| 84520 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمارے والدین کا انتقال ہوچکاہے اورہم تین بھائی(صابر،واجد ،ساجد)اورتین بہنیں ہیں،ساجد( جوکہ مدرسے کا طالب علم ہے اس )کے علاوہ باقی تمام شادی شدہ ہیں،رہائش کے علاوہ ہمارا ایک 5 مرلے کا مشترکہ پلاٹ ہے،سب سے بڑابھائی یعنی صابریہ کہتاہے کہ میں اپنے لیے اڑھائی پلاٹ پر گھرتعمیر کرنا چاہتاہے، جب اسے کہاجاتاہے کہ باقی بھائیوں اوربہنوں کا حصہ ؟ تو وہ کہتاہے کہ میں نے تینوں بہنوں سے پوچھا ہے، وہ کہتی ہیں کہ انہیں حصہ نہیں چاہیے، لہذا اب تین بھائی بچیں،ان تین میں سےجو مدرسے کا طالب علم ہےمیں اس کے حصے میں سے کچھ لیکراپنااڑھائی مرلے کا پلاٹ تعمیرکرناچاہتاہوں اور اس کے حصہ کی رقم موجودہ قیمت کے اعتبارسے چارپانچ سال بعد ادا کردوں گا۔
اب سوالات یہ ہیں کہ
١١۔کیا ایساکرنا شرعی لحاظ سے صابرکےلیےجائز ہے ؟
۲۔بہنوں کی رضامندی میں غالب گمان یہ ہےکہ وہ رضامندی طیبِ نفس سے خالی ہے ،تو اس صورت میں اس کا کیاحکم ہوگا؟
۳۔چارپانچ سال بعد موجودہ زمانے کی قیمت ادا کرناکیساہے ؟حالانکہ پلاٹ کی قیمت لازمی بڑھے گی؟
۴۔5مرلوں میں تین بھائیوں اورتین بہنوں کا تناسب کیاہوگا؟
۵۔مذکورہ معاملے کےجواز کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
١۔ مشترکہ موروثی مکان پردیگرورثہ کی طیبِ خاطرکےبغیر اپنا ذاتی مکان تعمیرکرنا جائزنہیں ہے۔
۲۔ کسی وارث کا ترکہ میں سے کچھ لئے بغیر زبانی طور پراپنا حصہ بخش دینے سے ترکہ میں اس کاحق ختم نہیں ہوتا، بلکہ بدستور باقی رہتاہے،لہذا مسؤلہ صورت میں صابرکی بہنوں کا حق والد کے ترکہ میں باقی ہے،صابربھائی کے سامنے جو زبانی طور پرانہوں نے اپنا حصہ معاف کیا ہے، اس سےان کاحصہ معاف نہیں ہوا،وہ اپنا حق اب بھی مانگ سکتی ہیں اورصابر اوردیگربھائیوں پر لازم ہے کہ ان کاحق پورا پورا اداکریں اوران کی اجازت کے بغیر ان کے حصوں میں کسی قسم کے تصرف کرنے سے گریز کریں ۔
۳۔ یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہےکہ بھائی کی رضامندی کےبغیر از خود اس کی زمین پر مکان بنالیاجائے اورپھر اس کو موجودہ قیمت بعد میں دی جائے،لہذا اس سے بھائی کاحق ختم نہیں ہوگا اور اس کے حصے پر مکان بنانا اس کی رضامندی کے بغیرصحیح نہیں ہوگا،ہاں اگروہ بھائی رضامندی سےبغیر کسی دباؤ کےاپنا حصہ صابربھائی پر فروخت کردے اورقیمت اپنی خوشی سے مؤخر کردے تو پھر یہ جائز ہوگا۔
۴۔ اس 5مرلہ پلاٹ کو9 حصوں میں تقسیم کرکے ہربہن کوایک ایک حصہ(%11.11) اورہر بھائی کو دو دو حصے(%22.22) ملیں گے۔
5۔جواز کی صورت یہ ہےکہ یاتوصابربھائی ان سب سے ان کی مرضی کی قیمت پران کے حصے خریدلے اورقیمت ادا کردے اوراگربہن ،بھائی بخوشی قیمت مؤخرکرناچاہیں تو ایسا بھی وہ کرسکتے ہیں ،اوراس صورت میں پلاٹ کی مارکیٹ ویلیو بڑھنے سے قیمت میں اضافہ نہیں کیاجائے گا،کیونکہ ایک مرتبہ جب عقدکرکے قیمت مقررکردی گئی اب یہ قیمت بھائی پر قرض ہوگئی اورتاخیر کی صورت میں قرض پر کسی قسم کا اضافہ وصول کرناشرعاًسود کے زمرے میں آنے کی وجہ سے جائزنہیں ہے۔
جواز کی دوسری صورت یہ ہوسکتی ہےکہ ترکہ شرعی حصوں کے حساب سے تقسیم کرکے ہروارث کواس کاحصہ دییدجائے اورپھروہ اپنی خوشی سے واپس دوسرے وارث کو گفٹ کردےیا اپنی مرضی کی قمیت پر فروخت کردے۔
جواز کی ایک اورصورت تخارج کی ہوسکتی ہےجس کاحاصل یہ ہے کہ وارث ا پنی میراث والے حصے سےکوئی چیز اٹھالے اورباقی ہبہ کردے، تاہم اس صورت میں یہ شرط ہے کہ جوچیز اٹھائی ہے اگروہ سونا،چاندی اور روپیہ ہوتو اسی جنس سے ترکہ میں اس کے حصہ میں اس سے کم مقداربچی ہو،تاکہ مثل مثل کےمقابلے میں ہوجائے اوراضافہ باقی ترکہ کےمقابلے میں ہوجائے اورسود لازم نہ آئے۔
حوالہ جات
وفی شرح المجلۃ:
إن أعیان المتوفي المتروکۃ عنہ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصہم۔ (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز، مکتبۃ اتحاد دیوبند ۱/۶۱۰، رقم المادۃ: ۱۰۹۲)
وفی مشکوة المصابیح:
عن أبي حرة الرقاشي عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألا لا تظلموا، ألا لا یحل مال امرئ إلا بطیب نفس منہ رواہ البیہقي في شعب الإیمان والدارقطني في المجتبی (مشکاة شریف ص ۲۵۵)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - (10 / 31)
عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»".( باب الغصب والعاریة، ج:1، ص:254، ط: قدیمی كتب خانه)
وفی تكملة حاشية رد المحتار (2 / 208):
وفيها: ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الارث جبري لا يصح تركه.
وفی غمز عيون البصائر (3 / 354):
قوله لو قال الوارث تركت حقي إلخ اعلم أن الإعراض عن الملك أو حق الملك ضابطه أنه إن كان ملكا لازما لم يبطل بذلك كما لو مات عن ابنين فقال أحدهما تركت نصيبي من الميراث لم يبطل لأنه لازم لا يترك بالترك بل إن كان عينا فلا بد من التمليك وإن كان دينا فلا بد من الإبراء وإن لم يكن كذلك بل ثبت له حق التملك صح كإعراض الغانم عن الغنيمة قبل القسمة كذا في قواعد الزركشي من الشافعية۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لو قال وارث تركت حقي إلى آخر كلامه وفيه التصريح بأن إبراء الوارث من إرثه في الأعيان لا يصح وقد صرحوا بأن البراءة من الأعيان لا تصح
وفی لسان الحكام - (1 / 236):
وفي جامع الفتاوى ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منه أو من حصتي لا يصح وهو على حقه لأن الإرث جبري لا يصح تركه.
وفی ’’شرح المجلۃ‘‘ :
’’لایجوز لأحد أن یتصرف في ملك غیره بلا إذنه أو وکالة منه أو ولایة علیه، وإن فعل کان ضامنًا‘‘. (شرح المجلة، ج:۱، ص:۶۱، مادة: ۹۶، دار الکتب العلمیة، بیروت)
وفی شرح المجلة لسليم رستم باز:
يصح بيع حصة شائعة معلومة كالنصف والثلث والعشر من عقار مملوك قبل الافراز أما إذا كانت الحصة غير معلومة فالبيع فاسد لجهالة المبيع فلو قال لرجل بعتك نصيبي من هذه الدار بكذا وقبل المشتري ولم يكن عالما بنصيبه لا يجوز هذا البيع وإن علم جاز ( خانية ) ... سواء باع من شر يکه أو من أجنبي ولا يشترط فيه إذن الشريك (هندية). (شرح المجلة لسليم رستم باز، الباب الثاني، الفصل الثاني، رقم المادة:214، ص:103)
قال الله تعالي:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن [النساء : 11]
وفی مشكاة المصابيح الناشر : المكتب الإسلامي - بيروت - (2 / 197)
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة "
وفی شرح المجلة لسليم رستم باز:
يصح بيع حصة شائعة معلومة كالنصف والثلث والعشر من عقار مملوك قبل الافراز.
وفی سنن الکبری للبیھقی:
"عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا".
(«باب كل قرض جر منفعة فهو ربا» (5/ 571) برقم (10933)، ط. دار الكتب العلمية، بيروت)
وفی الدر المختار للحصفكي - (ج 5 / ص 256-258):
(و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح........(و) تصح (بقبض بلا إذن في المجلس) فإنه هنا كالقبول فاختص بالمجلس (وبعده به) أي بعد المجلس بالاذن.وفي المحيط: لو كان أمره بالقبض حين وهبه لا يتقيد بالمجلس ويجوز القبض بعده (والتمكن من القبض كالقبض.
وفي الدرالمختار (٦/٢٤٢) :
(أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له (أو) أخرجوه (عن) تركة هي
(ذهب بفضة) دفعوها له (أو) على العكس أو عن نقدين بهما (صح) في الكل صرفا للجنس بخلاف جنسه (قل) ما أعطوه (أو كثر) لكن بشرط التقابض فيما هو صرف (وفي) إخراجه عن (نقدين) وغيرها بأحد النقدين لا يصح (إلا أن يكون ما أعطي له أكثر من حصته من ذلك الجنس) تحرزا عن الربا، ولا بد من حضور النقدين عند الصلح وعلمه بقدر نصيبه شرنبلالية وجلالية ولو بعرض جاز مطلقا لعدم الربا، وكذا لو أنكروا إرثه لأنه حينئذ ليس ببدل بل لقطع المنازعة.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
4/01/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


