03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میں تمہیں طلاق دیتا ہوں کہنے کا حکم
84537طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

ایک دن میں زیادہ غصے میں تھا کہ میں نے اپنی بیوی سے دو دفعہ کہا میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،پھر میں نے رجوع کر لیا ،  پھر کچھ عرصے کے بعد میں نے دوبارہ اپنی بیوی  سے کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، پھر رجوع کر لیا ،  اس طرح تیسری دفعہ پھر  غصے کی حالت میں میں نے بیوی سے کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، مذکورہ بالا طلاق کے جملے جو میں نے کہے ہے، یہ مجھے اچھی طرح یاد نہیں ہے، البتہ 80 فیصد مجھے ایسا یاد پڑتا ہے کہ میں نے یہ جملے کہے ہوں گے،  20 فیصد یاد نہیں،  البتہ طلاق کے الفاظ ضرور استعمال کیے ہیں ، اور میری اہلیہ کا کہنا ہے کہ مجھے یاد ہے کہ آپ نے یہی جملے کہے ہے، مندرجہ ذیل امور مطلوب ہے، کیا اس صورت میں طلاقیں واقع ہوں گی یا نہیں؟ اگر واقع ہوں گی تو کتنی ؟  میاں بیوی کا اس صورت میں دوبارہ نکاح بحال کرنے کی کوئی گنجائش ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق آپ نے دو الگ الگ موقعوں پر میں تمہیں طلاق دیتا ہوں کے الفاظ کے ساتھ طلاق دے کر دونوں مرتبہ رجوع کرلیا تھا ، اور اب تیسری مرتبہ آپ نے اپنی بیوی کو اِنہی الفاظ کے ساتھ طلاق دیدی ہے،  تو صورت مسئولہ میں شرعا آپ کی بیوی پر کل تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں ، اور نکاح ختم ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو گیا ہے ،اب رجوع یا نکاح جدید کا اختیار بھی باقی نہیں ہے ۔ہاں! اگر آپ کی بیوی عدت گزارنے کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کرے، پھر وہ اس سے ہم بستری کرنے کے بعد از خود  طلاق دے دے یا مرجائے  تو پھر وہ  اس دوسرے شوہر کی  عدت گزار کر آپ سے نکاح کرسکتی ہے۔

حوالہ جات

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230]، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة. (بدائع الصنائع 3/187(

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

9  ٖصفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب