03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹے اور بیٹیوں کے درمیان وراثت کی تقسیم
84585میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے والد صاحب 1978ء میں فوت ہوئے، جبکہ میری والدہ 2007ء میں فوت ہوئیں۔ ہم کل نو بہن بھائی ہیں، پانچ بھائی ( جن میں دو کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہے) اور چار بہنیں  تھیں، سب شادی شدہ  تھیں،  دو بہنیں وفات پاچکی ہیں، جن میں سے ایک کے ہاں کوئی اولا د نہیں تھیں ۔ بعد ازاں ان کےشوہر نے دوسری شادی کر لی۔ ہمیں ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں کہ وہ کہاں ہیں؟ زندہ بھی ہیں یا نہیں؟  دوسری فوت شدہ بہن کے دو بیٹے ، تین بیٹیاں اور شوہر حیات ہیں۔ میری والدہ کے نام ایک مکان تھا اور اس سے متصل دوسرا مکان میرے نانا نانی کا تھا،  چونکہ میری والدہ اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی،  اس کی وجہ سے نانا نانی کی وفات کے بعد وہ مکان والدہ کی وراثت میں آ گیا،  اب گو یا دومکانوں میں ہم پانچ بھائی اکٹھے رہ رہے تھے ۔ بڑے بھائی گورنمنٹ میں ملازم تھے،  ان کا کسی اور شہر میں ٹرانسفر ہوگیا، کچھ عرصے بعد وہ واپس لاہور آ گئے تو اپنا علیحدہ سے مکان بنا کر اس میں شفٹ ہو گئے۔ ہمارا گھر سنگل سٹوری پر مشتمل تھا، والدہ کی زندگی میں ہی بڑے دو بھائیوں نے مل کر گراؤنڈ فلور پر ایک کمرہ بنایا، گویا گراونڈ فلور پر اب دو کمرے ہو گئے، بعد ازاں میں نے اور چھوٹے بھائی نے مل کر گراونڈفلور کے تمام کمروں سمیت گراونڈ فلور اور فرسٹ فلور بنوایا۔ اس کے تین سال بعد والدہ کی وفات ہوگئی۔ والدہ کی وفات کے بعدمیرے چھوٹے بھائی نے دوسری منزل پر تین کمرے بنوائے،اس وقت ہم چار بھائی گھر کے مختلف پورشنز پر مقیم ہیں، بڑا بھائی ہم سے علیحدہ اپنے مکان میں رہتا ہے۔اب یہ وضاحت درکار ہے کہ اب چونکہ ہم نے گھر کی یہ وراثت تقسیم کرنی ہے، تو اس کی تقسیم کا کیا طریقہ کار ہوگا؟  کس وارث کو کتنا حصہ ملے گا؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ ایک بہن کا انتقال والدہ کی زندگی میں ہو چکا تھا، مگر ان کی کوئی اولاد نہیں تھی، دوسری بہن کا انتقال والدہ کی وفات کے بعد ہوا، ان کے بچے موجود ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں آپ کی جس بہن کا والدہ کی زندگی میں ہوا اس کاوالدہ کی وراثت میں کوئی حصہ نہیں، البتہ جس بہن کا انتقال والدہ کی وفات کے بعد انتقال ہوا ہے وہ وارث ہو گی اور  اس کا حصہ اس کے ورثاء کے درمیان ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گا۔ نیز اگر دونوں گھروں کو تقسیم کرنا مشکل ہو تو ان کو بیچ کر حاصل شدہ رقم کو آپس میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعض ورثاء دوسرے بعض ورثاء کا حصہ خرید لیں، اس صورت میں بعض ورثاء کو اسی مکان میں سے حصہ مل جائے گا اور بعض کو اپنے حصہ کی قیمت مل جائے گی۔  باقی تقسیم کا طریقہٴ کار یہ ہے کہ مرحومہ نےبوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا، چاندی، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے،ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز  وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس کو مرحومہ کے بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان اس طرح تقسیم کیا جائے کہ ہر بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگناہ حصہ ملے، لہذا  پیچھے ذکر کیے گئے تین حقوق ادا کرنے کے بعد باقی ترکہ کو تیرہ (13) حصوں میں برابر تقسيم كر كے مرحومہ کے ہر بیٹے کو چھ (2) حصے اورہربیٹی کوتين(1) حصے دیے  جائيں، تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیٹا

2

15.384%

2

بیٹا

2

15.384%

3

بیٹا

2

15.384%

4

بیٹا

2

15.384%

5

بیٹا

2

15.384%

6

بیٹی

1

7.692%

7

بیٹی

1

7.692%

8

بیٹی

1

7.692%

حوالہ جات

القرآن الكريم: [النساء: 12]

{وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ} فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ .

السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:

وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

10/ صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب