| 84546 | نکاح کا بیان | ولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان |
سوال
میری بیٹی کے آفس میں ایک لڑکا کام کرتا ہے اور وہ میری بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے ۔ وہ لڑ کا اہل تشیع میں سے ہے ، اس کی والدہ سنی ہیں اور والد شیعہ ہیں ،جبکہ ہم اہل السنت والجماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیا سنی لڑکی کا نکاح شیعہ لڑکے سے ہو سکتا ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ اگر لڑکی اپنے والد کی اجازت کے بغیر ازخود شیعہ لڑکے سے نکاح کرلے تو والد ہونے کی حیثیت سے میری کیا ذمہ داری بنتی ہے، کیا ایسی صورت حال میں میں گناہ گار تو نہیں ہوں گا ؟ اگر میری مرضی کے بغیر نکاح ہو تو شرعی طور پر مجھے کیا اقدامات کرنے چاہئیں ؟
تنقیح : سائل نے زبانی بتایا کہ مسلک الگ ہونے کے علاوہ اخلاق او ر دینداری میں کوئی خاص فرق نہیں ،مزید یہ کہ لڑکے کی ماں اور خاندان میں کچھ دیگر عورتیں بھی سنی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، اور مذہبی لحاظ سے ہر ایک اپنے اپنے مسلک کے مطابق عمل کرنے میں آزاد ہے ۔ لڑکی کا رشتہ پہلےتین جگہ سے ٹوٹ چکاہے اور اس کی عمر شادی کی طبعی عمر سے بڑھتی جارہی ہے ۔لڑکی اور اس کا والد دونوں لڑکے کو پسند کرتےہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر شیعہ لڑکے کے عقائد کفریہ ہوں، مثلا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدائی کا قائل ہو یاقرآن کریم کوتحریف شدہ مانتا ہویاام المومنین حضرت عائشہؓ پرتہمت لگاتا ہو یاحضرت جبرئیل علیہ السلام کے متعلق اعتقادرکھتاہو کہ انہوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی پہنچانے میں غلطی کی ہے یااس قسم کے کسی اورکافرانہ عقیدے کامعتقد ہو، جو صریح قرآن اورنصوص قطعیہ کے مخالف ہوں تووہ کافرہے اوراس کےساتھ کسی صورت میں آپ کی بیٹی کا نکاح جائز نہیں ۔اگر کرے گی تو نکاح نہ ہوگا ،دونوں بدستور اجنبی رہیں گے۔
لیکن اگر اس کےعقائد کفریہ نہیں اور تقیہ سے کام لیے بغیراہل تشیع کے باطل اور کفریہ عقائد سے براءت کا اعلان کرلیتا ہے تو آپ کی اجازت کے بغیر ان کا آپس میں نکا ح کرنا پسندید ہ نہیں ،البتہ نکا ح صحیح ہوگا۔ واضح رہےکہ اگر شیعہ لڑکے نے تقیہ( غلط بیانی ) کر کے بغرض نکاح اپنے کفریہ عقائد کو چھپایا، اور بعد میں اس کا اظہار کرنے لگا تو نکاح شروع دن سے کالعدم سمجھا جائے گا، اور ایسی صورت میں آپ کی یہ ذمہ داری بنے گی کہ بچی کو ہرممکن طریقے سے علیحدگی اختیار کرنے پر آمادہ کریں، اور اگر وہ آمادہ نہ ہو تو اگر عدالت میں مقدمہ لڑنے کی طاقت ہو تو بذریعہ عدالت ان پر دباؤ ڈال کر ان کے درمیان تفریق کو یقینی بنایا جائے، لیکن اگر عدالت میں مقدمہ لڑنے کی طاقت نہ ہو تو خاندانی بائیکاٹ کر کے اس پر معاشرتی دباؤ کو بڑھایا جائے۔ان اقدامات کے بعد بھی اگر آپ ان کے درمیان علیحدگی کو یقینی بنانے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو آپ اس گناہ کےذمہ دار نہیں ہوں گے۔چونکہ اس نکاح میں شروع سے ہی کئی خدشات ہیں ،اس لیے اس جگہ نکاح کرنا مناسب نہیں ،ایسا نہ ہو کہ بعد میں بڑی پریشانی کا سبب بنے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم ( سورۃ التوبۃ : 118):
وعلى الثلاثة الذين خلفوا حتى إذا ضاقت عليهم الأرض بما رحبت وضاقت عليهم أنفسهم وظنوا أن لا ملجأ من الله إلا إليه ثم تاب عليهم ليتوبوا إن الله هو التواب الرحيم.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 46):
وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي أو كان ينكر صحبة الصديق أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر .
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 271):
ومنها إسلام الرجل، إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا} [البقرة: 221] ولأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين إليه وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل: {أولئك يدعون إلى النار} [البقرة: 221] لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر، والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النار؛ لأن الكفر يوجب النار، فكان نكاح الكافر المسلمة سببا داعيا إلى الحرام فكان حراما.
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
02/صفر /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


