| 84524 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
میرا مسئلہ یہ ہے کہ ہم تین بھائی اور تین بہن پچھلے بارہ سالوں سے اپنےایک مشترکہ گھر میں رہتے ہیں۔ میرا ایک بھائی دبئی میں جاب کرتا ہے اور دوسرا بھائی اسلام آباد میں پراپرٹی کا کام کرتا ہے۔ میں اپنے گاؤں میں ایک سرکاری ادارے میں ملازمت کرتا ہوں، میری تنخواہ پر مشتر کہ گھر کا خرچہ چلتا تھا،مثلا گھر کا راشن ، بجلی اور گیس کے بل، اپنے بچوں کے ساتھ بھتیجوں کی تعلیم و تربیت ، سکول کی فیس وغیرہ ۔ میری ملازمت سے جتنی آمدنی آتی تھی ، وہ سب مشترکہ گھر پر خرچ ہوتی تھی ، پچھلے ان بارہ سالوں میں میرے دونوں بھائیوں نے خوب پیسہ کمالیا، دونوں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ اب ہم مزید اکٹھے نہیں رہ سکتے اور الگ ہوگئے۔ ہماری پختون روایات میں یہ ہے کہ جب بھائی الگ الگ گھر بسا لیتے ہیں، تو سارا سرمایہ خواہ کسی کے بھی پاس ہو اور کسی بھی شکل میں ہو، سب کو اکٹھا کرکے آپس میں تقسیم کرتے ہیں ، مگر بدقسمتی سے میرے بھائیوں نے ایسا نہیں کیااور میرے بارہ سال ضائع ہوئے،میری ساری کمائی مشترکہ گھر پر خرچ ہوتی رہی، اب میرے پاس ایک روپیہ بھی نہیں۔ میرے دونوں بھائیوں نے لاکھوں روپے کی پراپرٹی بنائی اور گاڑیاں خریدی ہیں اور وہ دونوں یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ شریعت کی رو سے جو چیز جس نے کمائی ہے، وہی ان کا مالک ہوتا ہے، اس حوالہ سے انہوں نے ایک مفتی صاحب کا فتوی بھی پیش کیا، میں نے کہا ٹھیک ہے ، یہ سارا سرمایہ آپ دونوں رکھ لیں ، لیکن مجھے پچھلے بارہ سالوں کا حساب دیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا میرا گزشتہ بارہ سالوں میں کیے گئے اخراجات کے حساب کا مطالبہ شریعت کی رو سے درست ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مشترکہ خاندانوں میں عموماً یہ صورتحال ہوتی ہے کہ والد اور بھائی وغیرہ اکٹھے رہتے ہیں ،اکٹھے کماتے ہیں اور اکٹھے ہی خرچ کرتے ہیں، ایسی صورتحال میں بسا اوقات گھر کے بعض افراد کسی نہ کسی کاروبار یا ملازمت وغیرہ میں مصروف ہوکر کچھ نہ کچھ کما رہے ہوتے ہیں اور کچھ گھر کی نگرانی اور گھر کے کام کاج کی ذمہ داری نبھاتے ہیں ،اسی طرح بعض اوقات ان کی آمدن کے ذرائع الگ الگ ہوتے ہیں اور کبھی ایک ہی کاروبار میں سب اکٹھے مل کر کمارہے ہوتے ہیں اور بعض اوقات ہر ایک اپنی کمائی الگ رکھتا ہے اور کبھی سب ایک ہی جگہ کسی ایک بھائی کے پاس یا والد صاحب کے پاس اپنی آمدنی جمع کرتے رہتے ہیں۔
اس طرح کے مشترکہ خاندانی نظام میں شراکت داری کے شرعی اصولوں کی عام طور پر رعایت نہیں رکھی جاتی کہ پہلےباقاعدہ تمام افراد کی طرف سے کچھ نہ کچھ سرمایہ ملاکر ہر ایک کے لیے نفع و نقصان کا تناسب طے کرکے شراکت داری کے اصول کےمطابق معاملہ طے کریں ، بلکہ اس طرح کا کوئی معاملہ طے کیے بغیر گھر کے مشترکہ اخراجات میں متفرق طور پر حصہ لیتے رہتے ہیں یا اپنی آمدنی ایک جگہ جمع کرکے خلط کرلیتے ہیں اور اس اجتماعی رقم سے مشترکہ اخراجات کرلیتے ہیں،حالانکہ یہ دونوں کام شرعی لحاظ سے شراکت داری ہونے کے لیے کافی نہیں ہیں، لہٰذا مشترکہ خاندان میں شراکت داری کی یہ جو صورت ہوتی ہے ، اسے شرکت فاسدہ کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔
اسی طرح مشترکہ خاندانوں میں مشترکہ کمائی اور خرچے کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ اس میں یہ عرف ہوتاہے کہ اگر ایک بھائی مشترکہ استعمال وضرورت کے لئے کوئی چیز خریدکراپنی کمائی ہوئی رقم سے ادائیگی کرتاہے، تو اس خریداری اور ادائیگی میں وہ اپنے آپ کوباقی بھائیوں کی طرف سے وکیل(Agent)سمجھ رہاہوتاہے،یعنی اس کی یہ نیت ہوتی ہے کہ میں جو یہ خرچ کررہاہوں ،یہ میں اپنے دوسرے بھائیوں اور خاندان والوں پر تبرع نہیں کررہا، بلکہ آج میں نے دوسرے بھائیوں کی طرف سے مشترکہ ضرورت کی ایک چیز کی خریداری اور ادائیگی کی ہے اور کل اس کے عوض میں دوسرے بھائی میری طرف سے مشترکہ ضرورت کی کسی چیز کی خریداری کریں گےاور یوں برابری کامعاملہ رہے گا۔ اس عرف کے پیش نظر یہ بات بھی طے ہوتی ہے کہ جب ایک بھائی اپنی کمائی جمع کرتا رہتاہو او ر مشترکہ اخراجات میں حصہ نہ لیتاہو،تو اس کی اس جمع کردہ کمائی میں دوسرے وہ بھائی جنہوں نے مشترکہ اخراجات میں حصہ لیاہو،اپنے آپ کو باقاعدہ حصہ دار سمجھتے ہیں ، اب ایسی صورت میں جب یہ بھائی اور اہلِ خاندان ایک دوسرے سے الگ ہورہے ہوں ، تو مشترکہ کمائی اور اس کی تقسیم کاشرعی لحاظ سے کیاحکم ہوگا ،یعنی کس حد تک یہ بھائی ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہوں گے اور کن کن چیزوں میں ہر شریک کی الگ اور انفرادی ملکیت تسلیم کی جائے گی ؟ اس سوال کے جواب میں درج ذیل تفصیل ہے :
اگرمشترکہ خاندان کے افراد کی آمدنیو ں کی مقداریں یکساں یاقریب قریب ہوں یاآمدنیوں کی درست مقدار معلوم ہی نہ ہو، تو اان تینوں صورتوں میں ان اہلِ خاندان میں سے ہر کمانے والے فردکوہرہرچیز میں بالکل برابر کا حصہ دار مانا جائے گا، لہذ اجوسامان او ر اثاثہ جات موجودہوں گے، ان میں سے بھی ہرایک کومساوی حصہ دیاجائے گا اور جو نقدآمدن ہوگی (خواہ وہ یکجاجمع ہویاہر ایک نے اپنے پاس رکھی ہو) اس میں بھی سب کو برابر کاحصہ دیاجائے گا، اور کسی بھی چیز میں ایک کودوسرے پر ترجیح نہ ہوگی ،اسی طرح جس فرد نے سب کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے گھر کے ضروری کام کاج سنبھالے ہوں، اس کو باقی افراد کی طرح کمائی میں برابر کا شریک سمجھا جائے گا۔
اور اگر ان شرکاء کی کمائی کی مقدار یکساں یاقریب قریب نہ ہو، بلکہ بعض شرکاء کی آمدنی واضح طور پر زیادہ ہواور دوسروں کی واضح طور پر کم ہو، تو ایسی صورت میں جس شریک کی کمائی سب سے کم ہو، اس کی کمائی کا جو تناسب ہوگا ،اس حد تک تو سب شریک ہوں گے ، البتہ جس کی آمدن اس سے جس تناسب سے زیادہ ہو، اسے اس تناسب سے زیادہ حصہ دیا جائے گا ، اس صورت میں بھی جس شریک نے سب کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے گھر کی عمومی ذمہ داریاں سنبھالی ہوں، وہ بھی اوسط حصے کی حدتک باقی افراد کی کمائی میں شریک سمجھا جائے گا ۔
صورت مسئولہ میں سائل کے مطابق وہ اپنے دوسرے بھائیوں کی کمائی اور جائیداد میں سے کچھ نہیں لینا چاہتا ، بلکہ وہ گذشتہ بارہ سالوں میں اپنے کیے گئے خرچے کے حساب کا مطالبہ کرنا چاہتا ہے، تو ایسی صورت میں چونکہ سائل نے اکیلے اپنی کمائی سے گھر کا خرچہ چلایا ہے اور اپنی آمدن میں سے کچھ بچایا بھی نہیں ہے، جبکہ باقی دو بھائیوں نے اپنی کمائی گھر کے اخراجات پر نہیں لگائی ہے، بلکہ اپنے پاس رکھی ہے ، تو ایسی صورت میں جو بھائی(سائل) گھر پر رہا ہے ، وہ باقی دونوں کی کمائی میں بھی شریک سمجھا جائے گا، جس کی تفصیل یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ مذکورہ صورت میں سب بھائیوں کی الگ الگ کمائیوں کی مقدار اور ایک دوسرے سے فرق معلوم ہے یا نہیں؟ اگر فرق معلوم نہ ہو، تو تینوں بھائی سب کی مجموعی کمائی میں برابرکے شریک ہوں گےاور باقی دوبھائیوں کے پاس جو رقم موجود ہے، گھر پر رہنے والا بھائی اس میں برابر کا شریک ہے اور اگر ان کمائیوں کی کمی بیشی اور آپس کا فرق معلوم ہو، تو جو بھائی گھرمیں اپنی کمائی خرچ کرتا آرہا ہو، اس کو اپنی اس کمائی کی بقدر رقم باقی دو بھائی دیں گےاور یہ دو بھائی یہ رقم اپنے اپنے اہل و عیال کی تعداد کے حساب سے دینے کے پابند ہوں گے، جبکہ گھر پر رہنے والے بھائی کا خرچہ اس کے اوپر نہیں ڈالا جائے گا، کیوں کہ اس نے مشترکہ گھر کی دوسری ذمہ داریاں بھی انجام دی ہیں، تو اس کا اپنا ذاتی اور اہل و عیال کا خرچہ اس (ذمہ داری) کا عوض قرار دیا جائے گا۔
ضروری وضاحت: مذکورہ بالا حکم اس وقت ہے ، جب حقیقت میں ایسی صورت حال پیش آئی ہو، اگر اصل صورت حال اس سے کچھ مختلف یا اس کے بالکل برعکس ہو ، تو اس کی پوری تفصیل لکھ کر ارسال کردیں،اسی کے مطابق جواب دیا جائے گا۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 325)::
(وما حصله أحدهما فله وما حصلاه معا فلهما) نصفين إن لم يعلم ما لكل .....مطلب: اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية [تنبيه] يؤخذ من هذا ما أفتى به في الخيرية في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دار واحدة وأخذ كل منهما يكتسب على حدة ويجمعان كسبهما ولا يعلم التفاوت ولا التساوي ولا التمييز.فأجاب بأنه بينهما سوية وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية ولو اختلفوا في العمل والرأي ا ه
صفی اللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
01/صفر المظفر /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صفی اللہ بن رحمت اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


