03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حصول حق کے لیے رشوت دینا
84539جائز و ناجائزامور کا بیانرشوت کا بیان

سوال

میں ایک سرکاری ادارے میں ملازم ہوں .جب  میں سرکار کے کام سےکسی دوسرے شہر سفر کرتا ہوں تو سرکار مجھے اس سفر کا ٹی اے ڈی اے(  TA DA) دیتی ہے ،جو کہ ایک بل کی صورت میں  ہوتا ہے ۔جب ہم  وہ بل اکاؤنٹ والوں کے پاس لے کر جاتے ہیں تو وہ اس بل پر رقم اشو کرتے ہیں ۔رقم جاری کرنے کے لیےوہ  ہم سے ۱۰ پرسنٹ رقم کا مطالبہ کرتے ہیں  ۔اگر انہیں یہ پیسے نہ دیے جائیں تو وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر بل واپس کر لیتے ہیں  ۔ ہم اور ہمارا ادارہ  ان کے سامنے مجبور ہیں۔کیا  اس صورت میں اپنے جائز پیسے لینے کے لیے ان کو رشوت دے سکتے ہیں ؟ اسی طرح گناہ صرف لینے والے کو ہوگا یا دونوں کو ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

رشوت لینے اور دینے والے دونوں پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے،لہذا جہاں تک ہو سکے رشوت سے بچنا چاہیے۔اگر کوئی جائز کام تمام تر قانونی تقاضوں کو پورا کرنے اور حق ثابت ہونے کے باجود  صرف رشوت نہ دینے کی وجہ سے نہ ہو رہا ہو ، اور حق کے وصولی کی رشوت کے علاوہ کوئی اور صورت نہ ہو، تو اس صورت میں رشوت دینے والے کو تو گناہ نہیں ہوگا ، البتہ رشوت لینے والا گناہ گار ہوگا۔

حوالہ جات

سنن أبي داود» (3/ 300 ت محيي الدين عبد الحميد):

حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا ابن أبي ذئب، عن الحارث بن عبد الرحمن، عن أبي سلمة، عن عبد الله بن عمرو، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌الراشي والمرتشي

الموسوعة الفقهية الكويتية (22/ 222):

«ويحرم طلب الرشوة، وبذلها، وقبولها، كما يحرم عمل الوسيط بين الراشي والمرتشي (1) .

غير أنه يجوز للإنسان - عند الجمهور - أن يدفع رشوة للحصول على حق، أو لدفع ظلم أو ضرر، ويكون الإثم على المرتشي دون الراشي

محمد سعد ذاكر

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

06/صفر /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد سعد ذاکر بن ذاکر حسین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب