| 84586 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سوال یہ ہے کہ جن بھائیوں نے وراثتی مکان کی تعمیر میں کچھ خرچ نہیں کیا اور جن دو بھائیوں نے تعمیر میں اچھے خاصے پیسے خرچ کیے ہیں ان کو کس حساب سے حصہ ملے گا؟ اوربہنوں کو پرانے گھر کے حساب سے حصہ دیا جائے گایا گھر کی موجودہ پوزیشن کے حساب سے حصہ ملے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں جن بھائیوں نے مذکورہ وراثتی مکان پر تعمیری اخراجات کیے ہیں اصولی طور پر وہ تعمیر ان کی ملکیت ہے اور وہ اپنی تعمیر اکھاڑنے کا حق رکھتے ہیں، مگر چونکہ اس میں فریقین کا نقصان ہے اس لیے بہتر یہ ہے کہ باہمی رضامندی سے اس تعمیر کی قیمت لگا کر والدہ کے ترکہ سے پہلے وہ وصول کر لی جائے اوراس کے بعد مذکورہ دونوں مکان سمیت تمام ترکہ ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق آپس میں تقسیم کر لیں۔
جہاں تک بہنوں کے حصوں کا تعلق ہے تو ان کو والدہ کے اصل مکان کی قیمت میں سے ہی حصہ ملے گا، اسی طرح جس بھائی نے اس مکان کی تعمیر میں کوئی شرکت نہیں کی اس کو بھی اصل مکان میں سے ہی حصہ دیا جائے گا، اضافی تعمیر میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔
حوالہ جات
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (4/ 488) دار إحياء التراث العربي:
ومن عمر دار زوجته بماله أي بمال الزوج بإذنها أي بإذن الزوجة فالعمارة تكون لها أي للزوجة لأن الملك لها وقد صح أمرها بذلك والنفقة التي صرفها الزوج على العمارة دين له أي للزوج عليها أي على الزوجة لأنه غير متطوع فيرجع عليها لصحة الأمر فصار كالمأمور بقضاء الدين.
وإن عمّرها أي الدار لها أي للزوجة بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة لها أي للزوجة وهو أي الزوج في العمارة متبرع في الإنفاق فلا يكون له الرجوع عليها به وإن عمر لنفسه بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة له أي للزوج لأن الآلة التي بنى بها ملكه فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه فيبقى على ملكه فيكون غاصبا للعرصة وشاغلا ملك غيره بملكه فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك كما في التبيين لكن بقي صورة وهي أن يعمر لنفسه بإذنها ففي الفرائد ينبغي أن تكون العمارة في هذه الصورة له والعرصة لها ولا يؤمر بالتفريغ إن طلبته انتهى.
الفتاوى الهندية (2/ 301) دار الفكر، بيروت:
وحكمها وقوع الزيادة على الشركة بقدر الملك، ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه ويجوز بيع أحدهما نصيبه من شريكه في جميع الصور ومن غير شريكه بغير إذنه إلا في صورة الخلط والاختلاط، كذا في الكافي.
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 141) دار المعرفة، بيروت:
المستأجر إذا عمر في الدار المستأجرة عمارات بإذن الآجر يرجع بما أنفق وإن لم يشترط الرجوع صريحا.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
10/ صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


