03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رکشہ دے کر مالک کے بچوں کو اسکول سے پک اینڈ ڈراپ کرنے کاحکم
84497امانت ودیعت اورعاریت کے احکاممتفرق مسائل

سوال

کسی کو رکشہ لے کر دینا اور یہ معاملہ طے کرنا کہ میرے بچوں کو اسکول لے کر جانا ہوگا اور رکشہ میں جو خرابی آئے گی وہ آپ کے ذمہ ہوگی ۔شرعا ایسا معاملہ کرنا کیسا ہے؟

رکشہ جس کو دیاہے وہ چونکہ غریب ہے اور اب رکشہ کاٹائر خراب ہوگیاہے، اس کے پاس پیسے نہیں ہیں ،تو کیا رکشہ کا مالک اس کو زکوٰۃ دے سکتا ہے؟

تنقیح:سائل نے کال پر وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ رکشہ  کے مالک کا ڈرائیور سے  صرف یہی مطالبہ ہے کہ میرے بچوں کو اسکول لے کر جانا اور لانا ہے باقی آپ اپنے لئے چلا کر کماؤ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے  کہ عارضی طور پر  بغیر عوض کے استعمال کے لیے کوئی چیز کسی کو دینا عاریت کہلاتاہے اور عاریت پر لینے والے شخص کے پاس چیز شرعاً امانت شمار ہوتی ہے ، بغیر کوتاہی اور تعدی کے وہ ضامن نہیں ہوتا،البتہ کوتاہی اور غفلت ظاہر ہونے کی صورت میں وہ نقصان کا ذمہ دار ہوتا ہے،لہذا   مذکورہ صورت   میں  جو معاملہ کیا گیا ہے وہ  عاریت  کا   معاملہ ہے،کیونکہ مالک نے ڈرائیور کو رکشہ عارضی طور پر  بغیر کسی عوض کے استعمال کے لئے دیاہےاور ڈرائیور پر مالک کے بچوں کو  پک اینڈ  ڈراپ کرنا اگرچہ شرعا ً لازمی نہیں ہے ،لیکن  احسان کاتقاضہ یہ ہے کہ احسان کا بدلہ احسان سے دیاجائے۔نیز رکشہ میں خرابی کی  ذمہ داری اصلاً مالک پر ہے ،مگر چونکہ رکشہ سے اس  کی خر ابی ٹھیک کئے بغیر کوئی کام نہیں لیا جاسکتا،اس لئے اپنا کام چلانے کے لئےڈرائیور کو خود   خرابی  کی مرمت کرنی  پڑے گی،تاہم اگر وہ نہ کرے تو اس پر لازم بھی نہیں ۔

اگر رکشہ کا ڈرائیور مستحق ِ زکوٰۃ (وہ جس شخص کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے بقد رقم موجود نہ ہو)ہے تو  زکوٰۃ دینا جائز ہے،لیکن اس میں یہ شرط لگانا جائز نہیں ہوگا کہ اس سے تم نے ٹائر ہی صحیح کرنا ہے ،اس لئے زیادہ بہتر ہے کہ ڈرائیور قرض لے کر ٹائر مرمت یا تبدیل کردے ،پھر زکوٰۃ لیکر اس سے قرض ادا کرے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 676):

 (هي) لغة - مشددة وتخفف -: إعارة الشيء قاموس. وشرعا (تمليك المنافع مجانا)أفاد بالتمليك لزوم الإيجاب والقبول ولو فعلا وحكمها كونها أمانة.

(قوله: تمليك) فيه رد على الكرخي القائل: بأنها إباحة وليست بتمليك، ويشهد له انعقادها بلفظ التمليك، وجواز أن يعير ما لا يختلف بالمستعمل، والمباح له لا يبيح لغيره، وانعقادها بلفظ الإباحة؛ لأنه استعير للتمليك بحر (قوله: ولو فعلا) أي كالتعاطي في القهستاني: وهذا مبالغة على القبول، وأما الإيجاب فلا يصح به، وعليه يتفرع ما سيأتي قريبا من قول المولى: خذه واستخدمه. والظاهر أن هذا هو المراد بما نقل عن الهندية، وركنها الإيجاب من المعير، وأما القبول من المستعير، فليس بشرط عند أصحابنا الثلاثة اهـ أي القبول صريحا غير شرط بخلاف الإيجاب، ولهذا قال في التتارخانية: إن الإعارة لا تثبت بالسكوت اهـ وإلا لزم أن لا يكون أخذها قبولا.

  الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 218):

قال: "وللمعير أن يرجع في العارية متى شاء" لقوله عليه الصلاة والسلام: "المنحة مردودة والعارية مؤداة" ولأن المنافع تملك شيئا فشيئا على حسب حدوثها فالتمليك فيما لم يوجد لم يتصل به القبض فيصح الرجوع عنه.

قال: "والعارية أمانة إن هلكت من غير تعد لم يضمن" وقال الشافعي رحمه الله: يضمن لأنه قبض مال غيره لنفسه لا عن استحقاق فيضمنه، والإذن ثبت ضرورة الانتفاع فلا يظهر فيما وراءه، ولهذا كان واجب الرد وصار كالمقبوض على سوم الشراء. ولنا أن اللفظ لا ينبئ عن التزام الضمان؛ لأنه لتمليك المنافع بغير عوض أو لإباحتها، والقبض لم يقع تعديا لكونه مأذونا فيه، والإذن وإن ثبت لأجل الانتفاع فهو ما قبضه إلا للانتفاع فلم يقع تعديا، وإنما وجب الرد مؤنة كنفقة المستعار فإنها على المستعير لا لنقض القبض. والمقبوض على سوم الشراء مضمون بالعقد؛ لأن الأخذ في العقد له حكم العقد على ما عرف في موضعه.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 263)

وأما بيان حكم الملك والحق الثابت في المحل فنقول وبالله التوفيق حكم الملك ولاية التصرف للمالك في المملوك باختياره ليس لأحد ولاية الجبر عليه إلا لضرورة ولا لأحد ولاية المنع عنه وإن كان يتضرر به إلا إذا تعلق به حق الغير فيمنع عن التصرف من غير رضا صاحب الحق وغير المالك لا يكون له التصرف في ملكه من غير إذنه ورضاه إلا لضرورة.

عبدالعلی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

06/ صفر /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالعلی بن عبدالمتین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب