03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیو ی کی طلاق کو بہن کا گھر نہ بسنے پر معلق کرنے کا حکم
84486طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

  میں نے کچھ الفاظ کہے ہیں جس سے پہلے سیاق و سباق بتانا ضروری سمجھوں گا۔میری اہلیہ کی خالہ کی ایک جگہ سے طلاق ہوئی ،وہیں پرمیری بہن کا رشتہ ہوا ۔میری ساس اور اہلیہ بلکہ سارا سسرال اس بات پر رضامند نہیں تھا۔ میری ساس میرے ہونے والے بہنوئی (جس نے میری اہلیہ کی خالہ یا ساس کی بہن کو طلاق دی تھی) کی بہن (جو میری بیوی کی نند ہے) کے ساتھ گھاس کاٹنے کے لیے جایا کرتی تھی اور اس کے کان بھرا کرتی تھی، جس سے میری بہن کا رہنا محال ہو گیا تھا۔اسی صورت حال کو دیکھتے ہوئے میں ایک دن بہت زیادہ جذباتی ہو گیا اور اپنے سسر ( چچا )کو اپنے ساس کی چالوں کے بارے میں بتاتے ہوئے ایک قسم اٹھائی تھی۔میں اپنے لفظ جو پنجابی میں کہے تھے، کو اردو میں دہراتا ہوں  "چاچا جان! میری چاچی (ساس )میری بہن کی جڑیں کاٹ رہی ہے اور اگر میری بہن کا گھر نہ بسا تو آپ کی بیٹی کو تین طلاق" اس کے بعد  میرے سسرال کی مداخلت کم ہو گئی تھی۔ البتہ میری بہن کے سسرال والے خود ہی اچھے لوگ نہیں تھے اور انہوں نے میری بہن کا جینا بہت ہی مشکل کر دیا ہے تو اب ان حالات کی وجہ سے مجھے ان سے بہن کے لیےطلاق لینا پڑ رہا ہے، لیکن اس میں میرے سسرال کا بالکل دخل نہیں ہے۔تو عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کیا اس صورت میں بھی میری بیوی کو تین طلاق ہو جائیں گی ؟حالانکہ وہ علت شامل نہیں ہے جس کی وجہ سے میں نے یہ قسم اٹھائی تھی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت اور عقل و دانش کا تقاضایہ ہےکہ شدید مجبوری کے بغیر طلاق  دینے اورلینے سےگریز کیا جائے ۔ طلاق  کی وجہ سے  دونوں گھر تباہی کا شکار ہوجاتے ہیں اور اس کی وجہ  سےدونوں خاندانوں کےدرمیان جھگڑا پیدا ہونے کا قوی خدشہ  ہوتاہےجوکہ  شریعت میں انتہائی مذموم ہے۔ یہی وجہ ہےکہ حضوﷺ نے حلال امور میں سے طلاق کو سب سے زیادہ مبغوض قرار دیا ہے۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ  نکاح کے رشتہ میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ، ان میں سے اکثر مسائل کا حل بآسانی نکل سکتا ہےاور کم ہی مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل نہ نکل سکے۔   لہذا آ پ  کو چاہیےکہ بہن  کےلیے طلاق لینے سے گریز کریں اور اس کی جگہ میاں بیوی آپس میں بیٹھ کر اپنےمسائل کا حل نکالیں۔ اگرخود نہ نکال سکیں تو دونوں خاندانوں کےسمجھدار لوگ مل کر ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ان کی کوشش بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہو اور میاں بیوی  کا ان مسائل کےہوتے ہوئے ایک ساتھ چلنا  بھی ممکن  نہ ہو تو انتہائی مجبوری کےعالم میں اس  کے لیے  طلاق   لینے کی گنجائش ہے۔  

 صورت مسئولہ  میں بحالت مجبوری طلاق لینی پڑی تو بیو ی کو طلاق واقع ہونے کا حکم یہ ہے کہ اگر  سوال میں ذکرکردہ یہ بات حقیقت کے مطابق ہے کہ  بہن کے لیے طلاق لینے کی اصل وجہ اس کے  سسرال والوں کی شرارت  ہے ، آپ کی ساس کی مداخلت نہیں تو  شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے   بیوی کو طلاق واقع نہیں ہوگی ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 229):

يستحب لو مؤذية أو تاركة صلاة غاية، ومفاده أن لا إثم بمعاشرة من لا تصلي ويجب لو فات الإمساك بالمعروف ويحرم لو بدعيا. (قوله لو مؤذية) أطلقه فشمل المؤذية له أو لغيره بقولها أو بفعلها.

نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

30     /محرم/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب