهادتهم، إلا الخطابية ومنا من كفرهم.

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (3/ 1020):

1366 - وعن أبي الدرداء قال: «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أكثروا الصلاة علي يوم الجمعة، فإنه مشهود تشهده الملائكة، وإن أحدا لم يصل علي إلا عرضت علي صلاته حتى يفرغ منها "، قال: قلت: وبعد الموت؟ قال: " إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء، فنبي الله حي يرزق» ". رواه ابن ماجه.

1366 - (وعن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أكثروا الصلاة علي يوم الجمعة، فإنه ") ، أي: يوم الجمعة... (" وإن أحدا لم يصل علي ") : يحتمل الإطلاق والتقييد (" إلا

عرضت علي ") : إما بالمكاشفة أو بواسطة الملائكة (" صلاته ") ، أي: وإن طالت المدة من ابتداء شروعه (" حتى يفرغ منها ") ، أي: من الصلاة يعني: الصلوات كلها معروضة علي. (قال) ، أي أبو الدرداء ظنا أن هذا مختص بحال الحياة الظاهرة (قلت: وبعد الموت) ، أي: أيضا، والاستفهام مقدر ويبعد الحمل على الاستبعاد لمخالفته حسن الاعتقاد، أو وبعد الموت ما الحكم فيه؟ (قال: " إن الله حرم على الأرض ") ، أي منعها منعا كليا (" أن تأكل أجساد الأنبياء ") ، أي: جميع أجزائهم، فلا فرق لهم في الحالين، ولذا قيل: أولياء الله لا يموتون ولكن ينتقلون من دار إلى دار، وفيه إشارة إلى أن العرض على مجموع الروح والجسد منهم بخلاف غيرهم، ومن في معناهم من الشهداء والأولياء، فإن عرض الأمور ومعرفة الأشياء إنما هو بأرواحهم مع أجسادهم (" فنبي الله ") : يحتمل الجنس والاختصاص بالفرد الأكمل، والظاهر هو الأول ; لأنه رأى موسى قائما يصلي في قبره، وكذلك إبراهيم كما في حديث مسلم، وصح خبر: الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون، قال البيهقي: وحلولهم في أوقات مختلفة في أماكن متعددة جائز عقلا، كما ورد به خبر الصادق: (" حي ") ، أي دائما (" يرزق ") : رزقا معنويا فإن الله تعالى قال في حق الشهداء من أمته {بل أحياء عند ربهم يرزقون} [آل عمران: 169.

الفتاوى الهندية (1/ 84):

 قال المرغيناني تجوز الصلاة خلف صاحب هوى وبدعة ولا تجوز خلف الرافضي والجهمي والقدري والمشبهة ومن يقول بخلق القرآن وحاصله إن كان هوى لا يكفر به صاحبه تجوز الصلاة خلفه مع الكراهة وإلا فلا. هكذا في التبيين والخلاصة وهو الصحيح.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 563):

لكن في وتر البحر إن تيقن المراعاة لم يكره، أو عدمها لم يصح، وإن شك كره يكره تحريما.

(قوله إن تيقن المراعاة لم يكره إلخ) أي المراعاة في الفرائض من شروط وأركان في تلك الصلاة وإن لم يراع الواجبات والسنن كما هو ظاهر سياق كلام البحر.

مطلب في الاقتداء بشافعي ونحوه هل يكره أم لا؟

وظاهر كلام شرح المنية أيضا حيث قال: وأما الاقتداء بالمخالف في الفروع كالشافعي فيجوز ما لم يعلم منه ما يفسد الصلاة على اعتقاد المقتدي عليه الإجماع، إنما اختلف في الكراهة. اهـ فقيد بالمفسد دون غيره كما ترى. وفي رسالة [الاهتداء في الاقتداء] لملا علي القارئ: ذهب عامة مشايخنا إلى الجواز إذا كان يحتاط في موضع الخلاف وإلا فلا.

والمعنى أنه يجوز في المراعي بلا كراهة وفي غيره معها. ثم المواضع المهملة للمراعاة أن يتوضأ من الفصد والحجامة والقيء والرعاف ونحو ذلك، لا فيما هو سنة عنده مكروه عندنا؛ كرفع اليدين في الانتقالات، وجهر البسملة وإخفائها، فهذا وأمثاله لا يمكن فيه الخروج عن عهدة الخلاف، فكلهم يتبع مذهبه ولا يمنع مشربه اهـ.

وفي حاشية الأشباه للخير الرملي: الذي يميل إليه خاطري القول بعدم الكراهة، إذا لم يتحقق منه مفسد. اهـ.

وبحث المحشي أنه إن علم أنه راعى في الفروض والواجبات والسنن فلا كراهة، وإن علم تركها في الثلاثة لم يصح، وإن لم يدر شيئا كره لأن بعض ما يجب تركه عندنا يسن فعله عنده فالظاهر أن يفعله، وإن علم تركها في الأخيرين فقط ينبغي أن يكره لأنه إذا كره عند احتمال ترك الواجب فعند تحققه بالأولى، وإن علم تركها في الثالث فقط ينبغي أن يقتدي به لأن الجماعة واجبة فتقدم على تركه كراهة التنزيه اهـ وسبقه إلى نحو ذلك العلامة البيري في رسالته، حيث ادعى أن الانفراد أفضل من الاقتداء به قال: إذ لا ريب أنه يأتي في صلاته بما تجب الإعادة به عندنا أو تستحب، لكن رد عليه ذلك غيره في رسالة أيضا، وقد أسمعناك ما يؤيد الرد، نعم نقل الشيخ خير الدين عن الرملي الشافعي أنه مشى على كراهة الاقتداء بالمخالف حيث أمكنه غيره، ومع ذلك هي أفضل من الانفراد، ويحصل له فضل الجماعة، وبه أفتى الرملي الكبير، واعتمده السبكي والإسنوي وغيرهما.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 562):

وفي النهر عن المحيط: صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة.

(قوله نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع لحديث «من صلى خلف عالم تقي فكأنما صلى خلف نبي» قال في الحلية: ولم يجده المخرجون نعم أخرج الحاكم في مستدركه مرفوعا «إن سركم أن يقبل الله صلاتكم فليؤمكم خياركم، فإنهم وفدكم فيما بينكم وبين ربكم».

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (1/ 369):

(قوله وكره إمامة العبد والأعرابي والفاسق والمبتدع والأعمى وولد الزنا) بيان للشيئين الصحة والكراهة أما الصحة فمبنية على وجود الأهلية للصلاة مع أداء الأركان وهما موجودان من غير نقص في الشرائط والأركان ومن السنة حديث «صلوا خلف كل بر وفاجر» ، ...فالحاصل أنه يكره لهؤلاء التقدم ويكره الاقتداء بهم كراهة تنزيه، فإن أمكن الصلاة خلف غيرهم فهو أفضل وإلا فالاقتداء أولى من الانفراد وينبغي أن يكون محل كراهة الاقتداء بهم عند وجود غيرهم وإلا فلا كراهة كما لا يخفى ...

(قوله فالحاصل أنه يكره إلخ) قال الرملي ذكر الحلبي في شرح منية المصلي أن كراهة تقديم الفاسق والمبتدع كراهة التحريم، وأما العبد والأعرابي وولد الزنا والأعمى فالكراهة فيهم دون الكراهة فيهما ولا يخفى أن ما هنا أوجه لما تقدم من الدليل تأمل.

عبدالعلی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

01/ صفر/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالعلی بن عبدالمتین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب