03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسلام اور سیکولرازم
84502حکومت امارت اور سیاستدارالاسلام اور دار الحرب اور ذمی کے احکام و مسائل

سوال

سیکولرازم کیا ہے اور کیا اسلام سیکولر نظام کو قبول کرتا ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آکسفورڈ ڈکشنری میں سیکولرزم کی تعریف یہ لکھی گئی ہے:

 ​The belief that religion should not be involved in the

organization of society, education, etc. (Oxford dictionary)

            کیمبرج ڈکشنری میں ہے:

The belief that religion should not be involved with the ordinary social and political activities of a country.(Cambridge dictionary)

سیکولرزم  کی مختلف تعریفات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیکولرزم میں  قوانین  عقل انسانی کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں ، جبکہ اسلام اس بات کا درس دیتا ہے کہ حاکمیت صرف اللہ تعالی کو حاصل ہے اور وہی اصل مقنن ہے، اسی طرح  اگر سیکولر نظام کو قبول کیا جائے تو اسلام کے فراہم کردہ  وہ راہنما اصول جو معیشت ، معاشرت او ر سیاست سے تعلق رکھتے ہیں ،ان کا بالکلیہ ترک لازم آئے گا۔اسلام ایک مکمل دین اور ضابطہ  حیات ہے ،یہ جس طرح انسان کی انفرادی زندگی کےہر پہلومیں  رہنمائی فراہم کرتا ہے ،اسی طرح  معاشی ،معاشرتی اور سیاسی پہلوؤں میں بھی مکمل راہنمائی دیتا ہے،لہذا  اگر سیکولرزم کو قبول کیا  جائے تو اس کا مطلب اسلام کو زندگی کے کئی اہم شعبہ جات سے الگ کرنا ہے،جو کسی طرح قابل قبول نہیں ہے ۔

خلاصہ یہ کہ  سیکولرزم اسلام کے مقابل ایک ایسا نظام ہے جس کی عمارت درج ذیل چار ستونوں پر قائم ہے:

1: یہ نظام عقلِ انسانی کو معیار قرار دے کر محض اس مادی دنیا پر نگاہ رکھتا ہے اور اجتماعی طور پر ایسا ماحول بنانے پر زور دیتا ہے جو انسانوں کی توجہ غیبی دنیا سے پھیر کر اس مشاہداتی دنیا پر مرکوز کردے۔

2: یہ اخلاقیات وسماجیات کو مذہب سے جدا کر کے لا دینی بنانے کا پرزور داعی ہے۔

3: مملکت و سلطنت اور سیاست سے مذہب کو دور رکھنا چاہتا ہے۔

4: طریقۂ تعلیم کو مکمل لادینی بنانے کے در پے ہے۔

سیکولرزم کے متعلق  مزید تفصیل کے لئے ماہنامہ البینات  میں تین اقساط پر مشتمل مضمون ملاحظہ فرمائیں ، شمارہ جات (جون ، جولائی ،اگست 2019)، مضمون (اسلام اور سیکولرزم)۔

حوالہ جات

۔۔۔

اسامہ مدنی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

30/ محرم/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسامہ بن محمد مدنی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب